Eid Ki Haqeeqi Khushi

Eid Ki Haqeeqi Khushi

عید کی حقیقی خوشی

ساتھیو ہمارے آس پاس یقینا کئی ایسے بچے ہوں گے جو ہماری امداد کے منتظر ہیں ہمیں چاہئے کہ ان سب کو اپنی خوشیوں میں شریک کر لیں تاکہ عید کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوز ہوسکیں

شاہ بہر ام انصاری :
زینب ایک بڑے سے بنگلے کے مالک وقاص کی چہیتی بیٹی تھی سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے اسے ماں باپ سے زیادہ پیار ملا وہ ضدکی پکی اور اپنی بات منوانے کی عادی ہوگئی تھی ۔ عید کی آمد میں صرف چند روز باقی تھے اسی وجہ سے زینب نے خرایدی شروع کردی ۔
زینب نے اپنی سہیلیوں سے ایک شرط لگارکھی تھی وہ یہ کہ اس عید پر کون سب سے زیادہ خوبصورت اور اچھی نظرآئے گی ۔ زینب اپنی پھپھو کے ساتھ بازار گئی اور یاک مہنگی فراک خرید لائی ۔ دوسرے دن پھر بازار گئی اور بچوں والی جاذب نظر ساڑھی لے لی ۔
اسی طرح یہ سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا اور زینب نے اپنی پوری الماری نئے کپڑوں سے بھر لی ۔ اس کے ابوکاروباری معاملات میں الجھے رہتے جبکہ امی آرام طلب خاتون تھیں ۔ اس سے بازپرس کرنے والا کوئی تھا نہیں اسی لیے زینب نے حد سے زیادہ شاپنگ کر لی اس کی پوری کوشش تھی کہ شرط صرف وہی جیتے اور اپنی سہیلیوں پر رعب جمائے ۔

(جاری ہے)


عید آنے میں تین چار دن رہ گئے اور اس کی بھی بس ہوگئی ۔زینب کے بنگلے میں ایک پرانی ملازمہ کام کرتی تھی ۔ اس کی ایک بیٹی تھی جو زینب کی عمر کی تھی ۔ اس کا نام اقصیٰ تھا ۔ اس کی ماں نے اسے ایک سرکاری سکول میں داخل کروایا ہوا تھا کہ وہ کچھ پڑھ لکھ جائے ۔
دونوں ماں بیٹی کا اس بھری دنیا میں کوئی نہیں تھا اور وہ زینب کے بنگلے کے پچھلے حصے میں تعمیر کردہ چھوٹے سے کوارٹر میں رہتی تھیں ۔ اس کی ماں کسمپرسی کی حالت میں زینب کے گھر کی جھاڑپونچھ کیا کرتی تھی ۔ سکول سے واپسی کے بعد اقصیٰ بھی صفائی میں اس کی مدد کر دیتی
روزہ افطار ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا اور زینب کو روزہ لگ رہا تھا ۔
وہ ٹہلتے ہوئے اپنی ملازمہ کے کوارٹر کے پاس سے گزری کوارٹر میں اقصیٰ اپنی ماں سے نئے جوتوں اور کپڑوں کی فرمائش کر رہی تھی اس کی ماں اسے سمجھا رہی تھی کہ ہم غریب لوگ ہیں ہماری قسمت میں نئے کپڑے اور جوتے کہاں ؟ دو وقت کی روٹی نصیب ہوجائے تو ہمارے لئے یہی عید ہے ۔
اقصیٰ یہ سن کر رونے لگی توماں نے اسے جھوٹی تسلی دلادی کہ وہ کچھ کرے گی ۔ زینب کو یہ سب دیکھ کر بہت دکھ ہوا افطاری کے بعد زینب نے اپنے لئے خریدے گئے کپڑوں اور جوتوں میں سے ایک ایک جوڑا نکالا اور اقصیٰ کی ماں کو بلا کر بولی ‘ماں جی یہ رکھ لیں میری طرف سے آپ کی بیٹی کے لئے عید کا تحفہ ہے اور اقصیٰ کو مت بتایئے گا میں نے دیا ہے ۔
اس کی ماں تشکر بھرے انداز میں اس کا ماتھا چوم لیا ۔ عید والے دن زینب کی سہیلیاں اسے ملنے آئیں تو اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئیں کیونکہ وہ ایک سادہ سا لباس زینب تن کیے ہوئے تھی سہیلیوں کے پوچھنے پر اس نے انہیں سارا واقعہ سنا دیا ۔
اس کی تمام سہیلیوں نے اس کے جذبے کو سراہا اور اسے شرط کی فاتح قرار دے دیا ۔ ساتھیو ہمارے آس پاس یقینا کئی ایسے بچے ہوں گے جو ہماری امداد کے منتظر ہیں ہمیں چاہئے کہ ان سب کو اپنی خوشیوں میں شریک کر لیں تاکہ عید کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوز ہوسکیں ۔

Your Thoughts and Comments