Hame Inaam Nahi Chahiye - Article No. 1352

ہمیں انعام نہیں چاہیے۔۔تحریر:مختار احمد

کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے

بدھ اپریل

hame inaam nahi chahiye
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا- شاکر صاحب، ان کی بیوی نسرین اور ان کے تینوں بچے بہت اخلاق والے اور دوسروں کی ہر بات کا خیال رکھنے والے لوگ تھے، اس لیے تمام رشتے دار ان سے بے حد محبّت کرتے تھے- اس پروگرام کے بننے سے بچوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ انھیں نانا نانی، دادا دادی اور کزنوں سے ملے کافی عرصہ بیت گیا تھا- انہوں نے سفر کی تیاریاں شروع کردی تھیں- اس مقصد کے لیے شاکر صاحب نے نے بھی دفتر سے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی تھی- گاڑی کی صفائی ستھرائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی- تھوڑی ہی دیر میں گاڑی کی شکل بدل گئی اور وہ چمچمانے لگی- اس کی نکھری نکھری شکل دیکھ کر شاکر صاحب خوشدلی سے مسکرائے اور بولے "بھئی کوئی تعریف کرے یا نہ کرے، ہم تو کریں گے- واہ گاڑی کی کیا شکل نکل آئی ہے"- پھر کچھ سوچ کر انہوں نے کہا "بس ایک کام رہ گیا ہے- آج آفس سے آتے ہوئے ایک ٹائر پنکچر ہوگیا تھا، میں نے ڈگی میں رکھا فالتو ٹائر گاڑی میں لگا دیا تھا- شام کو خراب ٹائر میں پنکچر لگوالیں گے"- "ابّو- پنکچر لگوانے میں بھی چلوں گا"- ان کے چھوٹے بیٹے فہد نے کہا- شاکر صاحب نے ابھی جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ان کی بیگم نے کھڑکی میں سے سر نکال کر اطلاع دی کہ کھانا تیار ہے- سب ہاتھ منہ دھو کر کھانے کی ٹیبل پر پہنچ گئے- شاکر صاحب اس مشقت سے کافی تھک گئے تھے اس کے باوجود انہوں نے سامان کو پیک کروانے میں نسرین کی مدد کی- نسرین نے اپنی اور شاکر صاحب کی ضروری چیزیں ایک بڑے بیگ میں بھر لی تھیں- دوسرے بیگ میں اس نے رشتے داروں کو دینے والی مختلف اشیا رکھ لیں-ادھر بچے اپنی تیاری میں لگے ہوئے تھے- کون کون سے کپڑے لے جانے ہیں اور کون کون سے جوتے- انھیں جو جیب خرچ ملا کرتا تھا وہ اس میں سے کچھ پیسے بچا بھی لیتے تھے اور ان کو الگ تھلگ ایک جگہ رکھتے تھے- انہوں نے یہ سوچ کر ان پیسوں کو بھی اپنے اپنے بیگوں میں رکھ لیا کہ وہاں گھومنے پھرنے کے دوران کام آئیں گے-سارے دن کی مشقت سے شاکر صاحب کافی تھک گئے تھے اس لیے انہوں نے رات کا کھانا بھی جلد کھا لیا اور سونے کے لیے لیٹ گئے- اگلی صبح سب منہ اندھیرے ہی اٹھ گئے تھے- ادھر سورج نکلا اور ادھر ان کی روانگی عمل میں آئی- نسرین نے پاس پڑوس میں رہنے والوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کے لیے رشتے داروں سے ملنے جا رہے ہیں، اس لیے وہ ان کے گھر کا خیال رکھیں-گرمیاں شروع ہو گئی تھیں مگر موسم خوشگوار تھا کیوں کہ آسمان پر کالے کالے بادلوں کا ڈیرہ تھا- بچے تو بادل دیکھ کر بہت خوش ہوئے مگر شاکر صاحب کو تشویش ہوگئی- انھیں یہ خیال پریشان کرنے لگا کہ اگر راستے میں بارش ہوگئی تو مصیبت آجائے گی- بچوں کا ساتھ ہے اگر انجن میں پانی چلا گیا اور گاڑی خراب ہو گئی تو کیا ہوگا-ان کے چہرے پر چھائی ہوئی پریشانی دیکھ کر نسرین نے پوچھا "کیا بات ہے- آپ یکایک پریشان نظر آنے لگے ہیں- خیریت تو ہے؟"-شاکر صاحب فکرمندی سے بولے "خیریت تو ہے بس بادلوں کو دیکھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ بارش شروع نہ ہوجائے- دور کا معاملہ ہے- گاڑی خراب ہوگئی تو ہم بچوں کے ساتھ پریشان ہوجائیں گے"- "اللہ نے چاہا تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا"- نسرین نے ان کو تسلی دی- "پھر سفر بھی کونسا زیادہ لمبا ہے- تین چار گھنٹے میں ہم لوگ وہاں پہنچ جائیں گے- ویسے بھی نئی سڑکوں کے بن جانے سے بڑی آسانی ہوگئی ہے- پہلے دیکھا نہیں تھا سڑکیں کتنی خراب تھیں"- شاکر صاحب کچھ نہ بولے- سب لوگ گاڑی میں بیٹھ گئے تو انہوں نے گاڑی چلا دی-عاقب اور فہد اپنے موبائلوں پر کارٹون دیکھنے لگے- عاقب اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا- فہد، ہانیہ اور نسرین پچھلی سیٹ پر تھے- ہانیہ نسرین کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی- صبح جلدی اٹھنے کی وجہ سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ جلد ہی سو گئی- سفر بہت اچھے طریقے سے جاری تھا- انہوں نے تقریباً سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرلیا تھا کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا- نسرین کا دل دھک سے رہ گیا- وہ بیاختیار درود شریف پڑھنے لگی- ہانیہ کو اس نے خود سے چمٹا لیا تھا- عاقب اور فہد بالکل بھی ہراساں نہیں ہوئے تھے- وہ سمجھ گئے تھے کہ گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے- شاکر صاحب نے بڑی مہارت سے تیز رفتار گاڑی کو قابو میں کیا تھا کیوں کہ ٹائر کے پھٹتے ہی وہ ادھر ادھر ڈولنے لگی تھی- انہوں نے سڑک پر نظر جمائے جمائے تیز آواز میں کہا "بیگم- گھبرانا نہیں- گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے- پھر انہوں نے گاڑی کو سڑک کے کنارے لگا کر کھڑا کردیا اور خود گاڑی سے اترگئے- عاقب اور فہد بھی گاڑی سے باہر نکل آئے تھے- شاکر صاحب فالتو پہیہ نکالنے کے لیے ڈگی کی جانب بڑھے ہی تھے کہ ان کا دماغ بھک سے اڑ گیا- انھیں یاد آگیا کہ انہوں نے کل شام ٹائر میں پنکچر تو لگوایا ہی نہیں تھا- انھیں ایک چکر سا آیا اور وہ گاڑی کی چھت سے سر ٹکا کر کھڑے ہوگئے- ان کی یہ حالت نسرین نے دیکھی تو وہ ہلکی سی چیخ مار کر جلدی سے نیچے اتری- "کیا ہوا ہے آپ کو- پانی دوں"- شاکر صاحب نے سر اٹھا کر پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا- "میں تو عاقب اور فہد سے بھی گیا گزرا ہوں- تم دونوں کو سمجھاتی رہتی ہو کہ ابھی کا کام بعد پر مت چھوڑا کرو- تمہاری نصیحت پر عمل کر کے وہ تو ذمہ دار بچے بن گئے ہیں- میں ویسے کا ویسا ہی رہا"-"کچھ بتائیں گے بھی یا پہیلی ہی بجھواتے رہیں گے- صاف صاف بتائیے نا کیا ہوا ہے"- نسرین کی سمجھ میں ان کی باتیں نہیں آ رہی تھیں- "کیا بتاوٴں بیگم- کل دفتر سے آتے ہوئے ایک ٹائر پنکچر ہوگیا تھا- میں نے سوچا کہ شام کو پنکچر لگوالوں گا، گھر کے نُکر پر ہی تو دکان ہے- مگر پھر بھول گیا- میری ذرا سی غفلت نے کتنی پریشانی کھڑی کر دی ہے- ہم اتنی دور نکل آئے ہیں کہ تم لوگوں کو واپس بھی نہیں بھیج سکتا- بادل سر پر کھڑے ہیں- پھر یہ علاقہ بھی سنسان ہے- سنا ہے کہ یہاں مسافر بسوں کو روک کر لوٹ مار بھی بہت ہوتی ہے- میں بھی کتنا غیر ذمہ دار ہوں، میری غیر ذمہ داری نے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے- بچے سنیں گے تو کیا کہیں سوچیں گے کہ ان کا باپ ایسا ہے"- اسی وقت عاقب اور فہد گاڑی کے پیچھے سے نکل آئے- عاقب بولا "ابّو- ابّو- ہم آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتے ہیں- آپ دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے"- اتنے سنجیدہ معاملے میں عاقب کی یہ بے وجہ مداخلت نسرین کو بہت بری لگی تھی- اس نے غصے سے کہا "عاقب کچھ شرم کرو- ہم ایک مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں اور تم اپنی باتوں میں لگے ہو- جانتے ہو ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے؟"-"جی امی- ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے"- عاقب نے سر جھکا کر بڑے ادب سے کہا-"پھر بھی تمہیں کھیل سوجھ رہا ہے"- نسرین جو سچ مچ پریشان تھی تلملا کر بولی- "امی- آپ غلط سمجھی ہیں- ہم تو ابّو کو ایک ایسی چیز دکھانا چاہتے تھے کہ اسے دیکھ کر ابّو خوشی سے اچھل پڑتے"- عاقب پھر بولا- فہد کھڑا مسکرا رہا تھے-نسرین نے فہد کو مسکراتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لیے اور بھی جل گئی "تم دونوں ہی بہت بدمعاش ہو گئے ہو- تم لوگ ابھی اتنے اتنے سے ہو، امی ابّو پریشان ہیں اور تم لوگوں کو ہنسی آ رہی ہے "- نسرین کی یہ بات سن کر فہد جو پہلے صرف مسکرا رہا تھا اب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا- اس حرکت پر تو شاکر صاحب کو بھی غصہ آگیا- فہد یہ کیا حرکت ہے- پاگل ہوگئے ہو کیا؟"- انہوں نے طیش میں آکر چلا کر کہا-شاکر صاحب کے چلانے سے فہد سہم گیا تھا اور خاموشی سے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا- شاکر صاحب کو احساس ہوا کہ ان سے زیادتی ہوئی ہے، انھیں فہد پر چلانا نہیں چاہئے تھا- انہوں نے اس سے کہا "فہد- بیٹا تم نہیں جانتے کہ ہم اس قدر پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں- ہم اس ویرانے میں کھڑے ہیں اور ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے- اپنی غفلت کی وجہ سے میں خراب ٹائر میں پنکچر بھی نہیں لگوا سکا"- "یہ ہی تو ہم آپ کو بتانا چاہ رہے ہیں کہ رات اس ٹائر میں ہم نے پنکچر لگوا لیا تھا"- عاقب آگے بڑھ کر جلدی سے بولا-"کیا کہہ رہے ہو؟"- شاکر صاحب نے اسے بییقینی سے دیکھتے ہوئے کہا-"جی ابّو ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں- آپ رات کو جلدی سو گئے تھے حالانکہ آپ نے کہا تھا کہ شام کو ٹائر میں پنکچر لگوانے جانا ہے- میں نے اور فہد نے چپکے سے ڈگی کھولی اور ٹائر نکال کر اسے ہاتھوں سے چلاتے ہوئے کونے والی دکان پر لے گئے اور اس میں پنکچر لگوالیا- آپ چونکہ سو رہے تھے اس لیے ہم نے سوچا کہ یہ بات آپ کو صبح بتا دیں گے مگر صبح ہم بھول گئے"- عاقب کی یہ بات سن کر شاکر صاحب پہلے تو مسکرائے، پھر ہنسے اور اس کے بعد انہوں اتنے زور کا قہقہہ لگایا کہ گاڑی میں سوئی ہوئی ہانیہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی اور کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی- نسرین خود ہکا بکا کھڑی تھی- چند لمحے تک تو وہ سوچتی ہی رہی کہ ہوا کیا ہے، پھر جب اس کی سمجھ میں ساری بات آگئی تو اس نے ایک ہاتھ عاقب کے گلے میں اور دوسرا فہد کے گلے میں ڈالا اور بڑے پیار سے بولی " شکریہ بچو- تم نے اپنے ابّو اور امی کو ایک بہت بڑی پریشانی سے نجات دلائی ہے- گھر چلو تمہارا انعام پکّا ہے"-عاقب نے کہا "سوری امی- ہمیں انعام نہیں چاہئے- میرے اور فہد کے اس کام سے آپ کو اور ابّو کو جو خوشی ہوئی ہے وہ ہی ہمارا سب سے بڑا اور قیمتی انعام ہے"- اس کی بات سن کر شاکر صاحب اپنے دل میں ایک عجیب سا فخر محسوس کر رہے تھے- انھیں اس بات پر خوشی تھی کہ گھر اور اسکول کی اچھی تربیت نے ان کے بچوں کو کتنا اچھا اور ذمہ دار بنا دیا ہے- بچے جب کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو کوئی ان کے ماں باپ کے دل سے پوچھے کہ انھیں کتنی خوشی ہوتی ہے اور ان کے دل سے اپنے بچوں کے لیے کتنی دعائیں نکلتی ہیں- تھوڑی ہی دیر میں ٹائر تبدیل ہوگیا تھا اور وہ سب خوش خوش دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے-

Your Thoughts and Comments