Parindon Ka Badshah

Parindon Ka Badshah

پرندوں کا بادشاہ

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔

احمد عدنان طارق:
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔
اُن دنوں میں جب بھی پرندے اکٹھے ہوتے تو وہ ایک دوسرے سے خوشی خوشی گپیں ہانکتے اور بتاتے کہ کون پیدا ہوا ہے اور کون مرگیا ہے؟ کون سے پرندے کے بچے یتیم ہوگئے ہیں اور وہ قوانین بنانے کی بجائے اہم مسائل ایک دوسرے کو بتا دیتے تھے۔
اُن کا قانون ایک ہی تھا، محبت اور دوستی کا قانون۔ نہ انہیں نفرت کا علم تھا اور نہ غصے کا لیکن پھر ایک مکار اُن کے علاقے میں داخل ہوگیا۔ اُس نے اردگرد جائزہ لیا پرندوں کی خوشیوں کا دشمن تھا۔

(جاری ہے)

اس نے مور سے کہا؛ تم اپنے آپ کو عام سا پرندہ کیوں سمجھتے ہو حالانکہ تم باقی سب پرندوں سے زیادہ خوبصورت ہو۔

“ موڑ اسکی لچھے دار باتوں میں آگیا اور بڑے فخر سے خود کو تالاب کے پانی میں دیکھنے لگا۔
پھر وہی شخص عقاب کے پاس گیااور اُسے کہنے لگا“ تم یہ مریل سے پرندے کوئل کو اپنا دوست کیوں سمجھتے ہو، کیا تم باقی سب پرندوں سے زیادہ طاقتور نہیں ہو؟ تم بادلوں سے بھی اوپر اُڑنے والے ہو تم آسانی سے اپنی چونچ سے اسکے ٹکڑے کر سکتے ہو۔
“ عقاب اُسکی باتوں میں آگیا وہ اُڑکر گیا اور اپنی چونچ اور پنجوں سے کوئل کو گھونسلہ تہس نہس کرآیا۔ اِس طرح آہستہ آہستہ وہ مکار پرندوں کے بیچ دشمنی کے بیج بونے میں کامیاب ہوگیا۔ پرندوں کی پُر امن سلطنت جنگ کا میدان بن گئی۔
پرندے ایک دوسرے سے لڑنے اور گالیاں دینے لگے۔ آخر کار طاقتور پرندے کمزور پرندوں کو شکار کرنے لگے۔ ہر کوئی اپنی طاقت پر ناز کرنے لگا اور کمزوروں کو برا بھلا کہنے لگا۔ ایک دن ایک ننھے سے پرندے نے سب چھوٹے پرندوں سے کہا؛ ”ہم اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔
“ وہ سبھی عقاب کے پاس چلے گئے اور اُسے کہا؛ ”ہمیں انصاف چاہیے، آپ سب سے طاقتور پرندے ہو بہتر ہو سب پر حکومت کریں تاکہ کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرسکے۔ “عقاب خوشامد پسند تھا، فوراََ مان گیا لیکن پرندوں کے جانے کے بعد وہی مکا ر عقاب کے پاس آیا اور اُسے کہا؛ ” بادشاہ تو ہوتے ہی عوام سے خدمت کرانے کیلئے ہیں، تمہارے پاس وقت کہا ں کہ تم اُن احمقانہ لڑائیوں میں صلح کرواتے پھرو بہترہے تم اُلو کو انکا بادشاہ بنادو۔
اُس کی آنکھیں قیمتی پتھروں جیسی ہوتی ہیں، وہ صرف رات کو دیکھ سکتا ہے اور جب روشنی میں دوسرے پرندے ہواؤں میں پرواز کرتے ہیں تو وہ کچھ نہیں دیکھا سکتا۔ اسلئے وہ کسی کے معاملے میں دخل نہیں دے گا اور ہر کوئی وہی کرے جو اُس کا دل چاہے گا۔
“ عقاب کر یہ ترکیب بہت اچھی لگی، اُس نے اُلو کو پرندوں کا بادشاہ بنا دیا۔ اُلو دن کو سویا رہتا ہے اور رات کو جاگتا ہے جب باقی پرندے مزے سے اپنے گھونسلوں میں سوئے ہوتے ہیں تبھی تو آج تک وہ پرانے امن والے دن پرندوں کی سلطنت میں نہیں لوٹے اور وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments