Yadish Bakhair

یادش بخیر

چند برس پہلے کی بات ہے ،میں ایک بازار سے گزر رہا تھا کہ میری نظر پان کے ایک کھوکھے میں بیٹھے آدمی پر پڑی جو پان کے پتوں پر چونا اور کتھا بڑی مہارت سے لگا رہا تھا ۔

جمعہ ستمبر

yadish bakhair

جدون ادیب
چند برس پہلے کی بات ہے ،میں ایک بازار سے گزر رہا تھا کہ میری نظر پان کے ایک کھوکھے میں بیٹھے آدمی پر پڑی جو پان کے پتوں پر چونا اور کتھا بڑی مہارت سے لگا رہا تھا ۔مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگی ،مگر ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود یاد نہیں آیا کہ وہ کون ہے ۔

میں ہمت کرکے ا س کے قریب گیا اور سلام کرکے جھجکتے ہوے بولا :”معاف کیجئے ،میں نے شاید آپ کو کہیں دیکھا ہے ؟“اس نے مجھے غور سے دیکھا اور پھر جو شیلے لہجے میں بولا :”سہیل ․․․․․․تم ․․․․․! “اب میں بھی اسے پہچان گیا اور میرے منہ سے بھی نکلا :”فاروق ․․․․․تم ․․․․․․! ہم دونوں پلک جھپکتے میں اپنے ماضی میں پہنچ گئے۔
فاروق کے ذہن پر کیا منظر اُبھرے ہوں گے ،میں نہیں جانتا ،مگر میرے ذہن میں ایک پل میں کتنے ہی مناظر اُبھر آئے ۔

(جاری ہے)

فاروق کھوکھے سے باہر نکلا اور مجھے گرم جو شی سے گلے سے لگا لیا ۔فاروق نے کہا کہ وہ کھوکھا بند کرتا ہے اور دونوں کسی ہوٹل میں چل کر بیٹھتے ہیں ،مگر میں نے اسے کہا کہ وہ اپنا دھندا جاری رکھے،ساتھ میں گپ شپ بھی کرتے ہیں ۔

یوں میں اس کے کھوکھے میں بیٹھ گیا ۔وہ اپنا کام بھی کرتا رہا اور ساتھ ہی ہم دونوں دیر تک گزرے دنوں کی باتیں کرتے رہے ۔اس دوران ہم نے دو مرتبہ چاے بھی پی۔آخر میں موبائل نمبروں کا تبادلہ کیا۔میں اپنے گھر پہچان تو مجھے خاصی تا خیر ہو چکی تھی ۔

میں ان دنوں بے روز گار تھا اور ایک سیٹھ کے پاس ملازمت کے سلسلے میں گیا تھا ۔میرے حالات بہت خراب تھے ۔میں نے اپنے بیوی بچوں کو تسلی دی کہ مجھے ملازمت مل جائے گی ۔اس وقت میں تنہائی چاہتا تھا اور فاروق سے ہونے والی ملاقات اور اپنے اسکول کے زمانے کی یادیں تازہ کرنا چاہتا تھا ۔

