ویلنٹائن ڈے کے آغاز سے متعلق مختلف اور متضاد روایتیں

Ameen Akbar امین اکبر جمعہ فروری 23:51

ویلنٹائن ڈے کے آغاز سے متعلق مختلف اور متضاد روایتیں

ویلنٹائن ڈے کے آغاز سے متعلق مختلف اور متضاد روایات بیان کی جاتی ہیں۔ویلنٹائن ڈے کے آغاز سے متعلق جو روایات بیان کی جاتی ہیں، وہ کچھ یوں ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کا آغاز لوپر کالیا  تہوار
ویلنٹائن ڈے کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز  ایک رومی تہوار لوپر کالیا کی صورت میں ہوا۔ اس تہوار کے دوران رومی مرد اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں پر کندہ کرتے اور ان کے ساتھ تحائف کا تبادلہ بھی کرتے۔

کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لوپر کالیا کو مسیحی راہب ویلنٹائن ڈے سے منسوب کیا گیا تو جوڑوں کے تحائف کی رسم  برقرار رہی۔اس دن کو جیون ساتھی کی تلاش  کے دن کے طور پر جانا جاتا تھا۔
محمد عطاء اللہ صدیقی  اپنے کتابچے ویلنٹائن ڈے ، تاریخی اور معاشرتی تجزیہ  میں ویلنٹائن ڈے کی سینٹ ویلنٹائن سے  نسبت کے حوالے سے لکھتے  ہیں:۔

(جاری ہے)


”اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔

چونکہ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلنٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا۔

بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کر دیا۔”

ویلنٹائن کا جرم قبولیت مسیح
قدیم روم میں بت پرستی عام تھی۔ رومیوں نے پوپ ویلنٹائن کو بت پرستی چھوڑ کر مسیحیت اختیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومیوں نے مسیحیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو یوم شہید محبت کہہ کر اسے اپنی عید بنا لیا، جس میں بعد میں وہ تمام رسومات شامل ہوتی گئی جو آج ویلنٹائن  ڈے پر نظر آتی ہیں۔



ویلنٹائن کا جرم شادیا ں کرانا
اس کی تاریخ مسیحی راہب ولنٹینس یا ویلنٹائن سے یوں جڑی ہے کہ جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی، بلکہ اور لوگوں  کو بھی شادی کے بندھن میں باندھنے لگا ۔

جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی ۔ جن لوگوں کی ویلنٹائن  نے شادی کرائی تھی،  انہوں نے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا۔

یونانی دیو مالا
یہ دن یعنی 14 فروری کا دن رومی دیوی یونو (جو یونانی دیوی دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن مانا جاتا ہے جب کہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا لیسیوس کا مقدس دن ہے ( ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا جو آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے) ۔
ماخذ: اردو ویکیپیڈیا

وقت اشاعت : 14/02/2020 - 23:51:00

Your Thoughts and Comments