نیدرلینڈ میں کھمبوں پر گھنٹوں بیٹھے رہنا بھی ایک کھیل ہے

Ameen Akbar امین اکبر جمعرات اگست 23:58

نیدرلینڈ میں کھمبوں پر گھنٹوں بیٹھے رہنا بھی ایک کھیل ہے

کہتے ہیں کہ کھیل صحت کےلیے بہتر ہوتے ہیں  لیکن شاید ایسے کھیلوں میں نیدرلینڈ کا ایک کھیل شامل نہیں ہے۔ Paalzitten یا پول سیٹنگ (Pole Sitting) میں کھلاڑیوں کو  گھنٹوں   لکڑی کے  کھمبوں پر بیٹھ کر  دوسرے کھلاڑی کے گرنے  یا ہار ماننے کا انتظار کرنا ہوتا ہے، چاہے دوسرے کھلاڑی چکرا کر گریں یا بوریت سے کھیل کو چھوڑ دیں۔
کوئی نہیں جانتا کہ پول سیٹنگ کا آغاز کب ہوا۔

کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کھیل  ڈچ صوبے  فریسلانت سے ہوا۔ مقامی افراد نے بوریت سے بچنے کے لیے ایسا کھیل ایجاد کیا، جس میں روز مرہ زندگی کی چیزیں، یعنی  لکڑی کے بانس وغیرہ استعمال کیے جا سکتے تھے۔کسی کو نہیں معلوم کہ ایسا کھیل کیوں ایجاد کیا گیا، جس میں  کھلاڑی بیٹھ کر دوسرے کھلاڑیوں کے گرنے کا انتظار کریں۔

(جاری ہے)

اس کھیل نے کافی شہرت حاصل کی تھی لیکن پھر یہ غیر مقبول ہوتا گیا۔

  ایک بار تو ایسا لگا کہ یہ کھیل بالکل معدوم ہوگیا ہے۔اب بھی نیدرلینڈ میں اسے کبھی کبھار ہی کھیلا جاتا ہے۔
پول سیٹنگ میں لکری کے کھمبے یا بانس  چند میٹر کی دوری سے پانی میں نصب کیے جاتے ہیں، تاکہ اگر کوئی شخص نیند، تھکاوٹ یا کسی اور وجہ سے نیچے گرے تو  زخمی نہ ہو۔جدید کھمبوں میں بیٹھنے کی نشت کافی آرام دہ ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کو ہر چند گھنٹوں بعد رفع حاجت کے لیے بھی  کھمبوں سے اترنے کی اجازت ہوتی ہے۔

1970 کی دہائی میں ایسا نہ تھا۔ کھلاڑی   کھمبوں کے گرد  پردہ ٹانگ کر لکڑی کی ٹوکری میں رفع حاجت کرتے تھے، انہیں کھمبوں سے اترنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔اتنے سخت قوانین میں 1972 میں اس کھیل کی ورلڈ چیمپئن شپ میں ایک کھلاڑی کھمبے پر مسلسل 92 گھنٹے بیٹھا رہا تھا۔
آج بھی نیدرلینڈ میں پول سیٹنگ کے مقابلے ہوتے ہیں لیکن اس میں دیکھنے والوں کے لیے کوئی کشش نہیں ۔

ظاہر ہے اب کون گھنٹوں بیٹھ کر کھلاڑیوں کے نیچے گرنے یا ہارنے کا انتظار کرے۔تاہم سیاح اس کھیل کو دیکھنے ضرور آتے ہیں۔
اس غیرمعمولی طور پر بوریت زدہ کھیل پر  نیندر لینڈ میں ایک فلم بھی بنائی تھی۔ Sportsman of the Century نامی یہ فلم ناکام ترین فلموں میں سے ایک ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو بچپن سے ہی پول سیٹنگ میں 250 دنوں کا افسانوی ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے۔فلم میں یہ شخص باپ بنتا ہے تب بھی کھمبے سے اترنے سے انکار کر دیتا ہے۔2006 میں بننے والی  اس فلم کو گولڈن اونینز (Golden Onions)  ایوارڈ میں بدترین فلم اور بدترین ڈائریکٹر کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا۔

نیدرلینڈ میں کھمبوں پر گھنٹوں بیٹھے رہنا بھی ایک کھیل ہے
وقت اشاعت : 08/08/2019 - 23:58:06

Your Thoughts and Comments