bhola huwa sabaq

Bhola Huwa Sabaq

بھولا ہوا سبق

جونئے کرائے دار اسرار صاحب آئے تھے، ان کے گھر سے دن میں کئی بار چھوٹی موٹی چیز یں منگوائی جاتی تھیں۔ صبح ہوتے ہی دروازے پر دستک ہوتی تو امجد صاحب سمجھ جاتے کہ پڑوس سے اسرار صاحب کابیٹا کوئی چیز مانگنے آیا ہوگا۔

جدون ادیب امجد صاحب ایک کمپنی میں افسر تھے۔ اللہ کا دیا گھر میں سب کچھ موجود تھا۔ وہ برسوں سے یہاں رہ رہے تھے۔ مکان بھی ان کا اپنا تھا، مگر یہاں اکثر لوگ کرائے کے مکان میں رہتے تھے، کیوں کہ سامنے نئی آبادی تعمیر ہورہی تھی اور بیشتر پرانے مکین وہاں منتقل ہورہے تھے۔
امجد صاحب کا بیٹا امتیاز چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور بیٹی اریشہ تین سال کی تھی اور صرف مدرسے جاتی تھی۔ ویسے تو امجد صاحب کو پاس پڑوس سے کوئی شکایت نہیں تھی، مگر سامنے والے مکان میں جونئے کرائے دار اسرار صاحب آئے تھے، ان کے گھر سے دن میں کئی بار چھوٹی موٹی چیز یں منگوائی جاتی تھیں۔
صبح ہوتے ہی دروازے پر دستک ہوتی تو امجد صاحب سمجھ جاتے کہ پڑوس سے اسرار صاحب کابیٹا کوئی چیز مانگنے آیا ہوگا۔امجد صاحب کی بیگم نرم دل خاتون تھیں۔

(جاری ہے)

وہ کوئی چیز دینے سے انکار نہیں کرتی تھیں کبھی ہری مرچ بھی گرم مسالا ،کبھی فرائی پین توکبھی ٹماٹر یا پیاز وغیرہ۔

ان سب چیز وں کے علاوہ ایک چیز وہ تواتر کے ساتھ مانگ کر لے جاتے تھے اور دوہ تھی چارجنگ لائٹ !رات کو بجلی کے جاتے ہی دروازے پر دستک ہوتی تو امجد صاحب کی اہلیہ اپنے بیٹے امتیاز کو پکارتیں کہ ایمرجنسی لائٹ لے آوٴ۔ وہ مسکراتے ہوئے آنے والے بچے کو پیار کرتیں اور لائٹ اس کے حوالے کر دیتیں۔
ایک دن امجد صاحب چڑ گئے : ی یہ کون سا طریقہ ہے کہ روز ہی چار جنگ لائٹ مانگ کر لے جاتے ہیں۔ حد ہوتی ہے کسی بات کی۔ ایک لائٹ نہیں خرید سکتے !زیادہ مہنگی تو نہیں ہے“۔ان کی اہلیہ نے خاموش نظروں سے دیکھا ، مگر کچھ بولیں نہیں۔ اگلے روز جب پڑوس کا لڑکا نہیں آیا تو انھیں کچھ خیال ہوا۔
انھوں نے امتیاز کو یہ کہلوانے کو بھیجا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف کہہ دیا کریں۔ وہ سمجھیں کہ امجد صاحب کی بات شاید ان کے بیٹے نے سن لی اور گھر پر ذکر کر دیا ہو گا اور وہ لوگ محتاط ہو گئے مگر امتیاز نے جب آ کر بتایا کہ وہ لوگ گھر نہیں ہیں توانہوں نے سکھ کا سانس لیا۔
دوسرے دن رات کو بجلی جاتے ہی لڑکا آن کھڑا ہوا اور اسے لائٹ دیتے ہوئے امجد صاحب کی اہلیہ کو دلی مسرت ہوئی۔امتیاز ایک حساس بچہ تھا۔ اسے اپنے ابو کی ناراضی کا احساس تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ پیسے جمع کر کے ایک لائٹ خرید لے گا تا کہ ان کے پڑوسی کو پریشانی نہ ہو اور نہ ابوکو غصہ آئے۔
ایک دن امجد صاحب کا موڈ بہت خوش گوار تھا۔ اہلیہ نے ان سے سفارش کی کہ وہ اسرار صاحب کو کہیں مناسب ملازمت پر لگا دیں کہ ان کے گھر کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ کہ رہی تھیں ؛ان خراب حالات کی بنا پر ان کی اہلیہ بیچاری کو اکثر چھوٹی موٹی چیزوں کے لیے پریشان ہونا پڑتا ہے۔
کیا کوئی خوشی سے کسی سے کوئی چیز مانگتا ہے۔ مانگنا کتنی شرم کی بات ہے مگر مجبوری کیا کچھ نہیں کرواتی۔" اچھا میں کچھ کرتا ہوں۔ ان سے مل کر معلوم کرتا ہوں کہ وہ کیا کام کر لیتے ہیں۔“ امجد صاحب نے کہا تو ان کی اہلیہ خوش ہو گئیں۔
اسی وقت امتیاز خوشی خوشی کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ڈھیر سارے نوٹ تھے۔ امجد صاحب چونکے اور سوالیہ نظروں سے اپنی اہلیہ کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں، امتیاز خودہی بول پڑا: ابو میں نے پانچ سورپر جمع کر لیے ہیں۔
“اچھا شاباش۔ امجد صاحب نے کہا اور سوالیہ انداز میں اہلیہ کی طرف دیکھا۔ اب انھوں نے کہا: کمال کر دیا ہمارے بیٹے نے مگر کیوں؟”امی! میں نے سوچا تھا کہ اسرار انکل کے گھر پر چار جنگ لائٹ نہیں ہے، ان کو اکثر ہم سے آدھار مانگنی پڑتی ہے۔
“ امتیاز نے کہتے کہتے ہاتھ میں پکڑے نوٹ ابو کے سامنے ڈھیر کر دیے :”آپ ان پیسوں سے ایک چارجنگ لائٹ لا کر اسرار انکل کو دے دیں۔ میری ٹیچر کہتی ہیں کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔“امجد صاحب نے سوچتی ہوئی نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔
ان کی اہلیہ نے امتیاز کو سینے سے لگا لیا۔ آج انھیں اپنی تربیت پر فخر ہوا تھا۔دوسرے دن اسرار صاحب کا بیٹا چار جنگ لائٹ مانگنے آیا تو امتیاز کی امی نے اسے نئی لائٹ دی اور کہا کہ وہ یہ تحفالا ئی ہیں۔ امی سے کہناکہ یہ رکھ لیں۔
تھوڑی ہی دیر میں بچے کی والدہ خود چلی آ ئیں۔ وہ بہت شرمندہ تھیں مگر انھوں نے سمجھایا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، مگر خاتون نے نئی لائٹ لینے سے انکار کر دیا اور جب انھوں نے بہت اصرار کیا تو کہا کہ پھر مجھے پرانی لائٹ دے دیں۔
امجد صاحب دفتر سے گھر آئے تو ان کی اہلیہ نے سارا قصہ سنایا تو وہ بولے : چلوں جو ہوا، ٹھیک ہے۔ میں جلد ان کے شوہر کو کہیں کا م پرلگوا دوں گا۔ اپنے بیٹے کا جذبہ دیکھ کرمیرا نیکی کا جذبہ بھی جواں ہو گیا ہے۔ مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔
وہ سبق جو میں نے پڑھنے کے بعد بھی بھلا دیا ، وہ میرے بیٹے نے مجھے یاد کرادیا ہے۔پھر اہلیہ سے کہا: بھئی، یہ آپ کی تربیت اور محبت کا اثر ہے۔“وہ مسکرا دیں۔امجد صاحب بولے: ہمارے بچے اسی لیے تو اچھے انسان نہیں بن پاتے کہ ہمارے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔
ہم اپنے بچوں کو نیکی کی تلقین تو کرتے ہیں مگر خود نیکی نہیں کرتے۔ جب کہ ہمارے آس پاس کے لوگ دکھی اورغم زدہ ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو لوگوں کے غم بانٹ کر نہ صرف نیکی کما سکتے ہیں، بلکہ اپنے بچوں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ میں کل سے سوچ رہا ہوں۔
ابو امتیاز پکارتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ پتا ہے، اسرار انکل کیا کہہ رہے تھے؟ اس نے قریب آ کر کہا۔ ” کیا……وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ آپ ایک نیک اور ہمدرد انسان کے بیٹے ہیں۔یعنی میں ایک نیک اور ہمدرد بیٹے کا باپ ہوں۔ “انھوں نے پیار سے امتیاز کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
ابو! کیا نیکی کرنے سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے؟ اس نے معصومیت سے پوچھا۔ ”ہاں، میری جان ! اللہ بہت خوش ہوتا ہے۔تب میں خوب نیکیاں کروں گا۔“ حالت میں توفیق دے میرے بیٹے !انھوں نے پیار سے اپنے بیٹے کو گلے سے لگایا۔

Your Thoughts and Comments