Dua Kam Aa Gai

Dua Kam Aa Gai

دُعا کام آگئی

اُسکی والدہ اُس کیلئے دعا کرنے کیلئے مصلے پر بیٹھ گئی اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی اے اللہ میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی سلامتی تجھ سے مانگی ہے۔

ثروت یعقوب:
رات کے 9 بجے تھے۔ روبی گھر کے سارے کام کرکے فارغ ہوچکی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کچھ دیر کے لئے پڑھ بھی لیا جائے کیونکہ کچھ دنوں کے بعد اُسکے امتحانات شروع ہورہے تھے ۔ سب بچے پڑھائی میں مشغول تھے اور وہ تمام مصروفیات کی وجہ سے پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دے رہی تھی ۔
وہ جانتی تھی کہ پڑھائی کاکام بہت بہتر ہے ۔ اگر آج اُسے کام کرنا پڑتا ہے تو اگلے گھر میں تو ایسا نہ اور اُسکی اولاد کو بھی انہی مشکلات کا سامنا ہو۔ وہ اپنی طرف سے پوری محنت کرتی اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی۔
اُسکے والد کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔ اُسکی ماں گھر کے گزر بسر کیلئے سلائی کاکام کرتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُسکی بیٹی کو پڑھائی کا شوق ہے۔

(جاری ہے)

روبی کو ایک ایسی بیماری تھی جو اُسے روز بروز موت کے منہ میں لے جارہی تھی مگر وہ اپنی ماں کو بتانے سے ڈرتی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ اگر اُسکی ماں کو پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوگی۔ اُسکی ایک دوست ننھی تھی۔ وہ اُس سے ہر بات شیئر کرتی تھی۔ ا ُسنے ننھی کو بتارکھا، روبی اُسکی بہترین دوست تھی۔ روبی نے اُس سے پوچھنے کی کوشش کی تھی تو ننھی بولی کہ میری مددکرو، میری امی کی طبیعت بہت خراب ہے۔
روبی جلدی سے گھر گئی اور ماں کو بتا کر ننھی کے گھر چلی گئی۔ اُس نے دیکھا کہ اُسکی والدہ چارپائی پر لیٹی تڑپ رہی ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی اُن کی روح پرواز کرگئی، ننھی رونے لگی، روبی اُسکو دلا دینے لگی۔ ابھی چند دن گزرے تھے کہ ننھی روبی کے گھر آئی اور بولی کہ تم اپنا علاج کراؤ گی کہ نہیں، ورنہ مجھے تم سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں۔
روبی بولی نہیں، میں اتنی امیر کہاں کہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں علاج کروا سکوں۔ تو کیا ہوا۔ میں ہوں نا، اُس نے بتایا کہ وہ سکول نہ آرہی تھی تو ماں سے ضد کررہی تھی کہ روبی کے علاج کیلئے کچھ کریں جب ماں فوت ہوئی تو روبی کے علاج کیلئے پیسے اور خط چھوڑگئی تھی اور یوں اُس کا علاج شروع ہوگیا۔
اُسکی والدہ اُس کیلئے دعا کرنے کیلئے مصلے پر بیٹھ گئی اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی اے اللہ میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی سلامتی تجھ سے مانگی ہے۔ اِسکی حفاظت فرما اور پھر آہستہ آہستہ روبی صحت یاب ہوگئی۔ ننھی کیلئے یہ ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ وہ دونوں پکی سہیلیاں بن گئیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے کام آتی رہیں ہمیشہ۔ سچ ہے ہمیں دوسروں کے کام آنے سے سچی خوشی ملتی ہے۔

Your Thoughts and Comments