Jaisa kro gay

Jaisa Kro Gay

جیسا کرو گے

جب دل میں آئے اٹھا کر فون کر دیتے ہیں پتا نہیں کون ہے؟اس نے برا سامنہ بناتے اسلام علیکم اسد میں احمدبول رہا ہوں۔“کیابات ہے احمد اس وقت فون کس لئے کیا ہے؟کوئی خاص وجہ اسد نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔ارے اسد تم تو ناراض ہورہے ہو وہ دراصل مجھے تمہارے ریاضی کے نوٹس چاہیں اگر تمہاری اجازت ہو تو کیوں

فاریہ صادق
اسد کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی کیا مصیبت ہے جب دل میں آئے اٹھا کر فون کر دیتے ہیں پتا نہیں کون ہے؟اس نے برا سامنہ بناتے اسلام علیکم اسد میں احمدبول رہا ہوں۔“کیابات ہے احمد اس وقت فون کس لئے کیا ہے؟کوئی خاص وجہ اسد نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔

ارے اسد تم تو ناراض ہورہے ہو وہ دراصل مجھے تمہارے ریاضی کے نوٹس چاہیں اگر تمہاری اجازت ہو تو کیوں؟تمہارے نوٹس کہا ں ہے؟اسد نے حیران ہو کر پوچھا وہ دراصل اپنی جماعت میں جو بچہ علی پڑھتا ہے نا اس نے مجھ سے مانگ لئے تھے میں نے سوچا کہ تمہارے پاس بھی تو وہ نوٹس تھے نا احمد نے جواب دیتے ہوئے کہا ہاں تھے تو سہی مگر پتا نہیں کہاں رکھے ہوئے ہیں شاید کام کرنے والی ماسی نے کباڑ میں پھینک دئیے ہوں اسد نے کہا اچھا چلو کوئی بات نہیں میں کسی اور سے لے لوں گا خدا حافظ!“احمد نے بغیر کسی غصے کے کہا خدا حافظ اسد نے غصے سے فون جھٹک دیا اگرچہ اسد کے پاس تو وہ تمام نوٹس موجود تھے مگر پھر بھی اس نے احمد سے جھوٹ بولا وہ دونوں دوست تھے مگر اسد نے تو احمد کو بظاہر دوست سمجھا ہوا تھا مگر حقیقت میں وہ احمد کو اپنا دشمن سمجھنے لگا تھااسد سارا دن گیم کھیلنے اورکھیل کود میں گزار دیتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ جب وہ نہیں پڑھتا تو احمد کیوں پڑھے جبکہ احمد کلاس کا سب سے ذہین ترین اور دوسروں کی مدد کرنے والا ایک اچھا طالب علم تھا اسد خود تو بالکل بھی نہیں پڑھتا تھا مگر اسے بس یہ فکر کھائی جاتی تھی کہ احمد کیوں پڑھتا ہے احمد اپنا کام سب سے پہلے مکمل کرتا اور پھر کھیلتا اور اسد کو بھی پڑھائی پر توجہ دینے کی تلقین کرتا تھا مگر اسد ہاں ہوں کرکے بات ٹال دیتا تھا اور احمد کو بھی کھیل کی دعوت دیتا تھا اس دن بھی جب احمد نے اسد سے نوٹس مانگے تو اسد نے یہ سوچ کر کہ میں نے تو تیاری نہیں کی احمد تیاری کرکے نمبر لے جائے گا اس لئے اس نے احمد کو جھوٹ بول دیا اگلے دن جب وہ کلاس میں پہنچا تو اسد نے دیکھ کہ احمد نے ریاضی کے تمام سوال حل کرلئے ہیں جبکہ اس کے پاس تو نوٹس بھی نہیں تھے اسد کو احمد کے سارے سوال دیکھ کر بہت غصہ آیا اس نے اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے بظاہر خوش ہوکر احمد سے پوچھا احمد تم نے یہ سوال کس طرح کئے احمد نے کہا اس نے ایک دوست سے نوٹس لے کر سوال حل کئے ہیں جب سکول میں ٹیچر نے سب کا کام چیک کیا تو اسد کا کام نہ دیکھ کر ٹیچر نے سب کے سامنے اسد کو ڈانٹا اور اسے احمد کی مثال دیتے ہوئے پڑھنے کی تلقین کی اسد جل بھن کر رہ گیا اس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ احمد کی نوٹ بک اٹھا کر گھر لے جائے تاکہ احمد کام کرہی نہ سکے چنانچہ جب کینٹین سے چیز لینے گیا تو اسد نے اس کے بیگ سے نوٹس بک اٹھالی۔

(جاری ہے)


جب احمد گھر پہنچا اور اس نے سکول کا کام کرنے کے لیے بیگ کھولا اور اپنی نوٹ بک نہ پائی تو بہت پریشان ہوا پریشانی کی وجہ سے وہ رونے لگا کہ آخر کس نے اس کے ساتھ یہ شرارت کی ہے دوسری طرف اسد نے احمد کی نوٹ بک گھر جاتے ہوئے راستے میں گرادی کہ کوئی بچہ اٹھا کر کھیل لے گا اتفاق سے احمد کے ابو کا تھوڑی دیر بعد وہاں سے گزر ہوا وہ نماز پڑھ کر آرہے تھے تو انہوں نے زمین پر پڑی نوٹ بک یہ سمجھ کر کہ شاید اس میں اللہ کا نام لکھا ہوا اٹھالی جب انہوں نے نام پڑھا تو انہی کے بیٹے کا نام تھا انہو ںنے گھر پہنچ کر احمد کو پریشان پایا تو وجہ پوچھی احمد نے پریشانی کی وجہ اپنے والد صاحب کو بتادی والد صاحب مسکرائے اور کہا بیٹا یہ رہی تمہاری نوٹ بک۔
بابا یہ آپ کو کہاں سے ملی؟احمد کے ابو نے اسے ساری بات بتائی اور اسے یقین دلایا کہ شایداس کے بیگ سے راستے میں آتے وقت گرگئی ہو خیر احمد نے بھی یہی سمجھا اور اپنا سارا کام مکمل کرلیا۔
اگلے دن اسد بہت خوش تھا کہ آج تو احمد نے بھی کام نہیں کیا ہوگا آج احمد بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوا مگر جب ٹیچر نے کام چیک کیا تو سب نے کام کیا ہوا تھا سوائے اسد کے اس کو بہت حیرانی ہوئی کہ احمد نے کام کس طرح کیا اس نے احمد سے پوچھااحمد تم نے یہ کام کب کیا تھا احمد نے باتوں باتوں میں سارا واقعہ سچ سچ اسدکو بتادیا اسد کو اپنے اوپر بہت غصہ آیا اس نے وہ نوٹ بک کیوں پھینکی تھی کچھ ہی دنوں بعد امتحانات ہونے والے تھے احمد کے امتحانات کی مکمل تیاری تھی جبکہ اسد کو کچھ بھی نہ آتا تھا امتحانات سے کچھ دن قبل رول نمبر سلپ آگئی اسد نے سوچا کہ کیوں نہ احمد کی رول نمبر ہی اٹھالی جائے جس سے نہ تو وہ پیپر دے گا اور نہ ہی اچھے نمبر لے پائے گا چنانچہ اس نے احمد کی رول نمبر سلپ چھپالی اور گھر جاکر چپکے سے جلادی احمد کی رول نمبر سلپ جلا کر وہ بہت خوش ہوا امتحان میں ابھی دو دن باقی تھے احمد کو اچانک اپنی رول نمبر سلپ کا خیال آیا اس نے اپنی رول نمبر سلپ ہر جگہ دیکھ لی مگر وہ نہ ملی اس نے اپنے والد صاحب کو بتایا کہ اس کی سلپ گم ہوگئی والد صاحب بھی اس پر خفا ہوئے کہ احتیاط سے سنبھال کرکیوں نہ رکھی اب نتیجہ بھگتو جبکہ اس کے والد بیٹے کا مستقبل خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے اس لیے امتحان سے ایک دن پہلے نئی رول نمبر نکلوادی اور احمد نے امتحان دے دیے،
اسد نے احمد کی رول نمبر سلپ تو جلادی تھیں مگر وہ اپنی سلپ کو بھول گیا تھا اس نے اپنی یونیفارم میں رکھی تھی جب کام کرنے والی ماسی نے اس کا یونیفارم دھوئی تو اس سلپ کو بے کارسا کاغذ سمجھ کر اسے کوڑے میں پھینک دیا جو اگلے دن صفائی والا لے گیا جب اس نے احمد کا مستقبل تباہ کرنے کا سوچا تو اس نے اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا اس کو اپنے کئے کی سزا مل چکی تھی۔

Your Thoughts and Comments