راج کپور

کامیاب فلم ساز،باصلاحیّت ہدایتکار،بے مثال اداکار

 شوکت رحمان خٹک

فلم ”پھر صبح ہو گئی “میں ساحر کے تحریر کردہ گیتوں میں مکیش کا گایا ہوا یہ گیت اس دور میں زبان زدعام تھا :

”صبح کبھی تو آئے گی “نیز مکیش ہی کا گایا ہوا یہ گیت بھی اس فلم کا مقبول ترین گیت ہے۔آسماں پر ہے خدا اور زمین پر ہم آج کل وہ اس طرف دیکھتا ہے کم 1959ء میں ان کی ”چار دل چار دو سری قسط راہیں “،”آندھی “،”اُستاد “،”کنیا “اور ”میں نشے میں ہوں “ریلیز ہوئیں جن میں سے اخر الذ کردو فلمیں بے حد کامیاب رہیں جن میں ان کی اداکاری قابل ذکر تھی جبکہ ”چار دل چار راہیں “،”آندھی “اور ”اُستاد“بری طرح فلاپ ہو گئیں ۔”کنیا “اور ”میں نشے میں ہوں “کی موسیقی شنکر جے کشن نے دی تھی ،ان کے گیت عوام میں مقبول ہوئے تھے ۔”کنیا “میں ان کی ہیروئن نوتن تھیں جبکہ ”میں نشے میں ہوں “میں ان کے مقابلے میں مالا سنہا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا بہر حال یہ سال گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ کامیاب رہا ۔

1960ء مکمل طور پر ان کا سال تھا کیونکہ اس سال کی ریلیز ہونے والی تمام فلموں نے کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ لوگوں کو ان کا ابتدائی دور یاد آگیا ۔اس سال کی ان کی ذاتی فلم ”جس دیش میں گنگا بہتی ہے “ریلیز ہوئی جس میں انہیں نے اپنی ہیروئن بدل دی تھی یعنی نرگس کی بجائے پدمنی کو لیا تھا ۔فلم کے علاوہ ان کی دواور فلمیں جو دوسرے بینرز تلے تیار ہوئی تھیں ریلیز ہوئیں بھی زبردست مقوبل ہوئیں ان میں ایک ”چھلیا “اور دوسری ”اناڑی “تھی ۔

ان فلموں میں ان کے مقابلے میں اداکارہ نوتن نے بڑی جذباتی اور بے تکلیف اداکاری کی تھی ۔”چھلیا “کے موسیقار کلیان جی آنندجی تھے جبکہ باقی دونوں فلموں کے موسیقار شنکر جے کشن تھے اور نغمہ نگار شیلندر اور حسرت جے پوری تھے ۔ان تینوں فلموں کے اکثر گیت سُپر ہٹ ہوئے جن کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے ۔

1961ء میں ان کی فلمیں ”نذرانہ”،1962ء میں عاشق اور 1963ء میں ”دل ہی تو ہے “آئیں ،یہ تینوں دوسرے فلمسازوں کی فلمیں تھی۔ان سالوں میں انہوں نے اپنی کوئی فلم ریلیز نہیں کی ۔مندرجہ بالافلموں میں صرف ”عاشق “نے کچھ کامیابی حاصل کی جس کے موسیقار بھی شنکر جے کشن تھے جبکہ باقی دونوں فلمیں فلاپ ہوئیں ۔ان سالوں میں ان کی بہت کم فلمیں ریلیز ہونے سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کی مانگ میں روز بروز کمی ہورہی تھی ۔

1964ء میں ان کی معرکتہ الآرا فلم “سنگم “نے کامیابی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دےئے جس کی ہیروئن وجنتی مالا تھی جبکہ اس میں راجندر کمارنے بھی ایک اہم رول کیا تھا ۔راج کپور نے پہلے یہ رول دلیپ کمار کو آفر کیا تھا مگر ان کے انکار کی وجہ سے مجبوراً راجندر کمار کو لینا پڑا تھا۔اس فلم کے موسیقار بھی شنکر جے کشن تھے جبکہ نغمہ نگار حسرت جے پوری اور شیلندر تھے ،اس میں محمد رفیع کی آواز میں یہ گیت اپنے دور کا مقبول ترین گیت تھا۔

”یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہیں ناراض نہ ہونا

کہ تم میری زندگی ہو کہ تم میری بندگی ہو “

بطور اداکار راج کپور کی یہ آخری کامیاب فلم تھی کیونکہ اس کے بعد ان کی ریلیز ہونے والی زیادہ تر فلمیں ناکام ہوئیں اس لئے اس کے بعد انہوں نے اداکاری چھوڑ کر ساری توجہ صرف ہدایتکاری کی طرف مرکوز کردی ۔اسی سال ان کی ایک فلم ”دولہا دلہن “بھی ریلیز ہوئیں جو بری طرح ناکام ثابت ہوئی ۔یہ کسی دوسرے فلمسازکی بنائی ہوئی تھی ۔

1965ء میں ان کی کوئی فلم نہ آئی ۔1966ء میں ”تیری قسم “1967ء میں ”اراؤنڈ دی ورلڈ “اور ”دیوانہ “اور 1968ء میں ”سپنوں کا سوداگر “”نمائش پذیر ہوئیں مگر چاروں بری طرح فلاپ ہو گئیں ۔”تیری قسم “کے فلمساز مشہور نغمہ نگار شیلندر تھے ۔یہ چاروں فلمیں دوسرے فلمسازوں کی تھیں اور ان سالوں میں ان کی کوئی ذاتی فلم ریلیز نہیں ہوئی ۔

1969ء میں ان کی کوئی فلم نمائش پذیر نہ ہوئی ۔1970ء میں انہوں نے بڑی محنت تیار ہونے والی اپنی فلم ”میرانام جو کر “پیش کی مگراسے بھی عوام میں پذیرائی نہ مل سکی اور بڑی طرح فلاپ ہوگئی جس کے نتیجے میں انہیں شدید مالی نقصان ہوا جس کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا کہ اب فلموں میں اداکاری ترک کرکے صرف ڈائریکشن دینی چاہئے۔1972ء میں ان کی ذاتی فلم ”کل آج اور کل “ریلیز ہو کر فلاپ ہو گئی جس میں انہوں نے اداکاری بھی کی تھی ۔

اس فلم کے بعد انہوں نے بدلتے ہوئے حالات سے سمجھوتہ کرلیا اور اداکاری چھوڑ کر صرف ہدایتکار بننا قبول کر لیا ۔انہوں نے ایک نئے پراجیکٹ پر کام شروع کردیا اور اپنی پرانی ٹیم بھی تبدیل کرلی ۔یادرہے کہ 1973ء میں ان کی کوئی فلم نمائش پذیر نہیں ہوئی تھی۔اس سال میں انہوں نے فلم ”بوبی“بنائی جس میں اپنے چھوٹے بیٹے رشی کپور کو ہیرو لیا جبکہ ہیروئن کے لئے ایک نئی لڑکی ڈمپل کپا ڈیہ کو لیا گیا ۔یہ جوڑی بڑی کامیاب رہی ۔

اس میں انہوں نے موسیقار لکشمی کا نت پیارے لال کے ساتھ آنند بخشی کو بطور نغمہ نگار لیا اور اس فلم میں ان کی پوری ٹیم بڑی کامیاب رہی کیونکہ ”بوبی “نے زبردست کامیابی حاصل کی اور اس نے ”میرا نام جوکر ”اور ”کل اور آج کل “کا سارا خسارہ پورا کردیا۔اس سے انہیں ایک فائدہ یہ ہوا کہ ان کا بیٹا رشی کپور بطور ہیرواسٹیبلش ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے معروف ترین اداکاربن گیا۔

اب راج کپور کی بطور اداکار کچھ رُکی ہوئی فلمیں نمائش پذیر ہوئی مگر وہ سب بری طرح فلاپ ہوگئیں ۔یہ فلمیں دوسرے فلمسازوں کی تھیں جن کی تفصیل یہ ہے ۔1975ء میں ”دو جاسوس“1976ء میں ”خان دوست “1977ء میں ”سونا چاندی“1981میں ”عبداللہ “اور 1982ء میں ’ ’گوپی چند جاسوس “۔فلم ”بوبی“کی کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے ہی بینرتلے 1976ء میں ”دھرم کرم “اور 1978ء میں ”ستم شیوم سندرم بنائیں جنہوں نے زبردست بزنس کیا ،ان دونوں فلموں کی کہانیاں خواجہ احمد عباس مرحوم کی تھیں جن میں سے ”ستم شیوم سندرم “تو ایک آرٹ فلم قرار پائی غرض یہ دونوں فلمیں ان کی یادگار فلمیں شمار ہوتی ہیں ۔1981ء میں ان کی فلم ”بیوی اور بیوی “آئی جو زیادہ کامیاب نہ رہی البتہ اگلے سال یعنی 1982ء میں ایک بار پھر ایک بڑی فلم ”پریم روگ

”عوام کو دی ۔یہ ایک لاجواب فلم تھی جس کی کہانی اور ہدایات ناقابل فراموش تھیں اور اس سے ان کا فلمی کیرئیر مزید آگے بڑھا ۔1984ء میں انہوں نے ”رام تیری گنگا میلی “بنائی جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس کی وجہ سے ہر شخص کی زبان پر راج کپور کا نام تھا ۔اس فلم پران کی مکمل گرفت تھی اور اس کی ہدایات انہوں نے کچھ اس طرح دیں کہ فلم شہ پارہ بن گئی اور آج اگر چہ اس فلم کو ریلیز ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے مگر یہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہے ۔

اس فلم میں انہوں نے منداکنی نامی ہیروئن کو متعارف کرایا تھا ۔اس اداکارہ سے جوکام راج کپور نے لیا وہ کوئی اور ہدایتکار نہ لے سکا کیونکہ اس کے بعد یہ فلمی دنیا میں جلد روبہ ز دال ہوگئی ۔بہر حال یہ ان کی آخری فلم تھی اور اس قدر عمدہ کہ اس نے اگلی پچھلی تمام کسریں نکال دیں ۔انہوں نے اپنے آخری دور میں صرف چھ فلموں کی ہدایتکاری دی جن میں سے پانچ سُپرہٹ ہوئیں اور کامیابی کا ایسا تناسب کسی دوسرے ہدایتکار کے یہاں نہیں ملتا۔

راج کپور کی خوش قسمتی تھی کہ ان کی فلموں کے گیت بے انتہا مقبول ہوئے تھے اور لوگوں کو ان پر یکچرائز ہونے والے گیت بھی بہت پسند آئے تھے جس کا کریڈٹ موسیقار شنکر جے کشن اور نغمہ نگار شیلندر اور حسرت جے پوری کو جاتا ہے کیونکہ انہیں موسیقی کا صحیح ادراک تھا اور وہ جب تک خود مطمئن نہیں ہوجاتے گیت ٹیک نہیں ہوتا تھا۔ان کی تو بعض فلمیں زبردست میوزیکل شُمار ہوتی ہیں جیسے

”برسات “اور ”آوارہ “۔یوں تو لتا کی شُہرت فلم ”محل “کے گیتوں سے ہو چکی تھی پھر بھی لوگ اس وقت تک زیادہ ان کے نام سے واقف نہیں تھے ۔چنانچہ یہ راج کپور ہی تھے جنہوں نے پہلی بار گلوکارہ لتا کانام اپنی فلم ”برسات “کے ٹائٹل پردیا ورنہ اس سے پہلے فلموں میں گلوکاروں کے نام سکرین کی زینت نہ بنتے تھے ۔تقسیم ہند کے بعد موسیقی کی دنیا میں جو انقلاب آیا اس کا کریڈٹ بھی راج کپور ہی کو جاتا ہے۔اگر یہ اپنی فلموں میں شنکر جے کشن ،لتامکیش ،شیلندر اور حسرت جے پوری جیسے باکمال لوگوں کو موقع نہ دیتے تو آج ہمیں مقبول فلمی گیت سننے کو نہ ملتے ۔

راج کپور ہمیشہ روس میں منعقد ہونیوالے تاشقند فلمی میلے کی جیوری کے ممبررہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ہدایتکار انہ صلاحیتوں سے پوری دنیا واقف تھی اور اس طرح یہ بھارت کے پہلے اداکار تھے جن کی مقبولیت بر صغیر سے نکل کر دوسرے ممالک میں پہنچی ورنہ ان سے پہلے بر صغیر کے اداکاروں کی مقبولیت صرف یہیں تک محدود رہتی تھی ۔

انہوں نے ہمیشہ اپنی فلموں کی کہانیاں اس دور کے نامور ادیب خواجہ احمد عباس مرحوم سے لکھوائیں اور یہ سلسلہ فلم ”آوارہ “سے شروع ہو کر ان کی آخری فلم تک قائم رہا ۔فلم ”حنا “کی کہانی ،جو حسینہ معین کی تحرے کردہ تھی ،کو راج کپور بڑے پیمانے پر بنانا چاہتے تھے مگر قدرت نے انہیں مہلت نہ دی چنانچہ ان کے بعد یہ کام ان کے ہونہار فرزندرندھیر کپور نے سر انجام دیا اور

”حنا “مکمل کرکے ان کے خوابوں کو تعبیر دی ۔یہ دوسری بات ہے کہ اگر راج کپور فلم ”حنا“کی ڈائریکشن دیتے تو یہ فلم اور بھی زیادہ بہتر ہوتی۔آنجھانی راج کپور کو زندگی میں متعدد ایوارڈز ملے اور ان کی صلاحیتوں کا سرکاری طور پر بھی اعتراف کیا گیا۔انہوں نے کئی سرکاری فلمی دفود کی سر براہی بھی کی ،حکومت نے ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں فلمی دُنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ایوارڈ ”دادا بھائی پھا لکے ایوارڈ ”دیا۔جب یہ تقریب میں ایوارڈ وصول کررہے تھے تو انہیں زبردست پھانسی آئی اور وہ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے کیونکہ وہ دمہ کے مرض تھے ،انہیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا مگر دس دن تک بے ہوش رہنے کے بعددنیا سے چل بسے ۔انہوں نے فلمی دنیا میں جوکار ہائے نمایاں انجام دےئے انہیں اس مختصر مضمون میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ان کی فلموں، کار گزاریوں اور خدمات پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ ان کا خلا رہتی دنیا تک کوئی پُر نہیں کر سکے گا۔