میں اور فاروق شہر کے اس معروف اسکول میں پڑھتے تھے ،جہاں داخلہ حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی ۔سر کاری اسکول ہونے کے باوجود اس کا شمار صفِ اول کے اسکولوں میں ہوتا تھا ۔میں چوں کہ اپنے پرانے اسکول میں ہر امتحان میں اول آتا تھا اور پانچویں جماعت میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے اسکول میں ٹا پ کیا تھا ۔
لہٰذا میں نے قسمت آزمائی اور قسمت نے ساتھ بھی دیا ۔میں جس جماعت میں تھا ،اس میں فاروق پہلے ہی موجود تھا ۔اس کا داخلہ پچھلے سال ہوا تھا اور وہ بھی اپنی جماعت میں اول آیا تھا ۔مجھے فطری طور پر اس سے حسد محسوس ہوا ۔میں نے اسے شکست دینے کی ٹھانی ،مگر پہلے سہ ماہی کے نتیجے میں میرا نمبر ساتواں آیا ۔
ہماری جماعت میں تقریباََ تمام بچے پڑھائی میں بہت تیز تھے اور ان کا گزشتہ رکارڈ شان دار تھا ،مگر مجھے نتیجے سے بہت مایوسی ہوئی ۔میں نے سوچا ،یہاں ایک نہیں سات فاروق ہیں ،کس کس سے مقابلہ کرپاؤں گا۔مانیٹر اشعر نویں نمبر پر آیا ،مگر وہ پوری جماعت اور اساتذہ کے لیے مٹھائی لے کر آیا ،جب کہ میرے والدین کو بہت مایوسی ہوئی تھی ۔
اب میرے سامنے دوراستے تھے ۔میں مایوس ہوجاتا اور یا زیادہ محنت کرکے اپنی تعلیمی کار کردگی بہتر کرتا ۔میں نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا اور ششما ہی امتحان میں پانچویں نمبر پر آگیا ،جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ۔نتیجے کے ساتھ ایک نئی وردی بھی ملی ،جو پانچویں نمبر تک سب آنے والے بچوں کی بھی ملی تھی ۔
ان چھے مہینوں میں مجھے اپنے ہم جماعتوں کے متعلق مکمل معلومات حاصل ہو گئی تھیں ۔فاروق غیر معمولی ذہین تھا ،حتیٰ کہ اس کے سوالوں سے استاد بھی چکر اجاتے ، مگر وہ اپنی ذہانت کا غلط استعمال کرتا تھا ۔ہر وقت اس کی کوشش ہوتی تھی کہ استاد اس کی قابلیت کی تعریف کریں ،یا اس کے پریشان کن سوالوں کے جواب دیں ۔
وہ تعریف کا بھوکا تھا اور یہی اس کی کم زوری تھی ۔اس کے لیے وہ سخت محنت کرتا ۔شہر کے سب سے بڑے کو چنگ سینٹر میں ٹیوشن پڑھتا ۔گھر پر بھی پڑھتا رہتا ۔اس کے والد ایک سرکاری استاد تھے ،مگر نہ جانے کیا وجہ تھی کہ فاروق دل سے اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتا تھا ۔
انھیں زچ کرنے اور انھیں نیچاد کھانے کی کوشش کرتا ۔میرا ہم نام سہیل بہت ہمدرد اور پُر خلوص لڑکا تھا ۔بچے جو بھی شرارت کرتے ،اس پر اساتذہ کو اختیار تھا کہ وہ شرارت کی نوعیت کے مطابق سز ا سنا دیں ۔

ایک دن مجھے بھی کسی بات پر سزا سنائی گئی تو مانیٹر اشعر نے ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاف کردیں ۔

وہ بہت اچھا لڑکا تھا ۔اس کے کہنے پر استاد نے سزا معطل کردی۔سہیل خوش مزاج اور صلح پسند ہونے کی وجہ سے ہمارے جماعت کا سب سے مقبول لڑکا بن گیا تھا ۔اس نے دوسروں کی خاطر قربانی کے جذبے کو ہم سے اس طرح متعارف کروایا کہ ہم سب اس کے گروید ہ ہوگئے ۔
حتیٰ کہ وہ پورے اسکول میں مشہور ہو گیا ۔عظمت ،ساجد ،عارفین اور فیض دوست تھے ۔ان کی دوستی کا ایک معیار تھا کہ نوے فی صد سے زائد نمبر لو اور ہمارے گروپ میں آجاؤ ۔انھوں نے مجھے اپنے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی ،مگر میں نے انکار کردیا ۔
میں سہیل ،فاروق اور شیراز کی دوستی میں خوش تھا ۔فیصل ہماری جماعت کاپڑھائی میں سب سے پیچھے رہ جانے والا طالب علم تھا ۔وہ ہر وقت پریشان رہتا ۔اس کی امی کسی نجی ادارے میں ملازمت کرتی تھیں ۔ان کے گھر پر کم آمدنی کی وجہ سے اکثر مسائل رہتے تھے ۔
جن کی وجہ سے وہ اپنی پڑھائی پر بھی صحیح توجہ نہیں دے پاتا تھا ۔وہ گھر کے سارے کاموں میں اپنی امی کا ہاتھ بٹاتا اور جماعت میں اسے اکثر اساتذہ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا ۔اس کی کچھ حرکتوں کو ہم سب بہت عجیب نظروں سے دیکھتے تھے ۔
مثلاََ وہ استاد کی آمد سے پہلے استاد صاحب کی کرسی کو درست جگہ پر رکھتا ۔اپنے رومال سے کرسی اور میز صاف کر تا ۔ظہر کی نماز اسکول کے احاطے میں بنی مسجد میں ہوتی تھی ۔ وہ نماز پڑھ کرسب سے پہلے باہر آجاتا اور سب کے جوتے قرینے سے رکھتا ۔
اساتذہ کے جوتے بڑی محبت سے اُٹھا تا اور ضرورت پڑنے پر اپنے رومال سے جھاڑ دیتا ۔ایک مرتبہ لائبریری کے پیریڈ کے بعد ہم دونوں سب سے پہلے جماعت میں داخل ہوئے ۔مجھے کتاب بستے میں رکھ کر کچھ لینے کلاس سے باہر جاناتھا ، اس لیے میں جلدی آگیا۔
ابھی تک جماعت میں اور کوئی نہیں آیا تھا ۔میں بستے میں کتاب رکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ فیصل جیب میں رومال ڈھونڈ رہا ہے رومال نہیں ملا تو اس نے اپنی شرٹ اُتاری اور اس سے کرسی صاف کردی ۔میں سمجھ گیا کہ فیصل دل سے اساتذہ کی عزت کرتا ہے ۔
شاید اس لیے وہ انھیں اپنی پڑھائی سے مطمئن نہیں کرپا تا تو اپنی تسکین کے لیے ان کی خدمت کرتا ہے ۔مجھے وہ بہت اچھا لگا ۔میں نے اس سے دوستی کی اور حساب میں مدد کرنے کی پیش کش کی تو وہ بہت ممنون ہوا اور مجھ سے حساب میں مدد لینے لگا ۔
اصل کہانی فاروق کی ہے ،،جس نے میٹرک بورڈ میں بھی کام یابی حاصل کی ۔پھر ہم سب دوست جدا ہو گئے ۔آج فاروق ملا تو اس نے بتایا کہ اسے اس کے پسندیدہ کالج میں داخلہ مل گیاتھا اور سب کو اُمید تھی کہ وہ ایک ڈاکٹر بنے گا ،مگر کالج میں بُرے لڑکوں کی صحبت میں رہ کر وہ رفتہ رفتہ پڑھائی سے دو ر ہوتا چلا گیا اور انٹر کے بعد اس نے آگے پڑھنے سے انکار کر دیا ۔
دوستوں کے ساتھ مل کر کئی چھوٹے موٹے کاروبار کیے ،مگر کچھ نہ بن سکا ،پھر اس کی امی کا انتقال ہو گیا ۔

ماں نے مرتے مرتے نصیحت کی کہ اپنے اندر سے غرور کو نکال دے اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لے ، ان دوستوں کا ساتھ چھوڑ دے ، جنھوں نے اسے پڑھائی سے دور کیا تھا اور کوئی بھی چھوٹا موٹا کام کرلے اور اس پر راضی ہو جائے تو اللہ اپنا کرم کر دے گا ۔

فاروق نے یہی کیا ۔اس نے دوستوں کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ پہلے کچھ عرصے چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا رہا ،پھر کھو کھا کھول لیا اور اب اسی پر شا کر تھا ۔جب میں اپنا اور فاروق کا یہ حال دیکھا تو میرے منھ سے نکلا کہ فیصل بے چارے کا کیا بنا ہو گا تو فاروق نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ وہ ایک نیم سرکاری ادارے میں بہت بڑا افسر لگا ہوا ہے ۔
بڑے بنگلے میں رہتا ہے اور اس کے پاس ایک بڑی سی کار اور ڈرائیور بھی ہے ۔حتیٰ کہ اس کی سفارش سے لوگوں کو ملازمت مل جاتی ہے ،کہ وہ ڈائر یکٹر تعلقات عامہ ہے ۔اس وقت مجھے یاد آیا کہ فیصل کو اُستاد وں کی عزت اور ماں کی خدمت کے بدلے یہ اعلا مقام حاصل ہوا ہے

Your Thoughts and Comments