Gaar Wale - Article No. 1497

غار والے

ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے کہ روم میں”ڈی سیکس“نامی بادشاہ جسے عربی میں دقیانوس کہتے ہیں، حکومت کیا کرتا تھا ۔وہ بہت ہی ظالم آدمی تھا۔اللہ پر یقین نہیں رکھتا تھا اور بتوں کی پوجا کرتا تھا۔اسی بت پرست قوم میں کچھ سمجھ دار لوگ بھی رہتے تھے۔

جمعہ 16 اگست 2019

Gaar Wale

سیدہ ناہیدنرگس
ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے کہ روم میں”ڈی سیکس“نامی بادشاہ جسے عربی میں دقیانوس کہتے ہیں،حکومت کیا کرتا تھا ۔وہ بہت ہی ظالم آدمی تھا۔اللہ پر یقین نہیں رکھتا تھا اور بتوں کی پوجا کرتا تھا۔

اسی بت پرست قوم میں کچھ سمجھ دار لوگ بھی رہتے تھے۔وہ آپس میں اکثر یہ تذکرہ کرتے تھے کہ یہ مٹی کے بت ہیں،جنھیں قوم کے لوگ خدا سمجھتے ہیں۔
بادشاہ لوگوں کو سختی کے ساتھ بتوں کی پوجا کر نے پر مجبور کر تا تھا۔بتوں سے نفرت کرنے والے چند لوگ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی دوسرے کو نہیں جانتا تھا۔
ان سب نے مل کر عہد کیا کہ وہ ہر گز بتوں کی پوجا نہیں کریں گے ،بلکہ صرف اس خدا کی عبادت کریں گے،جو سب کا مالک ہے۔جس نے چاند ،تارے ،زمین ،آسمان ،پانی اور انسان سب کو پیدا کیا ہے۔

(جاری ہے)

وہی سب کو کھلاتا ہے،پیدا کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔

ان چند ساتھیوں نے مل کر ایک مکان خرید لیا اور وہاں رہنے لگے، پھر اپنے گھر میں ایک ان دیکھے خدا کی عبادت شروع کر دی۔اُڑتے اُڑتے یہ خبر بادشاہ تک پہنچ گئی کہ چند نوجوان بتوں سے باغی ہو کر کسی اور خدا کی عبادت کرتے ہیں۔
بادشاہ نے یہ سنا تو غصے سے لال پیلا ہو گیا۔
اس نے حکم دیا کہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔یہ نوجوان گرفتار ہو کر محل میں لائے گئے۔گرفتار نوجوان بے خوف بادشاہ کے سامنے گئے۔
بادشاہ نے ان سے کہا:”میں نے سنا ہے کہ تم قوم کے خداؤں کو بُرا بھلا کہتے ہو اور ایک ایسے خدا کو مانتے ہو،جسے کبھی آنکھ سے دیکھا بھی نہیں۔
شاید تم جوان ہو ،اسی لیے اپنے مذہب سے بھٹک گئے ہو ۔دیکھو!تم ان باتوں سے باز آجاؤ۔میں تمھیں اچھے اچھے عہدے اور انعام دوں گا۔“
بادشاہ نے جب اپنی بات ختم کی تو ایک نوجوان نے کہا:”بادشاہ سلامت !ہم اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت ہر گز نہیں کر سکتے۔
ہمارا اللہ تو بڑی طاقت والا ہے ،پھر آپ کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ آپ بھی جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر سب سے بڑے اور سچے خدا کی بندگی کریں،جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے ،سب کو وہی رزق دیتا ہے ،پانی برساتا ہے ،فصل اُگاتا ہے اور اولاد دیتا ہے۔

بادشاہ نے جب دیکھا کہ نوجوان اللہ کی تعریفیں کیے جارہے ہیں تو وہ غصے سے کانپنے لگا اور زور سے چلا یا:”بکواس بند کرو۔“
اس نے نوجوانوں سے کہا:”میں تمھارے باپ داداکی عزت کرتا ہوں ،ورنہ تمھیں ابھی اور اسی جگہ قتل کر دیتا۔
میں تمھیں سوچنے کا موقع دیتا ہوں ۔اگر تم اپنے ارادوں سے باز نہیں آئے تو گردن اُڑادوں گا اور اگر بتوں کو مان لیا تو دربارمیں جگہ دوں گا۔“
یہ مسلمان نوجوان بادشاہ کے دربار سے نکل کر سیدھے اپنے عبادت خانے میں آئے۔یہ وہی مکان تھا،جو انھوں نے خریدا تھا۔
سب نے مل کر مشورہ دیا کہ ہم شہر سے دور کسی پہاڑ کے غار میں چل کر رہتے ہیں۔وہاں اللہ کی عبادت کریں گے اور جب تک اس ظالم بادشاہ کی حکومت ختم نہیں ہو جاتی ،ہم اسی جگہ رہیں گے۔
رات کو جب سب لوگ سوگئے اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا تو یہ نوجوان خاموشی کے ساتھ اُٹھے،اپنا سامنا باندھ کر کندھے پر رکھا اور شہر سے پہاڑ کی طرف چل دیے۔

انھوں نے ایک کتا پال رکھا تھا۔وہ کتا بھی ان کے ساتھ چل دیا۔چلتے چلتے دورے دن دوپہر کو یہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچے۔وہاں ایک غار تھا۔ان نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں سے اس غار کو صاف کیا اور اور غار میں بیٹھ کر سستا نے لگے۔طویل فاصلہ پیدل چلنے کی وجہ سے وہ بہت تھک چکے تھے۔
کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گئے،ان کا کتا غار کے منھ پر بیٹھ کر پہرہ دینے لگا ۔تھکن اور رات بھر پیدل چلنے کی وجہ سے انھیں نیند آنے لگی اور ایک ایک کرکے سب سو گئے۔کتا اسی طرح پہرہ دیتا رہا۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی نیند سلایا کہ وہ غار کے اندر تین سوسال تک سوتے رہے۔
انھیں بھوک لگی اور نہ وہ بیمار ہوئے۔903سال کے بعد سب ایک ایک کرکے اُٹھ گئے ،ایک دوسرے سے پوچھنے لگے:”بڑی گہری نیند تھی ۔ہم کتنی دیر تک سوتے رہے؟“
دوسرے نے جواب دیا:”آج ہم سارا دن سوئے۔آج شاید دوسرا دن نکل آیا ہے۔

ایک ساتھی کہنے لگا:”دو دن ہو گئے ہمیں سوتے ہوئے ،اب بہت بھوک لگ رہی ہے۔“انھوں نے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی جا کر بازار سے کھانا لے آئے۔ان میں سے ”یملیخا“نامی نوجوان کچھ پیسے لے کر کھانے کا سامان لینے شہر کی طرف جانے لگا تو سب نے اسی اچھی طرح سمجھا دیا کہ کسی کو ہمارے بارے میں مت بتانا،ورنہ ظالم بادشاہ گرفتا ر کر دے گا۔

شہر پہنچ کر یملیخا نے دیکھا کہ شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے اور اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہیں،سڑکیں،گلیاں سب کچھ تبدیل ہو گیا ،یہاں تک کہ ملک میں چلنے والا سکہ بھی بدل گیا۔جب یملیخا کھانے کی ایک دکان پر گیا اور ظالم بادشاہ کے زمانے کا سکہ پیش کیا تو دکان دار حیران رہ گیا اور کہنے گا:”یہ تو بادشاہ قیانوس کے زمانے کا سکہ ہے ،تمھیں کہاں سے ملا؟“
چند اور لوگ بھی جمع ہو گئے اور کہنے لگے:”اس نوجوان کو قدیم خزانہ مل گیا ہے ،جس میں سے یہ سکہ نکال لایا ہے۔

نوجوان حیران وپریشان لوگوں کو سمجھانے لگا کہ میرے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے۔یہ میرا اپنا سکہ ہے۔“
لیکن لوگوں نے اسے پکڑ کر کے بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔وہ بادشاہ بہت نیک اور رحم دل تھا۔جب اسے یہ سکہ دکھایا گیا تو اس نے وزیر سے مشورہ کیا۔

وزیر نے بتایا:”تین سو سال قبل دقیانوس نامی بادشاہ حکمران تھا۔یہ سکہ جب چلتا تھا۔“
بادشاہ نے نوجوان سے پوچھا تو نوجوان سب کچھ سچ سچ بتا دیاکہ وہ چند ساتھی اپنا ایمان بچانے کی غرض سے فرار ہو گئے تھے۔بادشاہ ساری کہانی سن کر حیرت زدہ رہ گیا ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو تین صدی تک سلائے رکھا۔
اس عرصے میں کئی بادشاہ تبدیل ہو گئے تھے۔یملیخا نے بادشاہ سلامت سے اجازت لی اور اپنے ساتھیوں کے پاس چلا گیا۔ساتھیوں سے مل کر اس نے سارا حیرت انگیز واقعہ سنایا اور بتایا کہ بادشاہ بھی مسلمان ہے،ابھی وہ اپنے ساتھیوں کو یہ باتیں بتا ہی رہا تھا کہ بادشاہ خود اپنے حفاظتی عملے کے ساتھ غار تک پہنچ گیا۔
سب ساتھیوں نے مل کر بادشاہ کا استقبال کیا۔کچھ دیر بادشاہ ساتھ رہ کر رخصت ہو گیا۔وہ سب ساتھی غار کے اندر چلے گئے اور اللہ کے حکم سے سب کے سب انتقال کر گئے۔سب لوگ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ تین سو سال تک بغیر کھائے پیے انھیں سلا کر دوبارہ اُٹھا سکتا ہے تو مرنے کے بعد بھی اپنے بندوں کو قیامت کے دن زندہ کردے گا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Bonon Ka Tohfa

بونوں کا تحفہ

Bonon Ka Tohfa

Kasai Miyan

قصائی میاں

Kasai Miyan

Kisaan Ki Danai

کسان کی دانائی

Kisaan Ki Danai

Bojh Utar Gaya

بوجھ اتر گیا

Bojh Utar Gaya

Betakaluf Rishta

بے تکلف رشتہ

Betakaluf Rishta

Siyah Phool

سیاہ پھول

Siyah Phool

Bara Chooha Chhota  Khargosh

بڑا چوہا،چھوٹا خرگوش

Bara Chooha Chhota Khargosh

Khoya Huwa Ghar

کھویا ہوا گھر

Khoya Huwa Ghar

Mehmaan ALLAH Ki Rehmat

مہمان اللہ کی رحمت

Mehmaan ALLAH Ki Rehmat

ALLAH Ka Dost

اللہ کادوست

ALLAH Ka Dost

Ehssas Hu Gya

احساس ہوگیا

Ehssas Hu Gya

Jo Huwa Acha Huwa

جوہوا اچھا ہوا

Jo Huwa Acha Huwa

Your Thoughts and Comments