ابھی شادی کی جلدی نہیں

سینتالیس سالہ اداکارہ ماریہ واسطی کہتے ہیں کہ دوسری لڑکیوں کی طرح مجھے شادی کی کوئی جلدی نہیں البتہ آج کل زندگی میں ایک ایسا شخص ہے جس سے شادی ہوسکتی ہے مگر دماغ کہتا کہ ابھی اسے تھوڑا اور پرکھ لو

بدھ 27 ستمبر 2017

ابھی شادی کی جلدی نہیں:
ہما میرحسن:
اداکاری عجیب فن ہے جہاں کردار کے دکھوں کو اپنے اندر اتار کر نگاہوں میں آنسوؤں کے ستارے سجانے پڑتے ہیں۔ کردار کی خوشیوں میں مسکرانا پڑتا ہے۔ ماریہ واسطی بھی اسی شہر نگاراں کی باسی ہیں۔ ان کی مہارت یہ کہ وہ ہر کردار میں یوں ڈھل جاتی ہیں جیسے یہ انہی کی زندگی کا گمشدہ حصہ ہو اور اسے پھر سے دریافت کرلیا گیا ہو۔

اداکاری کے فن کو سمجھنے ، اس کے رمزکو جاننے اور اس کے فن کی برسوں ریاضت کے بعد اب وہ ٹی وی ڈرامے کا معتبر نام بن چکی ہیں۔ ٹیلی فلم”کلو“ ان کی لاجواب اداکاری کا شاہکار ہے۔ کبھی ”بری عورت“ تو کبھی”بادلوں میں بسیرا“ ماریہ واسطی نے سلور سکرین پر ہر کردار کو جلا بخشی ہے۔

(جاری ہے)

یہی نہیں بلکہ اس 47 سالہ خوبصورت و باکمال اداکارہ نے ”رام چند پاکستانی“ جیسی فلم میں بھی پختہ اداکاری کرکے شائقین کے دل موہ لئے۔

کچھ عرصے پہلے ماریہ استنبول سے نجی ٹی وی کے لئے مارننگ شو کی میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہی ہیں۔ وہ ایک غیر روایتی اداکارہ ہیں۔ ماریہ 14 اگست1970 کو تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں پیدا ہوئیں اور یہیں سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ وہ ایک بزنس وومن بننا چاہتی تھیں، ان کی فیملی کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں مگر وہ ایک اداکار بن گئیں۔

ماریہ معروف اداکارہ نجمہ واسطی کی بیٹی ، طاہر واسطی کی بھانجی اور لیلیٰ واسطی کی کزن ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز نوے کی دہائی میں اس وقت کیا جب ایک ہی سرکاری ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ ان کی پہلی ڈرامہ سیریل” سارا اور عمارہ “ تھی ، اس کی کہانی دو ایسی بہنوں کے بارے میں تھی جو اپنی شادی شدہ زندگی سے ناخوش ہیں۔ ماریہ واسطی نے اس سیریل میں بہت اچھا کام کیا پھر انہیں ایک کے بعد ایک سیریل میں کام ملتا چلا گیا۔

اب تک انہوں نے پچاس سے زائد ڈرامہ سیریلز میں کام کیا ہے
سوال:آپ کو بزنس وومن بننے کی خواہش تھی پھر اداکارہ کیسے بن گئیں؟
ماریہ واسطی: میرا بچپن ساؤتھ افریقہ میں گزرا۔ کچھ عرصے بعد جب ہم لوگ پاکستان آئے تو یہاں میں نے بیکن ہاؤس میں داخلہ لے لیا۔ میں بزنس مینجمنٹ پڑھنا چاہتی تھی مگر قسمت میں اداکارہ بننا لکھا تھاسو بن گئی۔

میں سکول، کالج کے ڈراموں ، پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ میرا ماننا ہے کہ اداکاری اور گلوکاری ایسا شعبہ ہے جہا ں ہرکوئی نہیں آسکتا۔ بلکہ جس میں خدا داد صلاحیتیں ہوں گی، وہی اس سرزمین پر قدم رکھ سکتا ہے۔ذہانت اور حسن لازم وملزوم ہیں۔ خوبصورتی آپ کو” لانچ“ کرسکتی ہے مگر جب تک آپ میں ٹیلنٹ نہیں آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

براآرٹسٹ کبھی ناطرین کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ آپ دیکھ لیں جنہوں نے پیسہ لگا کر اپنے شوق کی خاطر یہ انڈسٹری جوائن کی ان پر جلد یہ حقیقت کھل گئی کہ یہ بستی شوقین لوگوں کی نہیں۔ مجھ میں اداکاری کے جراثیم موجود تھے اس لئے میں اس فیلڈ میں کامیاب ہوگئی۔
سوال: آپ میں اداکاری کے جراثیم کہاں سے آئے؟
ماریہ واسطی: میری والدہ بھی ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کرتی تھیں جبکہ خالہ طاہرہ واسطی بھی اداکاری کیا کرتی تھیں تاہم ٹی وی میں میری آمد اتفاقیہ تھی۔

معروف ہدایت کار بختیارا احمد کو ڈرامہ”سارہ اورعمارہ“ کے لئے نئی لڑکی کی ضرورت تھی، مجھے آفر ہوئی اور یوں میرے ڈرامہ کیرئیر کا آغاز ہوا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے کنور آفتاب ، ایوب خاور اور نصرت ٹھاکر جیسے کامیاب ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔ میرے خیال میں پی ٹی وی اور پرائیوٹ چینلز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں پی ٹی وی کی وجہ سے ہوں۔

وہ ہم جیسے فنکاروں کی اکیڈمی ہے ، وہاں سے بہت کچھ سیکھا۔ اُس وقت کام کی اہمیت تھی اور اب وقت کی اہمیت ہے۔ کام کیسا بھی ہو، بس جلدی کرو ، یہی رٹ ہر ایک کی ہوتی ہے۔ پی ٹی وی میں کام کا مزہ اس لیے بھی تھا کہ وہاں سے کام کا ریسپانس فوراََآجاتا تھا۔ ادھر سیریل نشر ہوا اور لوگوں کے فون آنا شروع ہوگئے، باہر نکلتے ہی لوگوں سے تعریفی کلمات سننے کو ملتے تھے۔

اب ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ فلاں چینل پر ڈرامہ آرہا ہے۔
سوال: حال ہی میں بری عورت ، ملکہ عالیہ جیسے متعدد ڈراموں میں آپ نے منفی کردار کئے، کوئی خاض وجہ؟
ماریہ واسطی:مجھے اچھا لگتا ہے۔ ویسے بھی حقیقی زندگی میں کوئی بھی شخص اچھا یا برا نہیں ہوتا، انسان بہت ساری خصوصیات کا مجموعہ ہے۔ ہمیں آئیڈئل ازم کاشکار نہیں ہونا چاہیے اور میرا خیال ہے کہ اچھا اور برا کردار وہی کرسکتا ہے جو کسی بھی کردار میں ڈھل کر اس کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور دیکھنے والوں کو حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔

کیمرے کے سامنے اپنی ذات کی نفی کرکے ہم کرداروں میں حقیقت کے رنگ بھرتے ہیں۔ بہت محنت کے بعد دیکھنے والوں پر کردار کی کیفیت طاری کرنے کا فن آتا ہے۔ بعض اوقات اپنے مزاج سے بالکل منفرد کردار ہمارے لئے چیلنج بن جاتے ہیں۔ تاہم ایسے کرداروں کو کرنا ہی اداکاری کا پہلا اور بنیادی اصول ہے۔ میں کسی بھی کردار کو نبھانے سے قبل اس کے بارے میں مکمل ریسرچ کرتی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ میں اداکاری کرسکتی ہوں، گلوکاری نہیں۔ اس لئے میں نے اداکاری کا انتخاب کیا اور ظاہر ہے شہرت تب ملے گی جب منفرد کردار کروں گی، اسی سوچ نے مجھے مشکل کام کا عادی بنادیا ہے جو میری وجہ ٴ شہرت بنی۔ اداکاری میں میرا ایک اپنا سٹائل ہے میں کسی کو کاپی نہیں کرتی۔
سوال:آپ اب تک بے شمار ڈراموں میں کام کرچکی ہیں ،کون سا کردار پسندیدہ رہا؟
ماریہ واسطی: میرا پسندیدہ کردار تو یہ ہے کہ میں کسی ایسی سیریل میں کا کروں جس میں ہر چیز مکمل ہو، اس کا سکرپٹ ، ہدایت کار اور اس کی کاسٹ بہت مختلف اور زبردست ہو۔

