صنم بلوچ

میں نخریلی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی میزبان اور اداکارہ صنم بلوچ کہتی ہیں میرے شوہر کا بھی خیال تھا کہ میں ضرور ٹی وی کی دیگر حسیناؤں کی طرح نخریلی ہوں گی ، مگر میں ایسی نہیں

پیر اکتوبر

Sanam Baloch
زارامصطفی:
سندھ کے بلوچ گھرانے سے تعلق رکھنے والی چلبلی چنچل اور باتونی صنم بلوچ نے شوبز کیرئیر کا آغازسندھ چینل پر میزبانی سے کیا جس میں وہ شوبز کے مختلف اداکاروں کے انٹرویوز کرتی تھیں۔ ایک دن ان کی ملاقات فہد مصطفی سے ہوگئی جنہوں نے صنم کو اپنے ساتھ ڈرامہ سیریل ”کالک“ میں اداکاری کی پیشکش کی جسے صنم نے قبول کرلیااور 2008 میں پہلی مرتبہ اداکاری کا آغاز کیا۔

ویسے صنم نے ”دوراہا ، کنکر،نور پور کی رانی،دام،کمیسٹری، کچھ پیار کا پاگل پن، روشن ستارہ،اکبری اصغری اور چودھویں کا چاند“ جیسے کئی مشہور زمانہ ڈرامہ سیریلز اپنے نام کئے مگر ڈرامہ سیریل داستان اور درِ شہوار ان کی خاص وجہٴ شہرت بنے اور تمام بڑے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسر ز صنم کی اداکارانہ صلاحیتوں کے گرویدہ ہوگئے۔

(جاری ہے)

گذشتہ برس صنم نے فائٹر پائلٹ مریم مختیار شہید کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم”ایک تھی مریم“ میں بھی مرکزی کردار نبھایا، جسے خاصی پذیرائی ملی۔

صنم ان اداکاروں میں سے ہیں جو کم مگر معیاری کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صنم سال بھر میں بمشکل ایک ڈرامہ سیریل میں نظر آتی ہیں جس کی وجہ وہ ہے کہ صنم سال بھر میں بمشکل ایک ڈرامہ سیریل میں نظر آتی ہیں ۔ صنم آج کل ایک ٹی وی چینل پر مارننگ شو کی میزبانی کررہی ہیں اور اتنا ہی نہیں ان دنوں وہ ”تیری رضا“کے نام سے ایک ڈرامہ سیریل میں بھی دکھائی دے رہی ہیں جس میں سہانا کا کرداران کے پرستاروں میں خاصا مقبول ہورہا ہے۔

صنم کی شادی 2013 میں ٹی وی ہوسٹ ،سنگر،ایکٹر،سانگ رائٹرز عبداللہ فرحت اللہ سے ہوئی۔
بے حد لاڈلی صنم: صنم اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اور بے حد لاڈلی ہیں جب ان کے والدین میں علیحدگی ہوگئی اور والدہ نے اکیلے انہیں پالا اور کسی مرحلے پر زندگی کی محرومیوں کا احساس نہیں ہونے دیا۔صنم کی بڑی بہنوں اور بھائی سے بے پناہ دوستی ہے اور وہ اپنی شرارتوں سے گھر کے سبھی لوگوں کا دل بہلاتی رہتی ہیں۔

ان کی امی کا خیال ہے، گھر میں سب کی موجودگی کے باوجود ، اگر صرف صنم کی کمی ہوتو میرا دل نہیں لگتا کیونکہ صنم ہمارے گھر کی رونق ہے۔“
اداکاری سے عشق ہے: چونکہ صنم کی بڑی بہن سبرین پہلے سے شوبز میں تھیں اور سندھی ٹی وی پر ایک شو کی میزبانی کرتی تھیں ، صنم بھی ان کے ساتھ سیٹ پر جایا کرتی تھیں۔ ایک دن سبرین نے صنم سے کہا کہ خوبصورتی کا کوئی مقابلہ ہورہا ہے جس میں ”فیس آف دی ائیر“ منتخب کیا جائے گا ، تم بھی مقابلے میں اپنی تصویریں بھیجو۔

خوش قسمتی سے صنم وہ مقابلہ جیت گئیں جس کے بعد انہیں بھی سبرین کی طرح سندھ ٹی وی پر ایک شوکی میزبانی کا موقع مل گیا۔ اسی طرح جب سبرین نے اردو ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کیا تو صنم ہی سبرین کو سیٹ سے پک اینڈ ڈراپ کرنے جاتی تھیں، وہاں ایک دن صنم کی ملاقات ہمایوں سعید سے ہوئی۔ہمایوں نے کہا تم ایکٹنگ کیوں نہیں کرتی تو صنم نے منع کردیا کہ میں کیسے ایکٹنگ کرسکتی ہوں؟ مجھے ایکٹنگ نہیں آتی حتیٰ کہ مجھے تو اردو بھی بولنی نہیں آتی جس پر ہمایوں نے کہا دیکھنا ایک دن میں تمہیں اپنے ڈرامے کی ہیروئن بناؤں گا۔

اور پھر کچھ ہی عرصے بعد جب صنم ڈرامہ سیریل ”کالک“ کر رہی تھی تو ہمایوں نے انہیں”دوراہا میں مرکزی کردار کی پیشکش کی اور صنم کو راتوں رات شہرت مل گئی۔ صنم کہتی ہیں اداکاری میں سبرین نے میری بہت مدد کی ۔ وہ مجھے پیشہ ورانہ امور کے حوالے سے بہت سمجھاتی تھیں، میری سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ میں کسی کو بھی انکار نہیں کرسکتی تھی۔

اورسبرین نے مجھے سمجھایا کے ہر پرجیکٹ کے لئے ہاں نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے میں اب ہر سکرپٹ پڑھ کر اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتی ہوں۔ “ ویسے تو ہوسٹنگ کا معاوضہ ٹی وی ڈراموں سے کہیں زیادہ ہے مگر صنم کہتی ہیں” مجھے اداکاری سے عشق ہے “ اس لئے انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں کے لئے ٹی وی شوز کی میزبانی چھوڑ دی۔ آج کل وہ اداکاری اورہوسٹنگ ایک ساتھ کررہی ہیں۔


گھنٹوں باتیں کرنا اچھا لگتا ہے:
صنم نے آٹھویں جماعت میں ہوسٹنگ شروع کردی او ر اس قدر مشہور ہوگئیں کہ اس دوران جب وہ اپنے آبائی گاؤں گئیں تو لوگوں نے انہیں بے حد عزت دی۔ صنم کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہاں کہ لوگ ان کا شو دیکھتے ہوں گے۔ گاؤں کے لوگوں نے صنم سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار یوں کیا کہ اس علاقے کا ایک خاص جوتا بہت مشہور تھا ، اس جوتے کی کمپنی کانام ”صنم “ رکھ ریا ۔

کم عمری میں ٹی وی پرمیزبانی کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ صنم کو بچپن سے ہی نئے نئے لوگوں سے ملنا، باتیں کرنا اور ان سے دلچسپ واقعات سننا اچھا لگتا تھا۔بعض اوقات وہ سکول سے واپسی پر سکول بس کے ذریعے گھر آنے کی بجائے کسی دوست کے ہاں چلی جاتیں، گھر جاتیں تو پڑوس میں بلوچ فیملی کے ہاں چلی جاتیں کیونکہ صنم کو ہروقت کوئی نہ کوئی گھنٹوں باتیں کرنے کے لئے چاہیے ہوتا تھا اور صنم کی اس عادت کی وجہ سے ان کے شوہر انہیں پیار سے ”گپوٹا “ کہتے ہیں۔

بقول صنم” مجھے زندگی میں اکیلے ہونے سے بہت ڈرلگتا ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ صنم ہر وقت دوستوں سے گھِری رہتی تھیں۔
صنم کی سپر ہٹ لو سٹوری:جس دن صنم کو سمأ ٹی وی کے مارننگ شوکے فرائض سونپے گئے تو ان کی ملاقات عبداللہ فرحت اللہ سے ہوئی۔ عبداللہ بھی اسی چینل پر ایک دوسرے پروگرام کی میزبانی کرتے تھے۔ چنانچہ صنم کو ان کے باس نے کہا کہ جب کسی موضوع پر مدد کی ضرورت ہوتو عبداللہ سے مدد لینا۔

اسی دوران صنم اور عبداللہ کی دوستی ہوگئی۔ صنم کہتی ہیں میں بالکل نخریلی نہیں ہوں اس لئے مجھے کسی سے بھی بات کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی،میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میں بڑی ایکٹرس یا ہوسٹ ہوں، مجھے فلاں سے بات نہیں کرنی چاہیے اور فلاں سے کرنی چاہیے․․․ اس لئے مجھے جب بھی عبداللہ کی مدد چاہیے ہوتی تھی، میں ان کے پاس چلی جاتی اور کافی دیر تک ہم مختلف موضوعات پر بات چیت کرتے رہتے۔

صنم کے گن گانے والے عبداللہ کہتے ہیں”میں سوچتاتھا کہ صنم اتنی مشہور اداکارہ ہیں ، ٹی وی کا جانا مانا چہرہ ہیں ، ضرور دیگر حسیناؤں کی طرح نخریلی بھی ہوں گی مگر صنم بالکل ایسی نہیں ہیں، میں نے صنم کو بے حد انسان دوست شخصیت پایا۔ میں نے دیکھا کہ جب وہ ٹی وی پروگرام میں روتی ہیں تو وہ واقعی روتی ہیں، رونے کی اداکاری نہیں کرتی، وہ اردگرد کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔

کبھی کسی دوسری اینکر کی برائی نہیں کرتی۔ بلکہ میں نے انکو ہمیشہ دوسروں کو تعریف کرتے سنا کہ دیکھو ندانے یہ بات کتنی اچھی کی،دیکھو شائستہ کتنی پیاری لگ رہی ہے۔“صنم کے اس منفرد مزاج نے عبداللہ کو بے حد متاثر کیا۔ صنم اور عبداللہ ایک دن کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کہ عبداللہ کے والد کی کال آگئی تو انہوں نے پوچھا کہاں اور کس کے ساتھ ہو؟ تو صنم نے کہامیری بات کرواؤ اپنے والد سے․․․ چنانچہ جب صنم کی بات ہوئی تو عبداللہ کے والد صنم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی رات عبداللہ کی والدہ کا فون آگیا اور انہوں نے عبداللہ کو بتایا کہ ان کے والد کو صنم سے بات کرکے اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ مجھے صنم سے بات کرکے ایسا لگا جیسے میں اپنی بہو سے بات کررہا ہوں اس لئے تم اس لڑکی سے شادی کرلو۔

۔ چنانچہ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عبداللہ نے صنم کو” پرپوز“کیا اور کہا”بتاؤ صنم جو میں سوچ رہا ہوں تم بھی وہی سوچ رہی ہوں؟“ صنم نے ہاں کردی اور عبداللہ کے والدین صنم کے ہاں رشتہ لے کر آگئے۔ سبرین نے مہمانوں کے لئے کھانا بنایا جو عبداللہ کے والدین کو بہت پسند آیااور انہوں نے سبرین کی تعریفیں شروع کردیں۔اب چونکہ صنم کو امور خانہ داری نہیں آتی تھی اس لئے ان کا جھکاؤ صنم کی بجائے سبرین کی طرف ہونے لگا۔

اور سبرین نے اپنی چھوٹی بہن کو ستانے کے لئے صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور سبرین جو کھانے نہیں بھی بنائے تھے ، ان کریڈٹ بھی خود لینے لگیں جس پر جلد ہی سب کو ان کی شرارت کے بارے میں پتہ چل گیا۔
شادی سادگی سے کیوں ہوئی؟
صنم کے گھر والوں کی خواہش تھی کہ ان کی شادی دھوم دھام سے کی جائے جس میں سینکڑوں شوبز فنکاروں کو دعوت دی جائے مگر عبداللہ نہیں چاہتے تھے صنم کسی شادی ہال سے رخصت ہوں۔

انہوں نے صنم کو سمجھایا کہ جب لڑکی اس گھرسے رخصت ہوتی ہے جہاں اس نے اپنی زندگی گزاری ہو تو رخصتی کے وقت اس کے اپنے ہی نہیں وہ گھر بھی دعا دیتا ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں تم گھر سے رخصت ہوکر گھر ہی آؤ۔صنم کو عبداللہ کی یہ بات پسند آئی اور جھٹ سے عبداللہ کی ہاں میں ہاں ملادی۔ عبداللہ کی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اپنی شادی پر زیادہ لوگوں کو دعوت نہ دے۔

چنانچہ انہوں نے صرف اپنی فیملی کے 10-8 افراد کے ہمراہ صنم سے مسجد میں نکاح کیا اور گھر سے رخصتی ہوگئی۔ جہاں شوبز کی دیگر حسینائیں لاکھوں کے عروسی جوڑے زیب کرتی ہیں وہیں صنم نے محض 5 سے 6 ہزار روپے کی مالیت کا جوڑا اپنی مہندی پر پہنا اور شادی کے دن 4 سے 5 ہزار روپے کی مالیت کا جوڑا زیب تن کرکے سادگی کی منفرد مثال پیش کی۔ عبداللہ نے منہ دکھائی میں صنم کو قرآن شریف دیا اور بھی تحائف تھے مگر صنم کہتی ہیں ” میرے لئے عبداللہ کا سب سے قیمتی تحفہ یہی تھا اس لئے دیگر تحائف جتنے بھی قیمتی کیوں نہ ہوں میرے لئے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔


”گھر کے کام کرنے والی بیوی نہیں ہوں“
عبداللہ کہتے ہیں صنم نے میرے گھر آتے ہی سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا صنم نے میرے گھر والوں کو اس قدر اپنائیت سے قبول کیا ہے کہ میرے سب رشتہ دار صنم کی تعریفیں کرتے ہیں۔صنم کہتی ہیں۔ جب میں کوئی نادانی کردوں یا کسی کے بارے میں کوئی غلط بات کہہ دو تو عبداللہ مجھے فوراََ ٹوک دیتے ہیں۔

میں سمجھتی ہوں اگر میں اتنے مثبت انسان کے ساتھ زندگی گزاروں گی تو میری بھی چھوٹی موٹی خامیاں دور ہوجائیں گی۔یہی حال عبداللہ کا ہے ، جو صنم کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔صنم کہتی حالانکہ میں گھر کے کام کاج کرنے والی بیوی نہیں تھی اور مجھے اپنے بارے میں یہ کہنا باعث شرمندگی محسوس ہوتا ہے کہ مجھے گھر کے کام کاج نہیں آتے اس لئے میں اب کام کاج میں دلچسپی لیتی ہوں لیکن عبداللہ کو میرے کام نہ کرنے سے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر مجھے ان کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا اچھا لگتا ہے۔

Your Thoughts and Comments