Waapsi

Waapsi

واپسی

آج یکم اپریل کی چمکتی صبح تھی۔شہریار اور زوہیب ہمدانی خاندان کے چشم وچراغ تھے اور نہم جماعت کے طالب علم۔آج کلاس میں سب بتا رہے تھے کہ وہ کس طرح اپریل فول منائیں گے۔شہریار اور زوہیب نے بھی اپریل فول منانے کا ارادہ کیا۔

مریم جہانگیر:
آج یکم اپریل کی چمکتی صبح تھی۔شہریار اور زوہیب ہمدانی خاندان کے چشم وچراغ تھے اور نہم جماعت کے طالب علم۔آج کلاس میں سب بتا رہے تھے کہ وہ کس طرح اپریل فول منائیں گے۔شہریار اور زوہیب نے بھی اپریل فول منانے کا ارادہ کیا۔

”لیکن کیا کیا جائے۔“شہریار نے کہا
”ہاں یہ تو بہت سوچنے کی بات ہے“۔زوہیب نے پرسوچ لہجے میں جواب دیا۔
”میرے پاس ایک ترکیب ہے“ان کے دوست آریز نے اُن کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
”وہ کیا “دونوں ایک ساتھ بولے۔

”چلو بتاؤں“ آریز نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
ہمدانی ہاؤس میں کہرام مچا ہوا تھا۔کیونکہ دن کو دوبجے فاروق ہمدانی کے دونوں بچوں کے دوست آریز کا فون آیا تھا کہ اُن کو دونوں بیٹے بائی سائیکل پر آرہے تھے کہ ٹرک سے ٹکرا گئے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔

(جاری ہے)

امینہ فاروق تو دل دہلا دینے والی خبر سن کے با ر بار بے ہوش ہورہی تھیں۔فاروق صاحب سنبھلنے میں نہیں آرہے تھے۔کیوں کہ ایک طرف تو اُن کے دونوں بچوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔دوسری طرف یہ خبر سن کر اُن کی ماں بیا ہمدانی کو دل کا دورہ پڑ گیاتھا۔
اور ڈاکٹر ابھی اُن کے کمرے میں تھا۔فاروق صاحب کو کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا کہ اچانک ․․․․․اُن کے دونوں سپوت شہریار اور زوہیب سامنے سے مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔”پاپا،پاپا“ وہ دونوں بولے۔
”کیا تم دونوں ٹھیک ہو۔
“فاروق ہمدانی بے یقینی سے بولے۔
”جی پاپا۔جی ماماجانی، ہم دونوں کو کچھ نہیں ہوا۔“
”تو پھر وہ کیا تھا۔“امینہ بیگم نے ان دونوں کو چومتے ہوئے پوچھا۔
”ارے ماما،کچھ نہیں دراصل آج فرسٹ اپریل تھی تو۔
۔۔۔“شہریار کی بات ادھوری رہ گئی کہ اس نے دادی کے کمرے سے ڈاکٹر کو نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
”ڈاکٹر“ شہریار اور زوہیب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا۔”اب آپ کی اماں خطرے سے باہر ہیں۔آپ نے اچھا کیا جو مجھے فوراََ بلوا لیا۔
اب میں چلتا ہوں۔انہیں باقاعدگی سے دوائی دیتے رہنا ۔اللہ حافظ“ ڈاکٹر نے فاروق صاحب سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
”کیا ہو ا کیا ہوا دادی اماں کو“زوہیب اور شہریار نے بے قراری سے پوچھا۔دادی کے کمرے سے نکلتے ڈاکٹر نے اُن کی جان نکال دی۔

”تم لوگوں کی جھوٹی موت کی خبر سن کر اُن کو دل کا دورہ پڑگیا تھا۔“ فاروق صاحب نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا اور توقف کے بعد پھر گویا ہوئے”اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مغرب کی دیکھا دیکھی تم لوگ بھی وہی کچھ نہ کیا کرو جو ہماری روایات وا قدار کا حصہ نہیں ہیں۔
مانا کہ ان تمام چیزوں سے خوشی حاصل ہوتی ہے،لیکن اس وقتی خوشی اور مذاق سے کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔اگر آج خدا نخواستہ تم لوگوں کے دادی کو کچھ ہو جاتا تو․․․․․“یہ کہہ کر فاروق ہمدانی رونا شروع ہو گئے۔آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو اُن کے دونوں بیٹوں کے چہرے پر شرمندگی اور ندامت کے آنسو موجود تھے۔

”پاپا ہمیں معاف کردیں۔آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔“زوہیب نے کہا۔
”جی پاپا! ہم بھول گئے تھے کہ ہمارے ایسا کرنے سے آپ کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچے گی۔پاپا آئندہ ہم وہی کریں گے جو اسلام کی رو سے ٹھیک ہوگا۔“شہریار نے بھی بھائی کا ساتھ دیا۔

”وعدہ․․․․؟“فاروق صاحب نے پوچھا۔
”جی نہیں“”پکا وعدہ“ان کے بیٹوں نے کہا۔اور وہ دادی کے کمرے کی طرف چل پڑے۔یہ بتانے کے لئے کہ ان کے دونوں پوتے خیروعافیت سے ہیں اور بھٹکا دینے والی راہوں سے واپس آگئے ہیں۔

Your Thoughts and Comments