جب آپ کوکوئی اچھا سکرپٹ ملے مگر اس کا ہدایت کار اچھا نہ ہو اور کاسٹ بھی فضول ہوتو پھر آپ کاکام بھی گہنا جاتا ہے۔ میں کسی بھی ڈرامہ یا سیریل میں خود بھی کردار کرتی ہوں، اس کا تعلق اپنی ذات سے سمجھتی ہوں کیونکہ یہ تمام کردار میری روز مرہ زندگی میں میرے آس پاس ہوتے ہیں۔ میں انہیں دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں۔ اگرآپ حقیقی زندگی کے اس سچے کرداروں کو محسوس نہیں کرسکتے تو آپ کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتے۔

اس لئے کرداروں کے حوالے سے میری کوئی پسند نہیں ہے۔
سوال: آپ فلم ”رام چند پاکستانی “ کی وجہ سے بڑی سکرین کا حصہ بنیں ایک بچے کے مدمقابل کام کرنا کیسا تجربہ رہا؟
ماریہ واسطی: رام چند کا کردار کرنے والا بچہ بہت ذہین تھا، مہرین جبار نے بہت محنت سے اس کا انتخاب کیا تھا ، وہ اتنا اچھا اداکار تھا کہ مجھے ہر وقت بہترین پرفارمنس دینے کے لئے تیار رہنا پڑتا تھا۔

فلم میں کام کرنا بہترین تجربہ رہا، وہاں ہر کام نہایت پروفیشنل انداز سے کیا گیا، جوہمارے ملک میں کبھی کبھی ہوتا ہے۔ ٹیم بہت اچھی تھی اور سیٹ پر بہت مزہ آتا تھا، اور فلم اور ٹی وی کی دنیا بہت مختلف ہے اور بلاشبہ فلم کا میڈیم چھوٹی سکرین کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔ مجھے کچھ سیکھنے کو ملا اور میرے اندر کے فنکار کو بھی بہت سکون ملا۔
سوال: آپ کو اس فلم میں بہت سراہا گیا، مگر آپ دوبارہ کسی فلم میں نظر نہیں آئیں؟
ماریہ واسطی:اچھا پراجیکٹ ہوا تو لازماََ فلم میں کام کروں گی۔

پاکستان میں اچھی فلمیں بنانے کی بنیاد تو پڑچکی ہے، شاید اس پر جلد عمارت بھی کھڑی ہوجائے۔ مجھے بالی ووڈ سے بھی آفرز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک کو مشترکہ پروڈکشنز کرنی چاہیئں مگر توازن بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ ہمارے چینلز وہاں نہیں دکھائے جاتے اور ان کے سٹارز ہمارے ہاں بہت مقبول ہو تے ہیں، جو غلط ہے۔ بہر حال انڈسٹری میں اتنے سال گزارنے کے بعد میرا دل کرتا ہے کہ ڈائریکشن کروں تاہم ڈائریکشن بہت مشکل جاب ہے، فی الوقت میں پروڈکشنز اور اداکاری کررہی ہوں ۔

میرے خیال میں پروڈکشن کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اپنے کا م کا ”دائرہ“ بڑھانے کا اچھا طریقہ ہے اور دوسری بات یہ کہ اس میں پیسہ بھی بہت ہے جو اداکاروں کا مالدار بنادیتا ہے جبکہ اداکاری بہت سنجیدہ کام ہے، یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں، جب آپ اپنے کام سے سنجیدہ ہوتے ہیں تو پھر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔
سوال:ڈراموں اور فلم کے بعد ایک مارننگ شوکی میزبانی کا تجربہ کیسا رہا؟
ماریہ واسطی:یہ میری زندگی کا بہت شاندار تجربہ رہا۔

یہ روایتی مارننگ شوز سے بہت مختلف تھا، اس کا سیٹ اور پورے مارننگ شو کا فارمیٹ بالکل نیا تھا اور میں نے قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ میری عادت ہے کہ میں زندگی میں درست اور بروقت فیصلے کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں منفرد کام کرتی ہوں ۔ مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ استنبول کی کیابات سب اچھی لگی، صحیح بتاؤں وہاں کی سب سے اچھی چیز، وہاں کے لوگ ہیں۔

وہ منافق نہیں، کسی کے بارے میں فوری رائے قائم نہیں کرتے ، خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں۔ حسد نہیں کرتے اور سب سے بڑھ کر وہاں ہر ایک کو مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی ہے، کوئی کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا پاکستان میں دوہرا کلچر رائج ہے، ہم بالی ووڈ اور بالی ووڈ کی بولڈ اداکاراؤں کو تو بہت پسند کرتے ہیں لیکن جب کوئی پاکستانی اداکارہ یہی کام کرتی ہے تو پھر تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

یہاں اداکاراؤں کی بولڈ ایکٹنگ تو دور کی بات ، ان کی لباس پر اعتراضات ہی ختم نہیں ہوتے۔
سوال: مارننگ شو میں آپ بہت ملنسار اور ہنس مکھ دکھائی دیں مگر انڈسٹری میں اکثر لوگ آپکو مغرور سمجھتے ہیں؟
ماریہ واسطی: پتہ نہیں لوگ ایسا کیوں سمجھتے ہیں،میں بہت ملنسار اور خوش مزاج ہوں۔ بس تھوڑی محتاط ہوں، ہر ایک سے بات نہیں کرتی اور لوگ سمجھتے ہیں کہ میں مغرور ہوں۔

میں ایک چیز سے جلد بور ہوجاتی ہوں۔ موڈی طبیعت ہے۔ میں نے زیادہ تر سنجیدہ کردار ادا کئے ہیں، اس وجہ سے بھی لوگوں میں میری شخصیت کا تاثر ایسا بن گیا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر کامیڈی رول کرنا اچھا لگتا ہے لیکن ڈائریکٹر اور رائٹر میرے لئے جو کردار پسند کرتے ہیں خود کو اس میں ڈھالنے کی کوشش ضرور کرتی ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ میرا ستارہ اسی طرف طلوع ہوتا ہے جہاں میں آج موجود ہوں۔

میرا آغاز ہی سنجیدہ کرداروں سے ہوا تھا۔ میں حقیقی زندگی میں بہت مختلف ہوں۔ البتہ جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں حقیقی زندگی میں بہت طاقتور ہو۔ اگر کوئی میری دم پر پاؤں رکھے گا تو میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں۔ ڈرامے کی زندگی اور ہے، حقیقی زندگی میں مختلف چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔
سوال: زندگی کی سینتالیس بہاریں دیکھنے کے باوجود آپ آج بھی حسین شاداب نظر آتی ہیں، کتنے جتن کرتی ہیں؟
ماریہ واسطی:یہ لوگوں کا پیار ہے کہ میں آج بھی انہیں حسین لگتی ہوں البتہ میں فٹنس برقرار رکھنے کے لئے کوئی جتن نہیں کرتی اور نہ ہی فٹنس کا بھوت کبھی سر پر سوار کیا ہے۔

میں ہرطرح کے کھانے کی شوقین ہوں لیکن میں غذامیں تناسب کا خیال رکھتی ہوں۔ میں میٹھا بھی کھاتی ہوں اور پروٹین غذائیں بھی لیتی ہوں۔ زندگی ایک ہی بار ملی ہے، میں کیوں مختلف لذید کھانوں سے محروم رہوں اور خود کو سلاد کھانے تک کی پابند رکھوں۔ میری شروع سے عادت ہے کہ میں صبح اٹھ کرپانی میں چار سے پانچ لیموں کا رس ڈال کر پیتی ہوں پھر اپنے پیارے کتے شیزو سے کھیلتی ہوں جو مجھے بے حد عزیز ہے۔

پھر کچھ دیر بعد چائے پیتی ہوں، چائے نہ پیون تو دن نہیں گزرتا۔ میں اکثر ناشتہ نہیں کرتی اور بسا اوقات دوپہر کو جوس پی لیتی ہوں۔ شوٹنگ اور تمام تر مصروفیات کے باوجود میں عام خواتین کی طرح گھر پر پوری توجہ دیتی ہوں۔ مجھے گھر میں بے ترتیبی پسند نہیں، ہر چیز جگہ پر اچھی لگتی ہے۔ بعض اوقات گھر کی ذمہ داریوں کے باعث میں دوستوں کے ساتھ ڈنر یا سلون جانا بھی کینسل کردیتی ہوں اس کے علاوہ اگر مجھے ٹائم ملے تو میں نامور شخصیات کی بائیو گرافی پڑھنا پسند کرتی ہوں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :