Imdaad E Bahmi - Article No. 2128

امدادِ باہمی - تحریر نمبر 2128
اگر آپ میری مدد کرنے میں پہل نہ کرتے تو مجھے بھی آپ کی مدد کرنے کا خیال نہ آتا
جمعرات 2 دسمبر 2021
رشنا جما الدین،کراچی
بھالو کو بہت بھوک لگی تھی۔لمبے درختوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے سر اوپر اُٹھایا تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔وہاں شہد کا بڑا سا چھتا موجود تھا۔بھالو درخت کے گرد گھومنے لگا کہ کس طرح اوپر چڑھے درخت بہت لمبا تھا۔ہمت کرکے اس نے درخت پر چڑھنا شروع کیا،لیکن دھڑام سے نیچے گرا۔دوبارہ اُٹھا پھر کوشش کی پر ناکام رہا اور حسرت سے شہد کو دیکھنے لگا۔
اچانک اس کے سر پر ایک اخروٹ گرا اس نے اخروٹ دیکھا پھر اوپر نظر اُٹھائی تو ایک گلہری درخت سے نیچے آ رہی تھی بھالو کو دیکھ کر رُک گئی اور بولی:”بھالو بھائی!مجھے بہت بھوک لگی ہے۔بہت دیر سے کوشش کر رہی ہوں اخروٹ نہیں ٹوٹ رہا۔آپ مجھے اخروٹ توڑ کر دے دیں۔“
بھالو چڑ کر بولا:”مجھے بھی تو بھوک لگی ہے اتنی دیر سے کوشش کر رہا ہوں،شہد تک نہیں پہنچ پا رہا ہوں۔
تم مجھے شہد لا دو،میں تمہیں اخروٹ توڑ کے دے دوں گا۔“
گلہری بولی:”بھالو بھائی!میں آپ کو کیسے شہد لا کر دوں میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں درخت سے نیچے لانے تک بہہ جائے گا۔“
بھالو نے کہا:”ہاں تم ٹھیک کہتی ہوں میری نہ سہی تمہارے بھوک مٹ جائے۔“پھر اس نے اخروٹ توڑ کر دیا۔
گلہری جلدی جلدی اخروٹ کھانے لگی۔جیسے ہی اخروٹ ختم ہوا اس نے بھالو سے کہا:”ایک منٹ آپ یہاں رکیے۔وہ تیزی سے اوپر گئی اور اخروٹ کے خالی خول میں شہد بھر بھر کے لانے لگی۔بھالو مزے سے شہد کھاتا رہا۔جب خوب سیر ہو گیا تو اس نے گلہری کا شکریہ ادا کیا۔
گلہری نے کہا:”اگر آپ میری مدد کرنے میں پہل نہ کرتے تو مجھے بھی آپ کی مدد کرنے کا خیال نہ آتا۔“
بھالو کو بہت بھوک لگی تھی۔لمبے درختوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے سر اوپر اُٹھایا تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔وہاں شہد کا بڑا سا چھتا موجود تھا۔بھالو درخت کے گرد گھومنے لگا کہ کس طرح اوپر چڑھے درخت بہت لمبا تھا۔ہمت کرکے اس نے درخت پر چڑھنا شروع کیا،لیکن دھڑام سے نیچے گرا۔دوبارہ اُٹھا پھر کوشش کی پر ناکام رہا اور حسرت سے شہد کو دیکھنے لگا۔
اچانک اس کے سر پر ایک اخروٹ گرا اس نے اخروٹ دیکھا پھر اوپر نظر اُٹھائی تو ایک گلہری درخت سے نیچے آ رہی تھی بھالو کو دیکھ کر رُک گئی اور بولی:”بھالو بھائی!مجھے بہت بھوک لگی ہے۔بہت دیر سے کوشش کر رہی ہوں اخروٹ نہیں ٹوٹ رہا۔آپ مجھے اخروٹ توڑ کر دے دیں۔“
بھالو چڑ کر بولا:”مجھے بھی تو بھوک لگی ہے اتنی دیر سے کوشش کر رہا ہوں،شہد تک نہیں پہنچ پا رہا ہوں۔
(جاری ہے)
گلہری بولی:”بھالو بھائی!میں آپ کو کیسے شہد لا کر دوں میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں درخت سے نیچے لانے تک بہہ جائے گا۔“
بھالو نے کہا:”ہاں تم ٹھیک کہتی ہوں میری نہ سہی تمہارے بھوک مٹ جائے۔“پھر اس نے اخروٹ توڑ کر دیا۔
گلہری جلدی جلدی اخروٹ کھانے لگی۔جیسے ہی اخروٹ ختم ہوا اس نے بھالو سے کہا:”ایک منٹ آپ یہاں رکیے۔وہ تیزی سے اوپر گئی اور اخروٹ کے خالی خول میں شہد بھر بھر کے لانے لگی۔بھالو مزے سے شہد کھاتا رہا۔جب خوب سیر ہو گیا تو اس نے گلہری کا شکریہ ادا کیا۔
گلہری نے کہا:”اگر آپ میری مدد کرنے میں پہل نہ کرتے تو مجھے بھی آپ کی مدد کرنے کا خیال نہ آتا۔“
Browse More Moral Stories
کوالا
Kuala
بھائی کا ایثار
Bhai Ka Esaar
عید مبارک
Eid Mubarak
دادا اور سلام
Daad Aur Salam
شرارتی بندر
Shararti Bandar
عقلمند خرگوش
Aqalmand Rabbit
Urdu Jokes
دو آدمی
Do admi
بچہ ماں سے
Bachaa Maa se
اپنا گھر
apna ghar
اداکار
adakaar
دانت کا درد
dant ka dard
صرف ایک گولی
Sirf Aik Goli
Urdu Paheliyan
ایک استاد ایسا کہلائے
ek ustad aisa kehlaye
سر پہ نور کے تاج سجائے
sar pe noor ke taaj sajaye
اپنے منہ کو جب وہ کھولے
apne munh ko jab wo khole
سب نے مل کر حلقہ باندھا
sab ne mil kar halqa bandha
ایسا بنگلہ کوئی دکھائے
esa bangla koi dikhaye
بے شک پاؤں کے نیچے آئیں
beshak paon ke neeche aaye