Ashrafion Ki Thaili

Ashrafion Ki Thaili

اشرفیوں کی تھیلی

محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کیلئے دوسرے ملک چلا گیا ۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی۔

سبط حسن :
محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کیلئے دوسرے ملک چلا گیا ۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی ۔
تاجر تسلی کرکے تھیلی لے گیا۔ گھر جا کر اس نے تھیلی کھولی تو اشرفیوں کی بجائے اس میں تانبے کے سکے تھے۔ اس نے قاضی کے پاس آکر کہا اس میں جواشرفیاں تھیں وہ کہاں گئیں ؟ قاضی نے جواب دیا ” بھئی جس طرح تم بند تھیلی دے گئے تھے میں نے اسی طرح تمہارے حوالے کردی ۔
اب مجھے کیا معلوم کہ اس میں اشرفیاں تھیں یاتانبے کے سکے ۔ “ تاجر فریاد لے کرسلطان محمود غزنوی کے پاس گیا اور سارا واقعہ سلطان کو سنادیا ۔
سلطان سمجھ گیا کہ تاجر سچ کہتا ہے لین اس کاکوئی جواب نہ تھا کہ بند تھیلی میں اشرفیوں کے بجائے تانبے کے سکے کیسے چلے گئے ؟ سلطان نے کہا کہ تم یہ تھیلی میرے پاس رہنے دواور انصاف کرنے کا کوئی طریقہ سوچنے کیلئے مجھے کچھ دن کا وقت دو۔

(جاری ہے)

تاجر نے وہ تھیلی سلطان کے حوالے کی اور خود چلاگیا ۔ سلطان نے کچھ دیر اور پھر اپنے خنجر سے اُس قالین کوایک طرف سے کاٹ دیا جو تخت پر بچھا ہوا تھا اور اس کے فوراََ بعد حکم دیا کہ ہم شکار کوجائیں گے ۔ چنانچہ سلطان پر روانہ ہوگیا ۔
بادشاہ کی روانگی کے بعد جب وزیر وغیرہ واپس لوٹے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تخت شاہی کاقالین ایک طرف سے کٹا ہواہے ۔ سب سوچنے لگے کہ اب کیاکیا جائے ۔ شکار سے واپسی پر تین دن کے بعد جب سلطان کو یہ پتہ چلے گا کہ قالین کٹ گیا ہے تو خداجانے کس کس کی شامت آئے ۔
وہ یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ان میں سے ایک بول اٹھا۔ ارے یار ! کیوں فکر کرتے ہو، احمد فوگرکو بلالووہ اس کو ایسا بنادے گا کہ بادشاہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو گی کہ کبھی قالین کٹاتھا ۔ چنانچہ احمد رفوگرکوبلا کر اس سے کہا گیا کہ جس قدر جلد ہوسکے قالین کی اس طرح مرمت کردو کہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ اسے رفو کیاگیا ہے ۔

احمد رفوگر نے یہ کام دودن میں مکمل کردیا۔ تیسرے دن سلطان شکار سے واپس آیا تو اس نے قالین کی صحیح سالامت پایا۔ بادشاہ خود یہ نہ جان سکا کہ اسے کہاں سے رفو کیاگیا ہے ۔ سلطان نے اپنے وزیروں سے کہا کہ یہ قالین کاٹ کر مرمت کرایا گیا ہے ۔
وزیروں نے قسمیں کھائیں کہ عالیجاہ ایسا نہیں ہوا۔ اس پر سلطان نے کہا کہ میں نے خود اس قالین کو کاٹا تھا ۔ بتایا جائے کہ کس نے اسے رفو کیاہے ؟ بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہ کام احمد رفو گر نے کیا ہے ۔ سلطان نے احمد کو بلایا اور وہ تھیلی دکھا کر کہا ۔
دیکھو ! کہیں یہ تھیلی تو تمہارے پاس رفو کیلئے نہیں آئی تھی ؟ پہلے تو احمد نے انکار کیا مگر جب سلطان نے سختی سے پوچھا تو اس نے کہا “ جی ہاں ! یہ تھیلی فلاں قاضی صاحب میرے پاس لائے تھے جس میں نے رفو کردیا تھا۔ بادشاہ نے اسی وقت قاضی کو بلایااور کہا کہ تاجر کی اشرفیاں فوراََ واپس کردو ورنہ تمہیں سخت سزادی جائے گی، آخر قاضی نے وہ اشرفیاں لاکر بادشاہ کے سامنے پیش کردیں جو بادشاہ نے تاجر کے حوالے کردیں۔
قاضی کے خلاف مقدمہ چلایا اور اسے سزادلائی ۔

Your Thoughts and Comments