مسعود رانا پاکستانی محمد رفیع

پلے بیک گلوکاری میں تین عشروں تک حکمرانی کی

پیر اکتوبر

Masood Rana Pakistani Mohammad Rafi
وقار اشرف
پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف پلے بیک گلوکار مسعود رانا کو مداحوں سے بچھڑے 25برس بیت گئے،وہ ایک مکمل اور ور سٹائل گلوکار تھے جنہوں نے لگ بھگ پاکستان فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگنگ پر تین عشروں تک حکمرانی کی۔9جون 1938ء کو میرپور خاص سندھ میں پیدا ہونے والے مسعود رانا نے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور اپنے طویل گائیکی کیریئر کے دوران بے شمار سپر ہٹ فلمی گانے گائے جن میں ”ٹانگے والا خیر منگدا“ نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔

خوب صورت آواز کے مالک مسعود رانا محمد رفیع سے بے حد متاثر تھے جس کی بنا پر انہیں پاکستانی محمد رفیع کے لقب سے بھی پکارا جاتا تھا۔
مسعود رانا نے 1955ء میں کراچی میں ایک میوزک گروپ بھی بنایا جس میں گلوکار اخلاق احمد اور ندیم بیگ جیسے بڑے نام شامل تھے۔

(جاری ہے)

فلم انڈسٹری میں انہیں اداکار ساقی نے پروڈیوسر و ڈائریکٹر شہزاد اقبال کے ذریعے متعارف کروایا اور پہلا فلمی گیت فلم ”انقلاب“ کے لئے گایا لیکن اصل شہرت انہیں فلم ”بنجارن“ سے ملی تھی جس کے بعد جلد ہی ان کا شمار پنجابی اور اُردو کے معروف گلوکاروں میں ہونے لگا،انہوں نے فنی کیریئر کے دوران 700سے زائد گانے ریکارڈ کروائے جن کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔

ان کے مقبول گانوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں فلم ”آئینہ“ کا گانا ”تم ہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تم سے پیار کروں“ فلم ”بدنام“ کا گانا ”کوئی ساتھ دے کہ نہ ساتھ دے یہ سفر اکیلے ہی کاٹ لے“ فلم ”چاند اور چاندنی“ کا گانا ”تیری یاد آگئی غم خوشی میں ڈھل گئے“ سمیت دیگر شامل ہیں۔اگر ایک طرف ”ٹانگے والا خیر منگدا“ کی گونج گلی گلی سنائی دیتی تھی تو دوسری طرف ”تیرے بنایوں گھڑیاں بیتیں“ نے دھوم مچا رکھی تھی۔

فلم”ہمراہی“ کے تمام نغمات بے حد مقبول ہوئے اور مسعود رانا ان گیتوں میں فن کی بلندیوں کو چھوتے نظر آئے۔”جھوم اے دل میرا جان بہار آیا ہے، رکھ دیا قدموں پہ دل نذرانہ،یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے ،عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی،بڑی مہربانی بڑی ہی عنایت ،بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا،بھل جاندے نیں سب غم دنیادے،فلم”نیند ہماری خواب تمہارے“ کا گانا میرا محبوب آگیا من میرا لہراگیا“ اور فلم ”دل لگی“ کا گانا ”آگ لگا کر چھپنے والے سن میرا افسانہ“ جیسے گانے بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔


انہوں نے کئی مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلم ”آگ کا دریا“ میں شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے نغمے”اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں“ کو جس خوب صورتی اور مہارت سے گایا وہ ان کی فنی صلاحیتوں کی ایک روشن مثال ہے ۔انہوں نے دو فلموں میں باقاعدہ ہیرو کا کردار بھی ادا کیا جن میں ایک اردو فلم ”شاہی فقیر“ اور دوسری پنجابی فلم ”دو مٹیاراں“ تھی۔

ملی نغمہ ”ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح“ بھی مسعود کی فنکارانہ عظمت کا مظہر ہے۔
ہدایت کار ایم صادق کی پاکستان میں پہلی اور آخری فلم ”بہارو پھول برساؤ“ میں مسعود رانا کا یہ گانا ”میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا“ بھی بہت مقبول ہوا تھا۔اس کے علاوہ الف لیلیٰ،بنجارن،بدنام،آرزو،ہمراہی،نازنین،مترئی ماں،ذیلدار، مورچہ،گھبرو پُت پنجاب دے،لنگوٹیا،مکھڑا چن ورگا،شیراں دی جوڑی،جوانی مستانی ،روٹی اور بے شمار فلموں میں بھی مسعود رانا کے گیت مقبول ہوئے تھے۔

اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے پنجابی فلموں کے لئے بھی کئی مقبول گانے گائے جن میں ٹانگے والا خیر منگدا ،سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی، یاراں نال بہاراں سجناں،سوچ کے یار بنا ویں بندیا،تیرے ہتھ کی بے دردے آیا پھلاں جیا دل توڑ کے،دل دیاں لگیاں جانے نہ ،یا اپنا کسے نوں کر لے یا آپ کسے داہو ویلیا،سجنو اے نگری داتا دی ایتھے آندا کل زمانہ اور یار منگیا سی رباتیتھوں رو کے کیہڑی میں خدائی منگ لئی گا کر خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر کر لیا۔


وہ ایک درویش صفت انسان تھے ،بھرپور اور کامیاب فلمی کیریئر کے باوجود وہ لاہور میں اپنا ذاتی مکان تک نہیں بنا سکے تھے۔انہوں نے 1960ء کے اوائل سے 1980ء کے اواخر تک فلموں کے لئے گانے گائے۔فلموں کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن کے لئے بھی بہت سے نغمے اور ملی نغمے گائے جو آج بھی اسی طرح سنے اور پسند کئے جاتے ہیں۔فلم ”مجاہد“ میں ”جاگ اُٹھا ہے سارا وطن“ بھی بے حد مقبول نغمات میں شامل ہیں۔

ان کی آواز میں کئی نعتیں بھی بہت مقبول ہوئیں جن میں”کرم کی اک نظر ہم پر خدارا یا رسول اللہ ”فلم ”ہم راہی“،”وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا“(تصویر)اور ”مدینے والے سے میرا سلام کہہ دینا“ (فلم بھیا)شامل ہیں۔مسود رانا عارضی قلب میں مبتلا ہونے کے باعث4اکتوبر1995ء کو خالق حقیقی سے جا ملے تھے مگر ان کے گائے ہوئے گانے ہمیشہ فضاؤں میں گونجتے رہیں گے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments