Talafi - Article No. 2419

تلافی - تحریر نمبر 2419
شاداب انکل ساری بات سن کر رو پڑے اور تمام محلے داروں سے اپنے سابقہ رویے پر معذرت چاہی اور ان کی زندگی بچانے پر بچوں بڑوں کا بے حد شکریہ ادا کیا
بدھ 21 دسمبر 2022
بچے گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔عثمان نے زور دار شارٹ لگایا تو گیند انکل شاداب کے پورچ میں جا گری تھی۔
”ارے!یہ کیا کر دیا تم نے؟“تمام بچے عثمان پر غصہ کرنے لگے۔
”ارے بھائی!میں نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا،اب میں خود پچھتا رہا ہوں۔“عثمان پشیمانی سے بولا۔
”چلو!اب سب اپنے اپنے گھر چلتے ہیں،کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اتنا باہمت نہیں جو انکل شاداب سے اپنی گیند واپس مانگ سکے۔“حمزہ نے مایوسی سے کہا تو سبھی منہ لٹکا کر اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو گئے۔
انکل شاداب محلے کے ایک اکھڑ مزاج آدمی تھے۔عمر تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال ہو گی۔وہ اپنے گھر میں اکیلے رہتے تھے۔شروع میں محلے کے کچھ افراد نے ان سے میل جول رکھنے کی کوشش کی،لیکن ان کی بدمزاجی اور نامناسب رویے سے تنگ آ کر انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
(جاری ہے)
شام کے وقت گلی میں کافی چہل پہل ہوتی تھی،لیکن شاداب انکل ایسی رونق و شور شرابے سے بے انتہا چڑتے تھے اور اگر کوئی گیند ان کے صحن میں آ گرتی تو بچوں کو بے بھاؤ کی سننا پڑتیں،لہٰذا اب کوئی بچہ ان کے گیٹ کے نزدیک پھٹکنے کی کوشش نہ کرتا۔
ایک دن شام کو سب بچے کرکٹ کھیلنے گلی میں اکھٹے تھے۔انہوں نے آپس میں پیسے جمع کرکے نئی گیند خریدی تھی،لہٰذا سب کو خاص تاکید کی گئی کہ گیند کسی صورت میں شاداب انکل کے گھر میں نہ گرے،ورنہ جو ایسا شارٹ مارے گا وہی کل نئی گیند خرید کر لائے گا۔کھیل شروع ہوا،ابتداء میں تو بچے احتیاط سے سنبھل سنبھل کر کھیلتے رہے،لیکن جوش میں آ کر ساری احتیاطیں بھول گئے اور دھڑا دھڑ چوکے چھکے لگانے لگے۔اسامہ نے تیزی سے آتی ہوئی گیند پر ایسا چھکا مارا کہ وہ انکل شاداب کے پورچ میں لگے فانوس پر جا لگی اور ایک زور دار آواز کے ساتھ اس کے کچھ بلب اور شیشے ٹوٹ گئے۔تمام بچوں کا حال بُرا ہو گیا۔سب ہی بھاگ کر اِدھر اُدھر چھپ گئے۔جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی انکل کے چیخنے چلانے کی آواز نہ آئی تو بچوں نے یہی سمجھا کہ وہ گھر پہ موجود نہیں ہیں۔اب وہ جب بھی گھر واپس آتے تو اپنے پورچ میں موجود ٹوٹے فانوس کے ٹکڑوں اور گیند سے ساری بات سمجھ جاتے اور پھر بچوں کی شامت یقینی ہوتی۔
چنانچہ گیند کو وہاں سے ہٹانا نہایت ضروری تھا۔فیصلہ یہ ہوا کہ اسامہ ہی گیٹ پر چڑھ کر اندر سے گیند لائے گا۔اس نے ڈرتے ڈرتے ہامی بھری اور گیٹ پر لگی گرل کی مدد سے اوپر چڑھنے لگا۔اوپر پہنچ کر اس نے کپکپاتی ٹانگوں سے اندر کی جانب چھلانگ لگا دی۔گیند سامنے موجود کمرے کے دروازے کے پاس ہی پڑی تھی۔وہ جونہی گیند کی جانب بڑھا،اس کی نظر کمرے کے اندر پڑی۔خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔انکل شاداب اوندھے منہ قالین پر بے ترتیب پڑے تھے۔اسامہ نے اپنی ہمت جمع کرکے مین گیٹ کو اندر کی جانب سے کھولا اور باہر کھڑے بچوں کو سارا ماجرا سنا ڈالا۔کچھ بچے ہمت کرکے آگے بڑھے اور انکل کو ہلانے جلانے کی کوشش کی،لیکن ان میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔چند بچے جلدی سے اپنے گھروں کی جانب بھاگے،تاکہ کسی بڑے کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا جا سکے۔
جلد ہی محلے کے کچھ افراد نے فوری ایمبولینس بلوا کر انکل کو ہسپتال پہنچایا۔ڈاکٹر نے معائنہ کرنے پر بتایا کہ ان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہو جانے کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے ہیں اور اگر مزید تاخیر ہو جاتی تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔بہرحال ڈاکٹروں کے فوری علاج کے بعد انکل کو ہوش آ گیا۔قریب کھڑے محلے کے ایک صاحب نے انھیں تمام تفصیل سے آگاہ کیا اور فانوس کے نقصان سے آگاہ کیا اور بچوں کے ہاتھوں ان کے فانوس کے نقصان پر معافی مانگی۔
شاداب انکل ساری بات سن کر رو پڑے اور تمام محلے داروں سے اپنے سابقہ رویے پر معذرت چاہی اور ان کی زندگی بچانے پر بچوں بڑوں کا بے حد شکریہ ادا کیا۔رات تک انکل کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
کچھ دن بعد بچوں کی دو ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ تھا۔میچ آخری لمحات میں تھا۔ایک بال پہ چھکا درکار تھا۔سب کی نگاہیں بیٹنگ کرتے حمزہ پر تھیں۔جس نے سامنے آتی گیند پر ایک زور دار شارٹ مارا اور گیند ایک بار پھر شاداب انکل کے پورچ میں جا گری،لیکن اب کسی بچے کو اس بات کا ڈر نہیں تھا۔ان سب کی نظریں ایمپائر کی طرف تھیں جس نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں بازو اوپر آسمان کی طرف اُٹھا رکھے تھے۔وہ ایمپائر بچوں کے ہر دل عزیز انکل شاداب تھے۔
Browse More Moral Stories

آزاد پرندہ
Azad Parinda

حادثہ
Hadsa

خالہ کے گھر
Khala Ke Ghar

حال میں ماضی
Haal Mein Maazi

موٹو ہاتھی اور ننھا چوہا (پہلا حصہ)
Moto Hathi Aur Nanha Choha - Pehla Hissa

احساس ہوگیا
Ehssas Hu Gya
Urdu Jokes
تلاش گمشدہ
talash e gumshuda
سوراخ
sorakh
امتحان
imtihan
گرے ہوئے
giray hoe
ڈاکٹر
doctor
کتے کی عزت
Kutte Ki izzat
Urdu Paheliyan
گلا تو ہے سر ساتھ نہیں ہے
gala tu hy sar sath nahi he
بے شک پاؤں کے نیچے آئیں
beshak paon ke neeche aaye
دیکھا ہم نے ایک گدھا
dekha hamne ek gadha
اس سے خود بولا تو نہ جائے
us sy khud bola tu na jaye
خشکی پر نہ اس کا پاؤ
khuski par na us ka paon
شب بھر وہ پانی میں نہائے
shab bhar woh pani me nahaye