آوارہ کتا کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کرہمالیہ کی خطرناک چوٹی تک پہنچنے والا دنیا کا پہلا کتا بن گیا

آوارہ کتا کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کرہمالیہ کی  خطرناک چوٹی  تک پہنچنے ..

نیپال میں ایک آوارہ کتیا  کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کا پیچھا کرتے ہوئے ہمالیہ کی  23389 فٹ بلند چوٹی تک پہنچ گئی۔45 پاؤنڈ وزنی نیپالی کتیا، میرا، وہ پہلی  کتیا ہے جو پچھلے سال 9 نومبر کو  بارونتسہ کی چوٹی تک پہنچی تھی۔
نیپال میں قائم ایک تنظیم  ہمالین ڈیٹا بیس، جو  ہمالیہ کی مہموں کا ریکارڈ رکھتی ہے، کے بلی بیرلنگ نے بتایا کہ  جتنی بلندی تک  میرا پہنچی ہے، اتنی بلندی تک دنیا میں کہیں بھی کوئی کتا نہیں پہنچا۔


میرا نے سیاٹل سے تعلق رکھنے والے پہاڑی گائیڈ، ڈون وارگوسکی، کی سربراہی میں ایک ماہ کے لیے  ہمالیہ  جانے والی ٹیم کا  دسویں دن پیچھا شروع کر دیا تھا۔  کوہ پیما 17500 فٹ بلند میرا چوٹی سر کر کے نیچے اتر رہے تھے کہ  ایک کتیا نے اُن کا پیچھا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

وہ اسے چند دن پہلے بھی دیکھ چکے تھے۔
اس دن کے بعد میرا نامی یہ  کتیا ٹیم کے سربراہ ڈون کی بہترین دوست بن گئی۔

پہلے پہل تو ٹیم کے ممبر ڈون کی وجہ سے میرا کو برداشت کرتے رہے لیکن جلد ہی یہ سب کوہ پیماؤں کی دوست بن گئی۔میرا نے اپنی  پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت سے سب کو متاثر کیا تھا۔ کوہ پیماؤں نے اس سے پہلے کتے کو اس طرح پہاڑوں  پر چڑھتے نہیں دیکھا تھا اس لیے انہوں نے اسے اپنی مہم کے لیےخوش قسمتی سمجھا۔
ڈون نے  بتایا کہ ایک مقام پر میرا دو دن تک گلیشیئر پر تنہا کھڑی رہی۔

شدید سردی کی وجہ سے ڈون کو  میرا کے مرنے کا یقین ہو گیا تھا۔لیکن میرا نہ صرف زندہ رہی بلکہ ٹیم کے ساتھ 22500 فٹ کی بلندی تک بھی  پہنچ گئی۔
اس مہم میں میرا کے پاؤں شدید زخمی ہوئے ، اس کے پنجے بھی ٹوٹ گئے۔راستے میں ایک مقام پر ڈون نے میرا کو  رسی  سے کیمپ کے ساتھ باندھ دیا تاکہ وہ اُن کا پیچھا  نہ کر سکے لیکن میرا نے   دانتوں سے رسی چبا کر کاٹ ڈالی اور آدھے گھنٹے بعد ہی ڈون کی ٹیم کےساتھ پہنچ گئی۔


ڈون نے  اس مہم کی تصاویر  اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر میں میرا کو بارونتسہ کی چوٹی پر ڈون کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے۔
میرا  کا نام اب تبدیل کر کے بارو رکھ ریا گیا ہے۔ بارو اس وقت  مہم کے بیس کیمپ کے منیجر کاجی شیرپا کے ساتھ رہتی ہے۔مہم کے دوران بارو کا جو وزن کم ہوا تھا، اب وہ بھی بڑھ گیا ہے۔بارو بیس کیمپ میں رہتے ہوئے کافی خوش بھی ہے۔

وقت اشاعت : 09/03/2019 - 23:50:14

Your Thoughts and Comments