بالی وُڈ فلمیں‘ہالی وُڈ اور لالی وُڈ کا چربہ

یہ ہے دُنیا کی دُوسری بڑی فلم انڈسٹری کہانی،گانے،دُھنیں اور مکالمے ڈھٹائی سے چوری کئے جاتے ہیں

اتوار اپریل

Bollywood filmain  hollywood aur lollywood ka charba
 چودھری عبدالخالق
یوں تو بھارتی فلم ساز اپنی فلم انڈسٹری (بالی وڈ )کو دُنیا کی دوسری بڑی انڈسٹری قرار دیتے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی اکثر فلمیں انگریزی فلموں کا چربہ ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنے رنگ میں رنگ کر مارکیٹ میں نمائش کے لئے پیش کر دیتے ہیں ۔ان کے کہانی نویس،شاعر اور موسیقار بھی اب محنت کرنے کی بجائے چوری کا سہارا لیتے ہیں اور فلمی کہانیاں ،فلمی گیت اور دُھنیں چوری کرتے ہوئے انہیں ذرا شرم محسوس نہیں ہوتی۔


فلم سازوں کو تو چھوڑیں چوری کا گانا گانے والے گلوکاروں میں بھی اتنا شعور اور حوصلہ نہیں کہ وہ چربہ گانے گانے سے انکار کر دیں نہ ہی ان کے بڑے بڑے ایکٹرز کو یہ جرأت ہوتی ہے کہ وہ چربہ گانے اپنے اوپر فلمانے سے انکار کریں حالانکہ وہ چاہیں تو فلمساز کو اس پر بخوبی رضا مند کر سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس کی ایک چھوٹی سی مثال کچھ عرصہ پہلے ہندوستان میں بننے والی ایک فلم ”ٹھگز آف ہندوستان“ہے جس میں پاکستانی گلوکار سلیم جاوید کا مشہور گیت”وش ملے“بغیر کسی ردوبدل کے یعنی ہو بہوڈال دیا گیا تھا اور مزے کی بات یہ کہ یہ گیت چوٹی کے اداکاروں عامر خان اور امیتابھ پر فلمایا گیا تھا جبکہ فلم کی ہیروئن کترینہ کیف تھیں ۔


سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے فنکاروں کو پتہ نہیں تھا کہ ان پر پکچرائز کیا جانے والا گیت ایک پاکستانی گیت ہے ۔اگر اتنے بڑے فنکار اس گیت کو بدلوانے کی کوشش کرتے تو کیوں نہ پروڈیوسراسے تبدیل کرتا مگر بات تو وہی ہے کہ سب نے شرم گھول کر پی رکھی ہے ۔دُنیا کے معروف گلوکار نصرت فتح علی خان کی شُہرہ آفاق قوالی”دم مست قلندر مست مست“بچے گلیوں بازاروں میں گاتے پھرتے تھے پھر اس قوالی کو بھی انہوں نے نغمے”تو چیز بڑی ہے مست مست“میں تبدیل کر دیا جسے فلم’مُہرہ “میں شامل کیا گیا اور اکشے کمار پر عکس بند کیا گیا تھا۔


فیض احمد فیض کی ایک غزل کا ایک مشہور مصرعہ ”تیری آنکھوں کے سوادُنیا میں رکھا کیا ہے“ہندوستان کے معروف شاعر مجروح سلطان پوری کو یہ مصر عہ اتنا پسند آیا اور اسے اپنے ایک فلمی گانے میں استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن ان کا ظرف دیکھئے کہ انہوں نے صرف ایک شعر کے ایک مصرعے کیلئے فیض احمد فیض سے باقاعدہ درخواست کرکے ان سے یہ شعر مانگا اور ان کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد اس شعر کو اپنے گانے کا مُکھڑا بنا یا اور اس پر پورا گانا لکھ دیا۔

یہ گانا انہوں نے فلم ”چراغ“کیلئے لکھا تھا جس کی موسیقی مدھن موہن نے ترتیب دی تھی۔
اس گانے کو لتا منگیشکر نے گایا اور محمد رفیع نے بھی گایا تھا،اسے سنیل دت اور آشاپاریکھ پر فلم بند کیا گیا تھا۔خوبصورت شاعری اور دلکش دُھن کی وجہ سے یہ گانا سُپرہٹ ثابت ہوا تھا۔مجروح سلطان پوری بہت بڑے شاعرتھے،وہ چاہتے تو یہ شعر بغیر پوچھے اپنے گانے میں ڈال لیتے مگر بات صرف اور صرف وضع داری کی تھی وہ اپنے نام کیساتھ چوری کا دھبہ نہیں لگوانا چاہتے تھے ۔

اب تو حال یہ ہے کہ پورے کا پورا گیت دُھن سمیت اپنے گلوکاروں کی آواز میں ریکارڈ کرکے اپنی فلموں میں ڈال لیا جاتا ہے ۔ایسے پاکستانی گانوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں انڈیا نے چراکر اپنی فلموں کی زینت بنایا۔
ہمارے لئے یقینا یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ہمارے شاعر اور موسیقار اتنے بڑے تخلیق کار ہیں کہ ہندوستان کی فلم انڈسٹری اُن کے گیت چرا کر ایک طرح سے ان کی صلاحیتوں کو داد تحسین پیش کرتی ہے ۔

ان گانوں کو تو ہم بعد میں ڈسکس کریں گے جنہیں ہو بہو یا بول بدل کر اصلی دھنوں کے ساتھ بھارتی فلموں میں شامل کیا گیا مگر اس سے پہلے ذرا بالی وُڈ کی چربہ فلموں کی بات کرلیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت70فیصد کے قریب ہالی وُڈکی فلمیں معمولی ردو بدل کرکے بالی وُڈ میں بنائی جارہی ہیں جنہیں ہندی اداکاروں کیساتھ ہندی ز بان میں فلما کر نمائش کے لیے پیش کر دیا جاتا ۔

بالی وُڈکے فلمسا زوں کی اکثریت دوسروں کی شاعری ،کہانیاں ،میوزک اور مکالمے تو چوری کرتے ہی تھے اب انہوں نے انگلش فلموں کے پوسٹرز بھی چوری کرنے شروع کر دئیے ہیں ۔اسی طرح ایک اور اطلاع کے مطابق جب تک ہے جان ،ایجنٹ،ونود،زندگی پھر نہ ملے گی دوبارہ اور شاہ رُخ خان کی فلم زیرو کے علاوہ اور بھی کئی فلموں کے پوسٹرز انگلش فلموں کے نقل کئے گئے ہیں ۔

یہ ہیں دُنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری کہلانے والوں کے کارنامے۔
پاکستان میں ”نوکرووہٹی دا“کے نام سے ایک پنجابی فلم بنی تھی جو ایک کامیڈی فلم تھی ،اس میں ہیروکارول ہنسی کے شہنشاہ منور ظریف نے ادا کیا تھا جن کی بے ساختہ اداکاری نے لوگوں کے دل جیت لئے تھے ،آسیہ اس فلم کی ہیروین اور ممتاز سائیڈ ہیروئن تھیں۔باکس آفس پر یہ فلم بڑی کامیاب رہی اور ناقدین کے مطابق یہ فلم منور ظریف کی زندگی کی ایک یادگار فلم تھی جس نے پاکستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ۔

ہندوستان میں بھی اس فلم کو بہت پسند کیا گیا ،اس کی اتنی پذیرائی دیکھ کر بالی وُڈ کے پیٹ میں مڑور اُٹھے اور انہوں نے ”نوکربیوی کا“کے نام سے ایک اُردو فلم بنالی جس میں اس وقت کے نامور اداکار دھر میندر ہیرو تھے ۔
اب ان کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ کاپی رائٹ ایکٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نہ صرف تھوڑا ساتڑ کہ لگا کر پوری کی پوری فلم ہو بہو نقل کی گئی بلکہ اس کے سکرین پلے اور ڈائیلا گز تک بغیر کسی ردو بدل کے اس فلم میں دو ہرائے گئے۔

ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہندوستان میں فلم”نوکربیوی کا“کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی مگر اس کے ہیرو دھر میندر نے بعد میں یہ اقرار ضرور کیا تھا کہ اس فلم میں وہ منور ظریف کے معیار کا کام کرنے سے قاصر رہے ۔اسی طرح کئی دوسری فلموں کے مکالمے اور کہانیاں بھی چوری کرکے بھارت میں فلمیں بنائی گئیں،ان میں پاکستان کی پنجابی فلم ”شیر خان “اور ”مولا جٹ“کے علاوہ اردو فلم ”آئینہ“اور ”بدنام“بھی شامل ہیں۔


نقل آخر نقل ہوتی ہے ،اس پر کتنی بھی محنت کرلی جائے اس میں اصل کام جیسی جان نہیں ڈالی جاسکتی ۔اس کی بہترین اور مشہور مثال یہ ہے کہ مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن اپنے وقت کے بہترین اداکار تھے،اس زمانے میں بلیک اینڈ وائٹ فلمیں بنتی تھیں جن میں آواز بھی نہیں ہوتی تھی مگر اس کے باوجود چارلی چیپلن اپنی بے مثال اداکاری سے فلم میں ایسی جان ڈال دیتے کہ ان کی فلمیں دیکھ کرلوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے ۔

آج بھی ان کی فلمیں دیکھیں تو بڑا لطف آتا ہے ۔اس عظیم اداکار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اس کی زندگی میں ہی اداکاری کا بہت بڑا مقابلہ کروایا گیا،اس مقابلے کے شرکاء نے چارلی چیپلن کی نقل کرنا تھی اور مقابلہ جیتنے والے کو بہت بڑا انعام ملنا تھا۔
چارلی چیپلن کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ بھی بھیس بدل کر اس مقابلے میں شامل ہو گیا مگر حیران کن طور پر وہ مقابلہ ہار گیا یعنی اپنی نقل خود نہ کر سکا۔

یہ بات بڑے بڑے اداکاروں نے تسلیم کی ہے کہ مزاحیہ اداکاری ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ،یہ بڑا مشکل کام ہے ،ہمارے ہاں ایسے سینکڑوں فنکار موجود ہیں جو مزاحیہ اداکار رنگیلا اور منور ظریف کی نقل کرتے ہیں ،ان میں سے بہت سے ان کی بڑی اچھی نقالی کرتے ہیں مگر بات وہی ہے کہ وہ اصل تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایکٹنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس کی نقالی ہوہی نہیں سکتی۔


اگر چہ کچھ پاکستانی فلمسازوں نے بھی بھارتی فلموں کی کاپی کی مگر ان کی تعداد بہت کم ہے ۔اپنے وقت کے ایک معروف فلم ساز کے متعلق مشہور تھا کہ وہ بھارتی فلموں کی کاپی کرتے ہیں ۔بہر حال ہمارے ملک میں ایسی فلمیں بنانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہی ہے ۔اِدھر اُدھر سے نقلیں مار کر فلمیں بنانے کی سب سے بڑی وجہ صرف یہی ہے کہ کوئی بھی کاپی رائٹ ایکٹ کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی ایسی فلمیں بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔

اگر نقل کرنے والے اپنے ہی ضمیر کی آواز سن لیں تو یہ کام نہ کریں۔
اب آتے ہیں ان گانوں کی طرف جنہیں بھارت میں ہو بہو یا شاعری میں ردو بدل کرکے اسی دُھن میں نقل کیا گیا۔ہماری فلموں کے یہ گانے جن معروف گلوکاروں نے گائے تھے ان میں مہدی حسن،نور جہاں،نصرت فتح علی خاں،ناہید اختر ،مجیب عالم ،نسیم بیگم اور نذیر بیگم شامل ہیں ۔ایسے گانوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سے چیدہ چیدہ مشہور نغمے یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔


ہماری بہت ہی اچھی گلوکارہ ناہید اختر نے ایک گانا گایا تھا
”یہ رنگینی نو بہار اللہ اللہ“
اس کی شاعری بدل کر”مجھ کو مل گیا میرا پیار اللہ اللہ“بھارت کی ایک فلم میں کرینہ کپور پر پکچرائز کیا گیا اور ناہید اختر کی ہی آواز میں گایا ہوانذر شباب کی فلم ”شمع“میں محمد علی اور زیبا پر فلمایا گیا نغمہ”کسی مہربان نے آکے میری زندگی سجاد ی“کو اسی شاعری اور دُھن میں بھارتی فلم ”کل کی آواز میں“شامل کرکے اداکارہ امریتا سنگھ پر عکس بند کیا گیا۔

شباب کیر انوی کی سُپرہٹ فلم”میرانام ہے محبت“بابرہ شریف اور غلام محی الدین کی پہلی فلم تھی جن پر یہ گانا فلمایا گیا تھا”پیاساکنویں کے پاس آتا ہے “بعد میں اسی گانے کو سلمان خان اور مادھوری پر فلما کر فلم ”دل تیرا عاشق “میں شامل کر لیا گیا۔
بھارتی فلم سازوں کا حال تو یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستانی گانا انہیں پسند آجائے تو بغیر کسی حیل وحجت کے اپنی فلموں میں شامل کر لیتے ہیں ۔

مہدی حسن کا گایاہوا فلم ”آبشار “کا سُپرہٹ گانا”بہت خوبصورت ہے میرا صنم“جسے ندیم اور شبنم پر عکس بند کیا گیا تھا بعد اس گانے کی تھوڑی سی شاعری تبدیل کرکے”بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم“کر دیا گیا اور سلمان خان اور مادھوری کی فلم ”ساجن“ میں شامل کر لیا گیا۔حسن طارق کی فلم”شمع اور پروانہ“میں ندیم پر فلمایا جانے والا نغمہ ”میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا“بڑا ہٹ ہوا تھا جسے مجیب عالم نے گایا تھا اس گانے کو بھارتی فلم ”نذرانہ “میں راجیش کھنہ پر پکچرائز کیا گیا
۔


بھارتی فلم”دل کا کیا قصور“میں شامل جانے والایہ گانا”گارہاہوں اس محل میں آپ کی عنایت ہے“
ہمارے معروف ہدایت کار پرویز ملک کی فلم ”زنجیر “میں مہدی حسن کی آواز میں گایا ہوا گانا”نہ کوئی گلہ ہے مجھ کو نہ کوئی شکایت ہے “کا چربہ تھا۔یہ گانا بھی ندیم پر عکس بند کیا گیا تھا۔اسی طرح مہدی حسن اور مہناز کی آوازوں میں گایا ہوا فلم ”خوشبو “کا ایک گانا بڑا مقبول ہوا تھا جس کے بول تھے”میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے“رانی ،ممتاز اور شاہد پر عکس بند ہوا تھا۔

اس گانے کو بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بھارتی فلم”پبلک“میں شامل کر لیا گیا۔
یہ قدرتی امر ہے کہ جب کوئی گانا سپر ہٹ ہو جاتا ہے تو وہ لوگوں کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتا ہے اور وہ کبھی بھی اسے بھول نہیں پاتے۔ہم اپنی بات کریں تو ہمیں نصف صدی پہلے گائے جانے والے سپرہٹ گانے آج تک نہیں بھولے اور یہ گانے پورے کے پورے یاد ہیں ۔اب کوئی پرانی دھن پر بناہوا نیا گانا سن لیں تو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس گانے کی نقل ہے ۔

بھارت میں ہمارے کئی ایسے گانے بھی چرائے گئے ہیں جو اصل گانوں کے پچیس پچیس تیس تیس سالوں کے بعد بنائے گئے ۔
مثلاً ہماری ایک فلم”سہیلی“23دسمبر1960میں ریلیز ہوئی تھی جس کا ایک گانا بڑا سپر ہٹ ہوا تھا”ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیا ر نہیں بھولے“جسے شمیم آراء ،نےئر سلطانہ اور درپن پرپکچرائز کیا گیا تھا،اسی گانے کو 1989ء میں یعنی پورے انتیس (29)سال بعد بھارتی فلم”سوتن کی بیٹی“میں شامل کر لیا گیا جسے اداکارہ ریکھا پر فلمایا گیا تھا۔

اسی طرح ہماری ایک فلم”عظمت“20جولائی1973کو ریلیز ہوئی تھی جس میں مہدی حسن کا سُپر ہٹ گانا تھا”زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں “جو درپن اور نےئر سلطانہ پر فلم بند کیا گیا تھا۔س فلم کی ریلیز کے ٹھیک بائیس سال بعد یعنی1995ء میں بھارت میں”بے وفا صنم“کے نام سے ایک فلم میں ہو بہو نقل کرکے شامل کیا گیا۔بھارتی فلم سازوں کی یہ خام خیالی ہے کہ لوگ اصل گانے کو بھول چکے ہوں گے۔


فن موسیقی سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ اس طرح بالی وُڈ کے فلمساز ہمارے گانے چُرا کر موسیقی میں ہماری بر تری کو قبول کرتے ہیں۔ ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ بالی وُڈ والے ہماری فلمیں ،کہانیاں ،شاعری اور موسیقی تو چراتے آئے ہیں ۔اب تو ان کی انڈسٹری کا یہ حال ہو چکا ہے کہ انہیں بالی وُڈ کی فلموں کے لئے اچھے گلوکار بھی میسر نہیں ہیں اور اپنی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہاں کے فلم ساز پاکسان سے راحت فتح علی خاں،عاطف اسلم اور علی ظفر جیسے گلوکاروں کو بلوا کر اپنی فلموں کے لئے گیت ریکارڈ کرواتے ہیں ۔


دیکھا جائے تو اب ان کی ہر دوسری فلم میں ہمارے ہی گلوکاروں کے گیت شامل ہوتے ہیں ۔یہ تو ایک الگ بات ہے کہ ہمارے گلوکاروں کی آوازیں نقل کرنے والے بھارت میں موجود نہیں ورنہ وہ ہمارے گلوکاروں کو اپنے ہاں بلا کر گیت ریکارڈ کرنے کی بجائے ان کی آوازوں کی بھی نقل کروالیتے ۔جب نصرف فتح علی خاں زندہ تھے تو وہ انہوں نے بالی وُڈ کی فلموں کے لئے بے شمار گیت گائے،وہ نہ صرف ان کے لئے گیت گاتے تھے بلکہ وہ فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دیا کرتے تھے ۔


بھلا کون اس سے انکار کرے گا کہ بھارتی ہندوؤں کی مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں سے انتہائی نفرت کے باوجود پاکستانی فنکار بالی وُڈ کی فلموں کے لئے بھارت کی مجبوری بن چکے ہیں ۔دیکھا جائے تو مسلمان شروع ہی سے بھارتی فلم اندسٹری پر چھائے ہوئے ہیں ۔وہ چاہے مانیں یا نہ مانیں ان کی فلم انڈسٹری مسلمانوں کے ہی زیر نگوں رہی ہے ۔دلپ کمار جیسے لچنڈ اداکار کے مقابلے میں کئی اداکاروں کو لایا گیا مگر دلیپ کمار کارُتبہ کوئی کم نہ کر سکا۔

دلپ کمار سے لے کر آج تک مسلمان فنکار ہی بالی وُڈ پر راج کررہے ہیں ۔
سلمان خان ،عامر خان ،شاہ رُخ خان،عرفان خان،امجد خان،قادر خان اور سیف علی خان جیسے اداکار اپنے فن کا لوہا منوا چکے ہیں ۔گلوکاروں کا ذکر کریں تو مسلمان گلوکار محمد رفیع کا نام ہی کافی ہے اور ہر قسم کے گیت گانے میں ا ن کا کوئی ثانی نہیں پیدا ہوا،ان کی نقالی کرنے والے آج وہاں ے بڑے گلوکار بنے ہوئے ہیں ۔

کہاں سے لائیں گے وہ دنیائے غزل کا شہنشاہ طلعت محمود جیسا گلوکار۔
چاہیے تو یہ کہ بھارتی فلمساز ،تخلیق کار دوسروں کی فلمیں اور گانے چوری کرنے کی بجائے اپنے ملک کے لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ اپنے کام پر محنت کریں ۔اپنے کہانی نویسوں ،سکرپٹ رائٹرز،شاعروں اور موسیقاروں کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ محنت کرکے اپنا اور یجنل کام پیش کریں ۔اگر ان کے تخلیق کاروں سے سوال کریں کہ بھئی تم کیوں اس طرح چربہ سازی کرتے ہوتو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ہمارے فلم ساز ہمیں مجبور کرکے اس طرح کے کام کرواتے ہیں ،ہم نے تو پیسے لینے ہوتے ہیں لہٰذا ان کی مرضی اور کہنے کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments