پاکستانی فلم انڈسٹری یا پڑوسی ملک کی تقلید ؟

اس سب کا ایک اور تاریک پہلو جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ ہماری فلم انڈسٹری کا دیا ہوا ہی تحفہ ہے کہ ادکاراؤں کی دیکھا دیکھی انکی تقلید کرتے ہوئے اپر کلاس کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی خواتین میں بھی دوپٹے کی روایت ختم ہوتی جارہی ہے۔ جو کچھ بھی میڈیا پر دکھایا جاتا ہے

Umaira Najeeb Abbasi عمیرہ نجیب عباسی جمعرات اپریل

Pakistani Film Industry Ya Parosi Mulk Ki Takleed
ذوال پذیر پاکستانی فلم انڈسٹری پچھلے کچھ سالوں میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے اور اب آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بلاشبہ زوال پذیر انڈسٹری کو عروج میں بدلنے میں ہر ایک پاکستانی آرٹسٹ، رائٹر اور دیگر ٹیم نے بہت محنت کی ہے۔ بہت عرصے کی محنت، مسلسل ناکامیوں کے بعد اب یہ وقت آیا ہے کہ پڑوسی ملک اور ہولی ووڈ کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو بھی پسند کیا جارہا ہے ۔ یہ پاکستانی فنکاروں اور مظبوط پلاٹ، پر اثر ڈائیلاگ اور اچھی ایکٹنگ کی بدولت ہے ۔ لیکن ایک چیز جو ان تمام اچھائیوں کو، تمام خوبیوں کو بدنما کر دیتی ہے وہ پڑوسی ملک کی فلموں کی تقلید ہے۔ پاکستانی فلم دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی انڈین فلم ہی دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اداکاراؤں کا لباس ایک انڈین اداکارہ سے مختلف نہیں ہوتا۔ ایک ایسا لباس جس میں عورت کے جسم کی تہشیر کی جارہی ہوتی ہے۔ فلم میں بولڈ سین اور اخلاق سے گرا ہوا مذاق عام ہوتا جارہا ہے۔ ملک کے بچوں اور نوجوان نسل کو عورت کے استحصال کا پیغام دیا جارہا ہے۔ ان سب چیزوں کو فلم کی ڈیمانڈ کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کے ایسے سین نہ ہوں، ایسا نام نہاد ماڈرن لباس نہ ہو تو لوگ فلم دیکھنے نہیں آتے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کی کیا واقعی ہماری عوام یہی دیکھنا چاہتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر کسی بھی نئی فلم یا اداکاراؤں کی اس قسم کی تصاویر پر کیے جانے والے کمنٹس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کے اس پڑوسی ملک کے کاپی کلچر کی وجہ سے ہمارے ملک کے وقار، اسکی عزت اور ہمارے مذہب پہ سوال اٹھایا جائے۔ ہر پوسٹ پر ذیادہ تر لوگوں کی یہی رائے سامنے آئی ہے کہ بے ہودہ مذاق، آئٹم نمبرز، عورت کو شو پیس دکھانے والے کمرشلز اور عورت کے جسم کو نمایاں کرنے والا لباس ہمارے میڈیا کو نہیں دکھانا چاہئے۔
یہاں ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے بنے ملک سے اس طرح کی فلم دکھا کر اس ملک کے نام کو کی نفی کی جارہی ہے۔ اگر ہمیں وہی کلچر، وہی تہذیب اپنانی تھی تو کیوں ہمارے اسلاف نے اپنی جان، مال اور عزتوں کی قربانی دی، جن عزتوں کی قربانی انہوں نے اس لیے دی کہ آنے والی نسلوں، آنے والی بیٹیوں کی عزت پہ حرف نہ آئے، آج وہی بیٹیاں فخر سے آئٹم نمبر کرتی پھرتی ہیں، اسے اپنے فن کی تشہیر سمجھتی ہیں۔ آئٹم ننمبر کے لئے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں ''اقبال کے شاہین'' گدھ بنے بھوکی نظریں لئے ایک لڑکی کے گرد اور اس کے قدموں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیٹی ان کے بیچ ناچتی ہوئی انھیں اپنے نازوانداذ دکھا رہی ہوتی ہے۔ یہی ماحول، یہی حوس کا پیغام دینے کے بعد ہمارے یہ فنکار معصوم بچیوں کے ساتھ ذیادتی کے خلاف مہم چلاتے اور ٹویٹس کے زریعے افسوس کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر عورت کی عزت کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس سب کا ایک اور تاریک پہلو جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ ہماری فلم انڈسٹری کا دیا ہوا ہی تحفہ ہے کہ ادکاراؤں کی دیکھا دیکھی انکی تقلید کرتے ہوئے اپر کلاس کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی خواتین میں بھی دوپٹے کی روایت ختم ہوتی جارہی ہے۔ جو کچھ بھی میڈیا پر دکھایا جاتا ہے، عوام اسکی اندھا دھند تقلید میں میں مصروف ہے۔ عورتوں کے آنچل غائب اور آستینیں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں ، لڑکیاں ٹی-وی پر دکھایا جانے والا بے ہودہ لباس پہن رہی ہیں اور گھر کے مردوں کی غیرت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ کہا جاتا ہے کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اسکے ساتھ چلنے والی عورت کے لباس سے لگایا جاتا ہے پر یہاں تو غیرت چھوٹی سے چھوٹی ہوتی چلی جارہی ہے..

اب مغربی اور غیر اسلامی لباس اتنا عام کردیا گیا ہے کہ نوجوان لڑکے جب گھر کی عورتوں کو پہنے دیکھتے ہیں تو انہیں معیوب نہیں لگتا کیونکہ ہر وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوان اب اس چیز کے عادی ہو چکے ہیں. لیکن بزرگ ضرور اعتراض کرتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کا کم سے کم استعمال کی بدولت یہ زہر ابھی ان کو اپنا عادی نہیں بنا سکا۔
کوئی بھی ٹرینڈ اپر کلاس فیشن انڈسٹری، فلم انڈسٹری کی دیکھا دیکھی اپناتی ہے اور یہاں سے مڈل کلاس اس کو رواج بنا لیتی ہے۔ جیسے کہ شادی بیاہ پر ناچ گانا، بہن بھائیوں اور خاندان بھر کے کزنز کا آپس میں ڈانس کرنا اور غیر اسلامی رسومات۔ اسی طرح شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر ذیادہ سے ذیادہ کوشش یہی کی جاتی ہے کہ فلانی اداکارہ، فلانے اداکار جیسی رسومات ان جیسے ملبوسات پہنے جائیں اور اس چکر میں یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیر اسلامی رسم ہے، پڑوسی ملک کی تقلید کرتا ہوا لباس ہے۔ یہ سب کبھی بھی ہماری روایات، ہمارے مذیب میں شامل نہیں رہا...ہمارا کلچر حیا کا کلچر تھا لیکن اب یہ بے حیائی کے بے ہنگم شور میں دب کر رہ گیا ہے۔
یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ فلم کا، ڈرامہ کا، سوشل میڈیا کا اور اداکاروں کا ایک عام انسان کی ذندگی پر کتنا اثر ہے تو ہم اسے مثبت پہلو سے سامنے لے کہ آئیں۔ اپنے کلچر اور روایات کو مد نظر رکھ کر فلم بنائیں اور لباس کا خیال رکھیں۔ ایک خوب صورت اداکارہ مغربی لباس سے کہیں ذیادہ مشرقی لباس میں اچھی لگتی ہے اور انکی دیکھا دیکھی نوجوان لڑکیاں بھی اسی قسم کا لباس پہنیں گی۔
ہر وقت انٹرنیٹ سکرول کرنے والی نوجوان نسل اداکاراؤں کی دیکھا دیکھی انکی تقلید کرنے میں مصروف ہے۔ بہت سے لوگ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اس چیز کو، اس پڑوسی ملک کے کاپی کلچر کو پسند نہیں کرتے.

آئٹم نمبرز کے متعلق پوسٹس پر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے کمنٹس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے. لیکن باوجود اس کے حالات پہلے سے بدتر ہوتے جارہے ہیں. عوام کی ناپسیندگی جاننے کے باوجود آئٹم نمبرز، بولڈ سین اور نازیبا لباس، کچھ بھی نہیں بدلا جارہا. مشہور اداکاراؤں کا تنقید پہ جواب یہ ہوتا ہے کہ ہماری مرضی ہم جو بھی پہنیں، ذاتی ذندگی اور آئٹم نمبرز میں ڈانس ہمارے فن کی علامت ہے وغیرہ وغیرہ.

تو یہاں بات آتی ہے کہ اگر آپ میڈیا پر آرہے ہیں اور کوئی ایسا کام کر رہے جس سے ملک کی کسی بھی طریقے سے نمائندگی کی جارہی ہو تو پھر ساری عوام آپ سے سوال کر سکتی ہی، تنقید کرسکتی ہے. کیونکہ ملک ساری عوام کا ہے، عالمی دنیا کے سامنے جو امیج جاتا ہے وہ ملک کا، ساری عوام کا جاتا ہے. اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دکھائی جانے والی فلمیں اگر ایک غیر اسلامی ملک سے ملتی جلتی ہوں گی تو کیا فائدہ ہوا ملک بنانے کا جب غیر مسلم ہماری فلم دیکھیں اور سوال کریں کہ کیا یہ ہے وہ دین جس کی تم لوگ تبلیغ کرتے ہو، مسلمانو! تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے...

جی ہاں، یہ ہے جواب عوام کا تمام اداکار اور اداکاراؤں کی ذادیات میں گھسنے اور ان کے فن میں کیڑے نکالنے کا ۔
اسی طرح انڈیا جا کے کام کرنے کو پاکستانی فنکار اپنے لئے بہت اچھا سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈین انڈسٹری کامیاب انڈسٹری ہے. لیکن انڈیا جا کے ملک کے وقار کو نظرانداز کرنا غلط ہے. وہاں جا کر ہمارے فنکار اپنے ملک کے وقار اور اسلامی تشخص کا خیال رکھتے ہوئے رول ادا نہیں کرتے بلکہ کسی بھی قسم کا رول ادا کرلیتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی بے ہودہ کیوں نہ ہو.

ایک پاکستانی فنکار کو چاہئے کہ وہ انہیں باور کروایے کہ وہ کوئی بھی معیوب رول ادا نہیں کرے گا... اگر بھارتی میڈیا کو پاکستانی فنکار کے فن کی اتنی ہی ضرورت ہو گی تو انہیں انکی ڈیمانڈز کے ساتھ ہی قبول کریں گے.
 اس حوالے سے حمزہ علی عباسی بھی اپنی آواز ہر پلیٹ فارم پر ببانگ دہل اٹھا چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب بے حیائی کے اس طوفان کے خلاف آواز اٹھائیں قبل اس کے کہ ہمارا معاشرے میں عورت ذات کے ساتھ عزت و وقار کا کوئی جوڑ نہ رہے....

اور بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ کوئی بھی ایسی فلم ہو جس میں عورت کا استحصال ہو، آئٹم نمبر ہو یا غیر مناسب لباس اور اخلاق سے عاری مذاق ہو اس فلم کا ہم بائیکاٹ کریں اور لوگوں کو اس بات کی آگاہی دیں۔
کافی عرصے سے ذوال پذیر پاکستانی فلم انڈسٹری پچھلے کچھ سالوں میں اپنا نام بنانے می?ں کامیاب ہو چکی ہے اور اب آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے.

بلاشبہ زوال پزیر انڈسٹری کو عروج میں بدلنے میں ہر ایک پاکستانی آرٹسٹ، رائٹر اور دیگر ٹیم نے بہت محنت کی ہے. بہت عرصے کی محنت، مسلسل ناکامیوں کے بعد اب یہ وقت آیا ہے کہ پڑوسی ملک اور ہولی ووڈ کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو بھی پسند کیا جارہا ہے. اور یہ پاکستانی فنکاروں اور مظبوط پلاٹ، پر اثر ڈائیلاگ اور اچھی ایکٹنگ کی بدولت ہے.

لیکن ایک چیز جو ان تمام اچھائیوں کو، تمام خوبیوں کو بدنما کر دیتی ہے وہ پڑوسی ملک کی فلموں کی تقلید ہے. پاکستانی فلم دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی انڈین فلم ہی دیکھ رہے ہیں. اداکاراؤں کا لباس ایک انڈین اداکارہ سے مختلف نہیں ہوتا.ایک ایسا لباس جس میں عورت کے جسم کی تہشیر کی جارہی ہوتی ہے. فلم میں بولڈ سین اور اخلاق سے گرا ہوا مذاق عام ہوتا جارہا ہے.

ملک کے بچوں اور نوجوان نسل کو عورت کے استحصال کا پیغام دیا جارہا ہے. ان سب چیزوں کو فلم کی ڈیمانڈ کہا جاتا ہے... کہتے ہیں کے ایسے سین نہ ہوں، ایسا نام نہاد ماڈرن لباس نہ ہو تو لوگ فلم دیکھنے نہیں آتے.. یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کی کیا واقعی ہماری عوام یہی دیکھنا چاہتی ہے.. لیکن سوشل میڈیا پر کسی بھی نئی فلم یا اداکاراؤں کی اس قسم کی تصاویر پر کیے جانے والے کمنٹس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کے اس پڑوسی ملک کے کاپی کلچر کی وجہ سے ہمارے ملک کے وقار، اسکی عزت اور ہمارے مذہب پہ سوال اٹھایا جائے.

ہر پوسٹ پر ذیادہ تر لوگوں کی یہی رائے سامنے آئی ہے کہ بے ہودہ مذاق، آئٹم نمبرز، عورت کو شو پیس دکھانے والے کمرشلز اور عورت کے جسم کو نمایاں کرنے والا لباس ہمارے میڈیا کو نہیں دکھانا چاہئے.
یہاں ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے بنے ملک سے اس طرح کی فلم دکھا کر اس ملک کے نام کو کی نفی کی جارہی ہے. اگر ہمیں وہی کلچر، وہی تہذیب اپنانی تھی تو کیوں ہمارے اسلاف نے اپنی جان، مال اور عزتوں کی قربانی دی.

جن عزتوں کی قربانی انہوں نے اس لیے دی کہ آنے والی نسلوں، آنے والی بیٹیوں کی عزت پہ حرف نہ آئے، آج وہی بیٹیاں فخر سے آئٹم نمبر کرتی پھرتی ہیں، اسے اپنے فن کی تشہیر سمجھتی ہیں. آئٹم ننمبر کے لئے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں مرد، ''اقبال کے شاہین'' گدھ بنے بھوکی نظریں لئے ایک لڑکی کے گرد اور اس کے قدموں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیٹی ان کے بیچ ناچتی ہوئی انھیں اپنے نازوانداذ دکھا رہی ہوتی ہے.

اور یہی ماحول، یہی حوس کا پیغام دینے کے بعد ہمارے یہ فنکار معصوم بچیوں کے ساتھ ذیادتی کے خلاف مہم چلاتے اور ٹویٹس کے زریعے افسوس کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں. اور پھر عورت کی عزت کرو کا تقاضا کرتے ہیں.
اس سب کا ایک اور تاریک پہلو جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ ہماری فلم انڈسٹری کا دیا ہوا ہی تحفہ ہے کہ ادکاراؤں کی دیکھا دیکھی انکی تقلید کرتے ہوئے اپر کلاس کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی خواتین میں بھی دوپٹے کی روایت ختم ہوتی جارہی ہے.

جو کچھ بھی میڈیا پر دکھایا جاتا ہے، عوام اسکی اندھا دھند تقلید میں میں مصروف ہے. عورتوں کے آنچل غائب اور آستینیں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں. اور لڑکیاں ٹی-وی پر دکھایا جانے والا بے ہودہ لباس پہن رہی ہیں اور گھر کے مردوں کی غیرت کہیں دکھائی نہیں دیتی. کہا جاتا ہے کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اسکے ساتھ چلنے والی عورت کے لباس سے لگایا جاتا ہے پر یہاں تو غیرت چھوٹی سے چھوٹی ہوتی چلی جارہی ہے..

اب مغربی اور غیر اسلامی لباس اتنا عام کردیا گیا ہے کہ نوجوان لڑکے جب گھر کی عورتوں کو پہنے دیکھتے ہیں تو انہیں معیوب نہیں لگتا کیونکہ ہر وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوان اب اس چیز کے عادی ہو چکے ہیں. لیکن بزرگ ضرور اعتراض کرتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کا کم سے کم استعمال کی بدولت یہ زہر ابھی ان کو اپنا عادی نہیں بنا سکا....
کوئی بھی ٹرینڈ اپر کلاس فیشن انڈسٹری، فلم انڈسٹری کی دیکھا دیکھی اپناتی ہے اور یہاں سے مڈل کلاس اس کو رواج بنا لیتی ہے.

جیسے کہ شادی بیاہ پر ناچ گانا، بہن بھائیوں اور خاندان بھر کے کزنز کا آپس میں ڈانس کرنا اور غیر اسلامی رسومات. اسی طرح شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر ذیادہ سے ذیادہ کوشش یہی کی جاتی ہے کہ فلانی اداکارہ، فلانے اداکار جیسی رسومات ان جیسے ملبوسات پہنے جائیں اور اس چکر میں یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیر اسلامی رسم ہے، پڑوسی ملک کی تقلید کرتا ہوا لباس ہے...

یہ سب کبھی بھی ہماری روایات، ہمارے مذیب میں شامل نہیں رہا...ہمارا کلچر حیا کا کلچر تھا لیکن اب یہ بے حیائی کے بے ہنگم شور میں دب کر رہ گیا ہے...
یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ فلم کا، ڈرامہ کا، سوشل میڈیا کا اور اداکاروں کا ایک عام انسان کی ذندگی پر کتنا اثر ہے تو ہم اسے مثبت پہلو سے سامنے لے کہ آئیں. اپنے کلچر اور روایات کو مد نظر رکھ کر فلم بنائیں اور لباس کا خیال رکھیں.

ایک خوب صورت اداکارہ مغربی لباس سے کہیں ذیادہ مشرقی لباس میں اچھی لگتی ہے اور انکی دیکھا دیکھی نوجوان لڑکیاں بھی اسی قسم کا لباس پہنیں گیں.
ہر وقت انٹرنیٹ سکرول کرنے والی نوجوان نسل اداکاراؤں کی دیکھا دیکھی انکی تقلید کرنے میں مصروف ہے. بہت سے لوگ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اس چیز کو، اس پڑوسی ملک کے کاپی کلچر کو پسند نہیں کرتے.

آئٹم نمبرز کے متعلق پوسٹس پر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے کمنٹس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے. لیکن باوجود اس کے حالات پہلے سے بدتر ہوتے جارہے ہیں. عوام کی ناپسیندگی جاننے کے باوجود آئٹم نمبرز، بولڈ سین اور نازیبا لباس، کچھ بھی نہیں بدلا جارہا. مشہور اداکاراؤں کا تنقید پہ جواب یہ ہوتا ہے کہ ہماری مرضی ہم جو بھی پہنیں، ذاتی ذندگی اور آئٹم نمبرز میں ڈانس ہمارے فن کی علامت ہے وغیرہ وغیرہ.

تو یہاں بات آتی ہے کہ اگر آپ میڈیا پر آرہے ہیں اور کوئی ایسا کام کر رہے جس سے ملک کی کسی بھی طریقے سے نمائندگی کی جارہی ہو تو پھر ساری عوام آپ سے سوال کر سکتی ہی، تنقید کرسکتی ہے. کیونکہ ملک ساری عوام کا ہے، عالمی دنیا کے سامنے جو امیج جاتا ہے وہ ملک کا، ساری عوام کا جاتا ہے. اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دکھائی جانے والی فلمیں اگر ایک غیر اسلامی ملک سے ملتی جلتی ہوں گی تو کیا فائدہ ہوا ملک بنانے کا جب غیر مسلم ہماری فلم دیکھیں اور سوال کریں کہ کیا یہ ہے وہ دین جس کی تم لوگ تبلیغ کرتے ہو، مسلمانو! تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے...

جی ہاں، یہ ہے جواب عوام کا تمام اداکار اور اداکاراؤں کی ذادیات میں گھسنے اور ان کے فن میں کیڑے نکالنے کا...
اسی طرح انڈیا جا کے کام کرنے کو پاکستانی فنکار اپنے لئے بہت اچھا سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈین انڈسٹری کامیاب انڈسٹری ہے. لیکن انڈیا جا کے ملک کے وقار کو نظرانداز کرنا غلط ہے. وہاں جا کر ہمارے فنکار اپنے ملک کے وقار اور اسلامی تشخص کا خیال رکھتے ہوئے رول ادا نہیں کرتے بلکہ کسی بھی قسم کا رول ادا کرلیتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی بے ہودہ کیوں نہ ہو.

ایک پاکستانی فنکار کو چاہئے کہ وہ انہیں باور کروایے کہ وہ کوئی بھی معیوب رول ادا نہیں کر گا... اگر بھارتی میڈیا کو پاکستانی فنکار کے فن کی اتنی ہی ضرورت ہو گی تو انہیں انکی ڈیمانڈز کے ساتھ ہی قبول کریں گے.
 اس حوالے سے حمزہ علی عباسی بھی اپنی آواز ہر پلیٹ فارم پر ببانگ دہل اٹھا چکے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب بے حیائی کے اس طوفان کے خلاف آواز اٹھائیں قبل اس کے کہ ہمارا معاشرے میں عورت ذات کے ساتھ عزت و وقار کا کوئی جوڑ نہ رہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ کوئی بھی ایسی فلم ہو جس میں عورت کا استحصال ہو، آئٹم نمبر ہو یا غیر مناسب لباس اور اخلاق سے عاری مذاق ہو اس فلم کا ہم بائیکاٹ کریں اور لوگوں کو اس بات کی آگاہی دیں۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments