بند کریں
خواتین مضامینمضامینآنٹی نہ کہو
آنٹی نہ کہو
فاطمہ نقوی:
خواتین جس طرح اپنے لئے بننا سنورنا ضروری سمجھتی ہیں وہیں ان کی یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ وہ کم عمر نظر آئیں۔ اس لئے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب بھی کسی خاتون کی کم عمری کا پہلو نکلے تو کم عمر سمجھی جانے والی خواتین نہایت خوشی کا اظہار کرتی ہے۔ دوسری طرف ہمارا معاشرہ جس طرح مغربی تقلید کی طرف جا رہا ہے۔ اسی طرح مختلف رشتوں کو بھی وہیں سے مستعار لئے گئے نام دئیے جانے لگے ہیں۔ ایسے ہی ایک رشتے کا نام ”آنٹی“ ہے ۔ مگر یہ لفظ سننا اکثر خواتین کیلئے کسی بُرے لفظ سے کم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین پلٹ کر آنٹی کہہ کر پکارنے والے کو ٹوک بھی دیتی ہیں کہ انہیں آئندہ آنٹی کہہ کر نہ پکارا جائے۔ لیکن بات تو یہ ہے کہ آخر کس کس کو منع کیا جائے۔ بس میں سفر کریں تو کنڈیکٹر بھی خاتون کو آنٹی کہہ کہہ کر پکارتے نظر آتے ہیں۔ اگر انجان بن کر نہ سنا جائے کہ ہم تو آنٹی نہیں تو دوبارہ اسی لفظ سے پکارا جاتا ہے کہ آنٹی جلدی کرایہ دو۔
بازار جائیں تو وہاں بھی سب دکاندار نے ”آنٹی آنٹی“ کی گردان لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ”آنٹی دیکھیں کیا خوبصورت کپڑا ہے۔“ دوسری طرف سے کوئی پکار اٹھتا ہے ”آنٹی یہ بیگ تو آپ نے دیکھا ہی نہیں“ کوئی پکارے گا۔ آئیں آنٹی گرما گرم سموسے کھائیں۔
اکثر خواتین بھی آپس میں اس لفظ کا استعمال کر کے اپنے تئیں خود کو چھوٹا جتانے کو سرگرم نظر آتی ہیں۔ تاکہ محفل میں سننے والے یہ اخذ کریں کہ یہ یقیناََ اپنی مخاطب سے کم عمر ہے۔ ایسے موقع پر یقیناََ آنٹی کہی جانے والی لڑکی یا خاتون منہ سے کچھ کہہ بھی نہیں پاتیں تاہم انہیں سخت ناگوار گزرتا ہے۔
آنٹی کا لفظ ہمارے معاشرے میں اتنا عام ہوگیا ہے کہ اکثر چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی اب خود سے تھوڑی بڑی لڑکیوں کو باجی کہنے کے بجائے بے دھڑک ”آنٹی“ کہہ دیتی ہیں۔ خواتین کی اکثریت اس لفظ سے زچ نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ بہت بڑی عمر کی خاتون کیلئے ہے اس لیے اسے چھوٹی عمر کی خواتین کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ اور ان کی نظر میں یہ لفظ خاصا معیوب سا لگتا ہے۔ دراصل ہر لفظ کے ساتھ ہمارے ذہن میں اس کا کچھ نہ کچھ خاکہ اور تصور بن جاتا ہے۔ جو منفی بھی ہوتا ہے اور مثبت بھی۔ خواتین کی کم عمر نظر آنے کی نفسیات کے پیش نظر لفظ آنٹی کا تاثر نہایت بُرا ہے۔ کئی خواتین کہتی ہیں کہ اس لفظ سے ان کے ذہن میں بہت بدمزاج سی بوڑھی خاتون کا خیال آجاتاہے۔ اس لئے وہ خواہ کتنی بڑی کیوں نہ ہوجائیں اپنے لئے کبھی بھی اس لفظ کو تسلیم نہیں کریں گے۔
اس ضمن میں اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو خواتین کو بھی اس لفظ کی بابت اپنی سخت گیری کم کرنا ہوگی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز تبدیل ہوتی ہے یہاں تک کہ الفاظ کا استعمال اور ان کے معنی بھی اب اگر خواتین کو پکارنے کیلئے لفظ آنٹی کا چلن اس قدر بڑھ گیا ہے تو اس سے اپنی تضحیک محسوس نہ کریں۔یہ بالکل ماضی میں خالہ، چچی، آپا اور باجی کی طرح کا ہی ایک انداز مخاطب ہے۔ جب آپ اس سے کچھ غلط اخذ کرنا چھوڑدیں گی تو یقیناََ اس کے ذریعے منفی دھاک بٹھانے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور پھر اگر کوئی اس کو منفی معنوں میں استعمال کرتا ہے تو اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ جلد ہی یہ لفظ اپنے برے معانی کھودے گا ۔
بہت سی خواتین کا خیال ہے کہ انہیں تضحیک کی غرض سے آنٹی کہا جارہا ہے۔ اس لئے وہ اس انداز تخاطب کو خاطر میں لانا چھوڑدیں اور اس پر ناک بھوں چڑھائیں اور نہ اپنی زبان سے ایسا تاثر دیں کہ وہ اسے برا سمجھ رہی ہیں۔ یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ مخاطب کرنے والا آپ کی تضحیک کررہا ہو، بلکہ اس سے فقط آپ کو پکارنا مقصود ہو، ناکہ تضحیک۔ اس لئے اس سے برا نہ مانیں یہ یقیناََ ایک بہتر راہ ہوگی۔ کوشش کریں اگر کوئی بڑی عمر کا آدمی آپ کو ”آنٹی“ کہہ کر پکارے تو اسے فوراََ ”بھانجا“ کہہ کر بلالیں۔ یوں آپ کی بھی تسلی ہوجائے گی۔

(10) ووٹ وصول ہوئے