منور ظریف کی فنی صلاحیتوں کے سب معترف ہیں

ایک ایسا فنکار جو بام عروج میں داغ مفارقت دے گیا ان کی مزاحیہ اداکاری پاکستان کی فلمی تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہے

جمعرات اپریل

Munawar zareef ki fani salahiyaton ke sab mutarrif hain
 خالد یزدانی
ہالی وڈ،بالی وڈ اور لالی وڈ کے مزاحیہ فنکاروں پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس میں چار لی چپلن ،جیری لوئیس اور نارمن ورڈم ،جان واکر ،محمود ،اسرانی کے ساتھ ظریف کا بھی نام بھی نظر آئے گا ۔آخر الذ کر ظریف کے فنی کیرےئر کی عمر بھی دس سال کے قریب رہی،اس دوران انہوں نے پچاس سے زیادہ اردو اور پنجابی زبان میں بننے والی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ گلوکاری کے میدان میں اپنی صلاحیت کو منوایا ،خاص طور پر فلم چھومنتر کادوگانا
برے نصیب میرے ویری ہو یا پیار مرا
نظر ملا کے کوئی لے گیا قرار مرا
آج بھی زبان زدعام ہے۔


یکم جون 1926ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے بچے کانام محمد صدیق رکھا گیا آگے چل کر اس نے ”ظریف “کے فلمی نام سے جو اداکاری ،خاص طور پر مزاحیہ اداکاری پاکستان کی فلمی تاریخ میں سنہری حرفوں میں رقم ہے ۔

(جاری ہے)

اپنی بے مثال اداکاری سے شائقین فلم کو ہنسانے والا یہ فنکار 30اکتوبر1960ء میں اس وقت انتقال کر گئے جب وہ بام عروج پر تھے۔ظریف مرحوم کی اچانک وفات کے بعد ان کے بھائی منور کو فلمی دنیا نے خوش آمدید کہا اگر چہ وہ ظریف مرحوم کی زندگی ہی میں فلمی دنیا میں قدم رکھ چکا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب نذر اور آصف جاہ جیسے مزاحیہ اداکاروں کے ساتھ اے شاہ شکار پوری ،دلجیت مرزا بھی کسی نہ کسی اردو پنجابی فلم میں نظر آتے ،البتہ ان سب کا سٹائل ایک دوسرے سے جدا تھا۔ظریف کی وفات کے بعد منور ظریف کی فلم “ڈنڈیاں “میں اداکاری کا موقع ملا۔اور یہی منور کی پہلی فلم تھی ۔اس کے بعد منور ظریف کوزیر تکمیل پنجابی فلموں میں کچھ نہ کچھ کردار ملنے لگے اور ہدایتکاروں کے ساتھ فلمی مصنفین کی نظروں میں بھی آتے گئے ،منور ظریف کی اداکاری میں بڑے بھائی ظریف جیسی خصوصیات تو تھیں ہی لیکن مکالموں کی برجستہ ادائیگی کے ساتھ چہرے کے تاثرات پر بھی ان کو کمال حاصل تھا۔

جب کامیاب پنجابی فلموں کے ہدایتکار اسلم ایرانی نے فلم”ہتھ جوڑی“کا آغاز کیا تو اکمل ،نغمہ اور مظہر شاہ جیسے سپر سٹارز کے ساتھ مزاحیہ اداکار کے طور پر منور ظریف کا انتخاب کیا اور منور ظریف نے بھی کردار سے بھر پور انصاف کیا اور اس کو ایک چیلنج سمجھ کرادا کیا۔یہ فلم مصنف حزیں قادری کی بہترین کہانی اور گانوں کی بدولت سپرہٹ ہو گئی۔

فلم ہتھ جوڑی میں زبردست پر فارمنس نے ثابت کر دیا کہ اس میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں جبکہ شائقین فلم کو بھی ہنسانے والا منور ظریف اس فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی پنجابی فلموں کی ضرورت بن گیا اور پھر ایسا وقت بھی آیا جب پنجابی فلموں میں منور ظریف اور خلیفہ نذیر یا منور ظریف اور رنگیلا کا نام لازم وملزوم تھا بلکہ کسی بھی فلم میں ان کا نام اس فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا تھا۔

منورظریف اور رنگیلا کے عروج میں جب وہ فلم بندی کے وقت ”سین“سنتے اور کیمرہ سٹارٹ ہوتا تو دونوں کی آپس میں ”نوک جھوک “یعنی مکالموں کی ادائیگی زیادہ ترفی البدیہہ ہوتی تھی ۔مجھے یاد ہے ”ملک کاباغ“دریا راوی کے ساتھ واقع تھا جہاں زیادہ تر فلموں کے گانے اور سین دن کے وقت فلمبند ہوا کرتے تھے اور غالباً اس کا ایک دن کا کرایہ ایک سو روپیہ ہوتا تھا،جو اس زمانے یعنی ساٹھ ،ستر کی دہائی تک بہت تھا۔

جس پنجابی فلم کی شوٹنگ تھی اس میں چند سین تھے،باغ کے قریب ہیرو اور اس کے مزاحیہ اداکار بطور ساتھی ولن اور ان کے ساتھیوں کے سا تھ فائٹ کرتے ہیں اور ظاہر ہے جب ہیرو اور ولن کی لڑائی ہے تو آخر کارولن اور اس کے ساتھیوں کوراہ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے ۔اس فلم کے سین میں جب ہیرو کے مکے سے ولن بھاگ رہا ہوتا ہے ،تو ولن کے ایک ساتھی کو ہیرو پکڑ کر کہتا ہے ”اگے لگ “اچانک ہیرو کا مزاحیہ ساتھی(منو رظریف)کہتا ہے“لگے اگ“اور ہدایتکارکی آواز گونجتی ہے ”کٹ“اوکے،اور ساتھ ہی سب منور ظریف کو مبارکباد دیتے ہیں کہ تم نے سکرپٹ سے ہٹ کر اچھا اور برجستہ ”مکالمہ“ادا کیا۔

دراصل”لگے اگ“سکرپٹ میں شامل نہیں تھا مگر”سین “کی فلمبندی کے بعد جب فلم نمائش کے لئے پیش کی گئی تو دیکھنے والے بھی منور ظریف کے اس برجستہ مکالمے پرداددیتے نظر آئے۔دراصل منور ظریف میں یہ صلاحیت خداداد تھی۔
منور ظریف نے اگر چہ کئی اردو فلموں خاص طور پر تاج محل میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن
کا میڈین کر دار نبھانے کے ساتھ ان کو فلم کے مرکزی کردار بھی ملنے شروع ہو گئے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب رنگیلا اور منورظریف کے نام سے فلمیں بھی بننے لگیں تھیں۔یہ ستر کی دہائی تھی جب فلم ساز ،ہدایت کار شباب کیرانوی کے ادارے کی فلم”پردے میں رہنے دو“میں رنگیلا نے زبردست پر فارمنس دی تھی اور پھر فلم رنگیلا اور منور ظریف بھی ”سپرہٹ“رہی اور اس کی بطور ٹائٹل یعنی مرکزی کردار پر فلموں کا بھی آغاز ہو گیا۔فلم ”آج دامہینوال“خوشیا،جیرابلیڈ ،بنارسی ٹھگ اور”نوکر ووہٹی وا“اس کی ایسی فلمیں ہیں ،جن میں منور ظریف نے مختلف قسم کے کرداروں کو بڑی خوبی سے نبھایا۔


منور ظریف کی فلم“نوکر ووہٹی دا“انڈیا میں بھی کاپی کی گئی اس میں منور ظریف کا کردار اداکار دھرمیندر نے ادا کیا تھا مگر اس نے کئی بار منور ظریف کی اسی کردار میں پر فارمنس کوبے حد سراہا تھا۔ظریف کی طرح منور ظریف بھی بام عروج پر تھے اور ابھی اسے فلمی دنیا میں آئے پندرہ سال ہی ہوئے تھے کہ 29اپریل 1976ء کو وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔

مگر جب منور ظریف کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو اس کے پرستاروں نے نکلسن روڈ پر واقع آبائی گھر”ظریف منزل“کا رخ کیا۔اسی ظریف منزل کا جہاں سے ظریف مرحوم سفر آخرت پر روانہ ہوئے تھے منور ظریف کی زندگی میں ہی منیرظریف بھی فلموں میں کردار ادا کرتے تھے مگر منورکے انتقال کے بعد چند فلموں میں کام کیا خاص طور پر ہدایتکار کیفی کی فلم ”سجن پیارا“شامل ہے جبکہ ٹی وی کی کئی سیریل میں اس کے کرداروں کو بے حد سراہا گیا۔

”چاچا ٹائم پیس“تو اس کی پہچان بن گیا تھا آج منیر ظریف بھی نہیں رہے بلکہ رشید ظریف کے بعد ظریف کے فرزند پپو ظریف فلم ٹی وی اور سٹیج میں کام کرنے کے بعد برطانیہ چلے گئے تھے جہاں ایک دن دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔منور ظریف کے فرزند فیصل کو بھی دو فلموں”پتر منور ظریف دا“اور پتر جیرابلیڈدا“میں موقع دیا گیا مگر ان دو فلموں کے بعد وہ گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔

آج منور ظریف ایک ایسے فنکار تھا جو عروج میں اس جہان فانی سے کوچ کر گیا مگر اس نے جتنا بھی کام کیااسے آج بھی دیکھنے والے داددے کر اسے یاد رکھے ہوئے ہیں۔ظریف فیملی کی فلمی دنیا میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ واقعی انہوں نے خون جگر سے اس کی آبیاری کی ۔۔۔
پندرہ سالہ فنی کئیر ئر میں تین سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا وہ 35سال کی عمر میں چل بسا تھا۔منیر ظریف ،،مجید ظریف کے علاوہ پپو ظریف نے بھی اداکاری کے جوہر دکھامگر ظریف اور منور جیسی شہرت حاصل نہ کر سکے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments