Khushamad Buri Bala Hai

Khushamad Buri Bala Hai

خوشامد بُری بلا ہے

ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔

ساجد کمبوہ:
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔
لومڑی اور بھڑیا بچپن سے دوست تھے،جب ملتے خوب باتیں ہوتیں۔ایک دن سرراہ اُن کی ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ۔بی لومڑی اب جنگل کا شکار کم ہورہا ہے،حضرت انسان نے شکار کر کر کے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے،اب مجھے دیکھو بھوکا ہوں بھیڑ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔
اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں کم ہوگئی ہیں،کھانے کو ترس گیا ہوں کہیں بھی شکار․․․․․․
کیا مطلب؟شکار نہیں ملتا․․․․․․اگر عقل ہوتو شکار بہت ہے․․․․․
بی لومڑی․․․․․اب جانور بہت ہوشیار ہوگئے ہیں،اتنا ڈرتے ہیں کہ انسان کو دیکھ کر چھپتے پھرتے ہیں،ہمیں دیکھ کر ادھر اُدھر ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

اب توٹی وی کیبل نے اتنا ہوشیار کردیا ہے کہ فوراََ ہی مس کال کرکے ہوشیار کردیتے ہیں ،اب تو ٹویٹر اور وائی فائی اور فیس بک بھی جانوروں کی دسترس میں ہیں۔
اچھا آؤ ٹرائی کرتی ہوں،لومڑی نے بھیریے کو ساتھ لیا اور ندی کی طرف چل پڑی وہاں دیکھا کہ مرغابیاں اور دوسرے جانور پانی میں تیر رہے تھے،اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔
لومڑی نے بھیڑیے کو جھاڑیوں میں چھپا دیا اور مرغابیوں کی طرف بڑھ گئی۔لومڑی نے مسکراتے ہوئے مرغابی سے کہا․․․․․کیسی ہو میری دوست؟
اچھی ہوں بی لومڑی آج خیر ہے۔تمہاری چالاکی کے بڑے قصے سن رکھے ہیں آج تمہارا دوست بھیڑیا نظر نہیں آرہا؟وہ جھاڑی میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مان نہیں سکتا․․․․․لومڑی نے مکاری سے کہا۔

وہ کہہ رہا ہے میں مان نہیں سکتا․․․․․وہ کیا کہہ رہا ہے؟مرغابی نے حیرانی سے پوچھا،چھوڑو میری فرینڈ مرغابی․․․․وہ بھیڑیا ہے،اُسکا کیا کہنا․․․․․بی لومڑی نے کہا پھر بھی وہ کیوں جھاڑی میں چھپا بیٹھا ہے؟مرغابی نے حیرت سے پوچھا۔

اصل میں وہ کہہ رہا ہے کہ مرغابی کے پر بڑے سخت ہوتے ہیں،اگر اس کا تکیہ بنایا جائے تو کوئی اُس پر سو نہیں سکتا مگر میں کہتی ہوں تمہارے پر نرم ہوتے ہیں،خوبصورت ہوتے ہیں ان کا تکیہ بڑا نرم ہوتا ہے۔
تمہارا دوست بھیڑیا غلط کہتا ہے میرے پر واقعی نرم و نازک ہوتے ہیں۔
مرغابی نے گردن پانی میں ڈال کر نکالی۔ہاں یہی بات میں نے بھیڑیے سے کہی تھی مگر وہ مانتا نہیں،کہتا ہے مرغابی کے پر اتنے نرم نہیں ہوتے جتنا کہ سمجھ لیا گیا ہے یہ کہہ کر لومڑی واپسی کو مڑی۔
اُسے بتاؤ کہ میرے پر سب سے نرم ہوتے ہیں مرغابی نے اونچی آواز سے کہا اور پانی میں غوطہ لگایااور دو چار گز دور جا نکلی اپنے پڑوں کو جھاڑا۔

میں اُسے بتا دیتی ہوں کہ تمہارے پر․․․․لومڑی واپس مڑی تم ایسا کر و کہ ایک پر مجھے دیدو تاکہ اُسے چھو کر اُسے یقین ہوجائے۔ٹھیک ہے میں تمہیں اپنی دم کے چند پر دیتی ہوں یہ کہہ کر مرغابی اپنے نرم پر دینے کیلئے جونہی لومڑی کی طرف بڑھی لومڑی نے اُسے دبوچ لیا اور دو چار نوالوں میں ہڑپ کرگئی اور اُسکے نرم ونازک پروں کا تکیہ بنا کر بیٹھ گئی۔

بھیڑیا یہ سب حیرت سے دیکھ رہا تھا،لومڑی بولی دیکھا تمہیں یہاں ہر وقت شکار مل سکتا ہے،بس عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے․․․کیا سمجھے․․․․․؟
یہ سن کر بھیڑیا جھاڑی کی اوٹ سے نکلا اپنے جسم پر مٹی اور کیچڑ لگا کر ندی کی طرف بڑھ گیا۔
اپنے جسم کو پانی سے صاف کرتے ہوئے ایک مرغابی سے باتیں کر رہا تھا کہ میری فرینڈ لومڑی کا کہنا ہے․․․․
وہ کیا کہتی ہے؟مرغابی نے حیرت سے پوچھا۔
”میری دوست لومڑی کہتی ہے کہ مرغابی کے پر بہت سخت ہوتے ہیں کچھ دیر بعد لومڑی کو پھڑ پھڑاہٹ کی آواز آئی اور لومڑی سمجھ گئی کہ اس کے دوست نے بھی وہی حربہ استعمال کیا ہے”سچ ہے کہ خوشامد بُری بلا ہے“۔

Your Thoughts and Comments