2014ء میں پنجاب ایمرجنسی سروس نے 727619ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیا‘ رپورٹ

ریسکیو 1122سال 2015کو ”Year of Safety“کے طورپرمنائے گی‘ڈی جی ریسکیو پنجاب

جمعرات جنوری 22:01

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے سال 2014کی سالانہ کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو1122سال 2015کو Year of Safetyکے طورپرمنائے گی اور اس حوالے سے مختلف آگاہی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ریسکیو 1122ہیڈکوارٹرز میں سروس کی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اس سلسلے میں ریسکیو1122حادثات کی روک تھام کے لیے میں مختلف پروگرامز بشمول سکول سیفٹی اور پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ2006کے تحت کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے گی جنہیں ٹاؤنز اور تحصیلوں کی سطح پر کمیونٹی بیسڈ ڈزاسٹر رسک ریڈیکشن کی تربیت فراہم کی جائے گی۔میٹنگ میں تما م ہیڈ آف ونگز نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

قبل ازیں انہوں نے ریسکیو 1122کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جس میں سروس نے 2014 میں پنجاب کے تمام اضلاع میں اپنا سات منٹ سے کم رسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے571240ریسکیو آپریشنز میں727619ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیا۔

پراونشل مانیٹرنگ سیل نے ڈی جی ریسکیو کو بتایا کہ2014میں 201120روڈ ٹریفک حادثات وقوع پذیرہوئے جبکہ 2013میں 182972ٹریفک حادثات روپورٹ ہوئے تھے ، اس تناسب سے ٹریفک حادثات میں 10فیصد اضافہ دیکھاگیاہے، اسی طرح گزشتہ سال 11138آتشزدگی کے واقعات ہوئے جوکہ 2013کی نسبت 10878واقعات رونماہوئے تھے۔پی ایم سی نے مزید بتایاکہ میڈیکل ایمرجنسیز میں بھی 09فیصد اضافہ ہواہے کیونکہ 2014میں ریسکیو 1122نے کل 274134ایمرجنسیز پرریسپانڈ کیاجبکہ 2013میں یہ تعداد 251098تھی۔

ریسکیو 1122نے گزشتہ سال کل 24703کرائم کے واقعات میں ایمرجنسی سروسز فراہم کیں جن میں 2013کی نسبت 8فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ سال 2013میں کل 22878کرائم کے واقعات میں ریسکیو سروسز فراہم کی گئی تھیں۔ گزشتہ سال 172دھماکوں کے واقعات رونماہوئے جبکہ 2013میں کل 93کیسس روپورٹ ہوئے تھے ، اسی طرح اس قسم کی ایمرجنسی میں 85فیصد اضافہ ہواہے۔بریفنگ کے مطابق ریسکیو 1122نے 1267ڈوبنے کے واقعات؛ 832عمارتیں منہدم ہونے اور 57874دیگراقسام کی ایمرجنسیز پرریسپانڈ کیا۔

پراونشل مانیٹرنگ سیل نے مزید بتایاکہ گزشتہ سال کی نسبت گوجرانوالہ میں روڈ ٹریفک حادثات کی شرح میں 19فیصد، ملتان میں 7فیصد ،فیصل آباد میں 8فیصد،راولپنڈی میں 3.5فیصداضافہ دیکھاگیاجبکہ لاہورمیں ٹریفک حادثات میں قدرے کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ سال کی نسبت راولپنڈی میں میڈیکل ایمرجنسیز میں 20فیصد؛فیصل آباد میں 17فیصد،گوجرانوالہ میں 12فیصداضافہ، جبکہ لاہور میں 9فیصد کمی واقع ہوئی۔

اسی طرح راولپنڈی میں آتشزدگی کے واقعات میں 11فیصد ،گوجرانوالہ میں 7.7فیصد اور لاہورمیں بھی آتشزدگی کے واقعات میں قدرے اضافہ دیکھاگیا۔میٹنگ کے دوران ڈاکٹررضوان نصیر نے کہاکہ گزشتہ دس سال کے دوران ریسکیو 1122ایمرجنسی سروسزڈیلوری کے حوالے سے کامیاب ماڈل کی حیثیت سے اُبھرکرسامنے آئی ہے،انہوں نے کہاکہ ریسکیو 1122نے کمیونٹی ممبرز کے ساتھ مل کرپنجاب کے تمام اضلاع میں ڈزاسٹررسک ریڈکشن کے حوالے سے کام کررہی ہے۔

ڈاکٹررضوان نصیرکاکہناتھاکہ ریسکیو 1122نے پنجاب کے شہریوں کوبلاتفریق رنگ و نسل و عقیدہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئرکابنیادی حق فراہم کیاہے، اب ایمرجنسیز کی اقسام کو مدِ نظررکھتے ہوئے تحقیقاتی جائزہ لے گی تاکہ پاکستان میں محفوظ معاشرے کے قیام کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایمرجنسی سروسز کا90فیصد کام ایمرجنسیز کی روک تھام ہوتاہے ، اسی لئے ریسکیو 1122سال 2015کوThe Year of Safetyکے طورپرمنائے گی اور کمیونٹی سیفٹی پرفوکس کیاجائے گا۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments