Orange

مالٹا

ہفتہ مارچ

Orange

یہ ایک خوشنما درخت ہے اس کی افزائش پیوند کے ذریعے ہے اور کسی تجربہ کار مالی کی خدمات حاصل کرکے اسے کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے لیکن بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی ذخیرے میں تیار شدہ پودے فروری مارچ یا برسات کے موسم میں مقررہ جگہوں پر لگائے جائیں اسے گرمی کے موسم میں تین چار دنوں بعد اور سردیوں میں زیادہ وقفے سے پانی دینا مفید ہے جب پودے بڑے ہوجائیں تو آبپاشی زیادہ کردینی چاہیے۔


کھجور:
اس درخت کی بلندی 100 سے 120 فٹ تک ہوتی ہے یہ عرب ممالک کی پیداورا ہے اور مسلمان اسے برصغیر پاک وہند میں لائے تھے باغ باغیچوں میں لگا ہو تو بڑی شان و شوکت والا نظر آتا ہے کھجور کا پودا میرا ہلکی ریتلی میرا اور گہری زرخیز زمین کے لیے بے حد موزوں ہے لیکن یہ ریتلی زمین سے لے کر چکنی مٹی والی زمین میں بھی کامیاب رہتا ہے زیادہ کار کو بھی برداشت کرلیتاہے اس کے لیے کم سے کم درجہ حرارت 49 فارن ہائیٹ ہونا چاہیے گرم موسم میں پھول جلد نکلتے ہیں اور پھل بہتر پکتا ہے پھل پکنے تک بارش نہیں ہونی چاہیے ورنہ پھل درخت کے اوپر ہی خراب ہوجاتا ہے اسے بیچ اور جڑواں طریقوں سے اُگایا جاسکتا ہے جڑواں پودے جون جولائی میں علیحدہ کرکے مطلوبہ جگہوں پر لگائے جاتے ہیں،
انجیر:یہ میانہ قد کے درخت کا پھل ہے اپنے گھنے سائے اور پھل کے لیے مشہور ہے یہ پودا ایسے علاقوں میں کامیاب ہوتا ہے جہاں پھل پکنے کے وقت موسم گرم خشک ہو یہ سخت سردی اور کورا بھی برداشت کرسکتا ہے حتیٰ کہ پہاڑی علاقوں میں معمولی برفباری سے بھی اس کی نشوونما پر کوئی اثر نہیں پڑتا پاکستان کے دامن کوہ اور میدانی علاقے اس کی کاشت کے لیے موزوں ہیں عام طور پر زرخیز اور نہری باغوں میں اُگایا جاتا ہے اسے مئی سے اگست تک پھل لگتا ہے،
سیب:سیب کی بہترین اقسام سطح سمندر سے پانچ ہزار سے سات ہزار فٹ کی بلندی تک کاشت کی جاتی ہے سیب سرد آب وہوا میں کامیابی سے پھلتا پھولتا ہے اس کے برعکس میدانوں میں اس کی اچھی اقسام پیدا نہیں ہوتیں،
بادام:سرد خشک اور درمیانی بلندی جیسی آب وہوا میں زیادہ کامیابی سے پیدا ہوتا ہے اسے آڑو آلوچہ اور خوبانی کی نسبت کم نمی کی ضرورت ہوتی ہے سون وادی کا علاقہ اس پھل کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے اور اس علاقے میں بھی جہاں تھوڑی بہت آبپاشی کا انتظام ہو بادام کامیابی سے کاشت ہوسکتا ہے بادام کی اعلیٰ اقسام کوئٹہ آزاد کشمیر پشاور،ڈویژن،قلات کے قبائلی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے جبکہ درمیانی اور سخت جان اقسام دامن کوہ کے اضلاع اور کم گرم علاقوں میں بھی اُگائی جاسکتی ہے۔

(جاری ہے)


آڑو،آلوچہ، خوبانی:یہ پھل دار پودے کم اونچے پہاڑی علاقوں میں کامیاب ہیں ایسے مقامات جن کی بلندی 1500 فٹ سے400 فٹ تک ہو ان پودوں کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں آلوچے کے لیے نسبتاً سرد آب وہوا درکار ہیں خوبانی 3000 فٹ سے 5000فٹ تک کی بلندی پر کاشت کی جاسکتی ہے آڑو اور آلوچہ کی چند اقسام میدانی علاقوں میں بھی کامیابی سے اُگائی جاسکتی ہے آلوچہ تیز ہواﺅں سے محفوظ علاقوں میں کامیابی سے نشوونما پاتا ہے،
اخروٹ:اس کا پودا بھی4000 فٹ سے 5000 فٹ کی بلندی پر کامیاب رہتا ہے میدانی یاکم بلند علاقوں میں اس کی کاشت نہیں ہوسکتی ،
سنگترہ:پہاڑ کے دامن میں اُگانے کے لیے موزوں پودا ہے جہاں گرم اور خشک ہوائیں نہ چلتی ہوں اور دھوپ شدت سے نہ پڑتی ہو کیونکہ تپس سے سنگترے کے پھل پر داغ میں سنگترے کی افزائش نہیں ہوسکتی البتہ اس کی نئی اقسام کے پھل کینو اور فروٹل گرم آب وہوا میں بخوبی پھلتے پھولتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پودوں پر جو پھل آتے ہیں وہ پتوں کی اوٹ سے آتے ہیں اس لیے وہ دھوپ کی تپش سے محفوظ رہتے ہیں،

تاریخ اشاعت: 2018-03-03

Your Thoughts and Comments

Special Gardening Tips And Tricks For Women article for women, read "Orange" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.