Lahore Se NathiyaGali

لاہور سے نتھیا گلی

سعد افتخار بدھ اگست

Lahore Se NathiyaGali
عصر ٹائم دوست کی کال آئی کہ ہم کل آپ کی طرف آ رہے ہیں ،میں نے ان کو ویلکم کہا اگلے دن شام قریب 5بجے وہ لاہور سے چلے اور رات 2بجے میرے پاس پہنچے،جی ٹی روڈ پر رش کی وجہ سے انھوں نے 4گھنٹے کا سفر 6میں کیا ، سیاحت کی غرض سے وہ لاہور سے بھاگ کر میرے پاس آئے تھے میرے گھر سے چونکہ کشمیر نزدیک پڑتا ہے تو ہم نے کشمیر جانے کا فیصلہ کیا لیکن ان دنوں لاک ڈاون کی وجہ سے کشمیر میں داخلہ بند تھا اس لئے ہم نے کیپٹل جانے کا فیصلہ کیا ۔


رات 2گھڑیوں کی نیند کے بعد صبح 5بجے اٹھے اور دیسی ناشتہ روٹی ، مکھن، شکر،انڈے اور چائے سے کیا اور 6بجے ہم چار دوست اسلام آباد کی اور نکل پڑے ،جہلم کے قریب ہمارا پلان اسلام آباد سے مری میں بدل گیا ۔ اڑھائی گھنٹے بعد جب ہم اسلام آباد پہنچے تو خیال آیا کہ مری تو جا ہی رہے ہیں کیوں نہ لگے ہاتھ نتھیاگلی سے بھی ہوتے آئیں،کشمیر سے اسلام آباد ، اسلام آباد سے مری اور پھر مری سے نتھیا گلی جانے کا ارادہ کیا ۔

(جاری ہے)


اسلام آباد سے جیسے ہی مری کی طرف نکلے تو تقریبا 10کلو میٹر کی مسافت کے بعد ایکسپریس وے پر موٹروے پولیس کا سخت ناکہ تھا ،کسی سیاح کو مری میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ۔ہر گاڑی والے کو واپس بھیج رہے تھے سوائے ان کے جن کے باپ دادا کا نام پاکستانی اشرافیہ میںآ تا ہے ، ایک لمبی قطار میں لگنے کے بعد ہمیں بھی انھوں نے واپسی کا راستہ دکھایا ،اسی دوران میں نے وہاں کھڑے ایک لوکل کو بھانپ لیا جو یہ بارڈر کراس کروا رہا تھا ،اس نے 1500کا تقاضہ کیا لیکن بات 1000میں فائنل ہوئی ۔

ایجنٹ کو ساتھ لیا اور جہاں پولیس کا ناکہ تھا وہاں سے تقریبا دو کلو میٹر پیچھے ایک لوکل روڈ نکلتا تھا جو آگے دیہات کی طرف جاتا تھا اسی روڈ میں آدھے گھنٹے کے بعد ہم واپس اسی ایکسپریس وے پر پہنچ گے جہاں سے ہمیں واپس کیا گیا تھا ۔
ہمارے ڈرائیور بھائی کے پاس لائسنس تو تھا نہیں اور اوپر سے وہ جلدی میں گاڑی کے پیپر بھی گھر بھول گیا ،جیسے ہی ہم مری میں انٹر ہوئے تو ٹریفک وارڈن نے چلان پیش خدمت کیا اور ساتھ وارن بھی کیا کہ نتھیا گلی میںآ پ کو کسی صورت بھی داخل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ پختونخواہ پولیس کسی کو نرمی نہیں دیکھا رہی ،ہم نے چونکہ اب ذہن نتھیا گلی کا بنا لیا تھا تو مری تک ہی اکتفا کرنا ممکن نہ تھا ۔


مری سے ہم جیسے ہی نتھیا گلی کے لئے نکلے راستے میں ایک جگہ ویگن سٹینڈ پر ایک پٹھان بھائی کو دیکھا جو گاڑی کے انتظار میں تھا ۔گاڑی روک کر میں نے خان صاحب سے نتھیا گلی میں داخلے کی صورت حال جاننے کی کوشش کی تو اس نے بھی وہی بات کی جو مری کے ٹریفک وا رڈن نے کی تھی ۔خان صاحب نتھیا گلی کے رہائشی تھے تو ہم خان صاحب کے مہمان بن گے تاکہ پولیس خان صاحب کے مہمان سمجھ کر ہمیں نہ ہی روکے ،خان صاحب کو بھی ساتھ بٹھایا اور چل دئے۔


باڑیاں کے مقام پر جہاں پختونخواہ میں انٹری ہوتی تھی وہاں پھر ایک دفعہ لمبی قطار ہمارے لئے لیکن پروٹول والوں کو کوئی روک نہ تھی شایدکوئی وزیر صاحب تھے یا پھر ان کے صاحبزدگان ۔ڈرائیونگ سیٹ پر بھی خان صاحب بیٹھے تھے لیکن پولیس والے نے سخت رویے کے ساتھ یہ کہہ کر واپس موڑ دیا کہ آگے (نتھیا گلی)کوئی جرنل صاحب آئے ہوئے ہیں ۔واپسی کا راستہ ہمارے لئے بھی زیب نہیں دیتا تھا اس لئے خان صاحب نے باڑیاں سے گاڑی کو پھر ایک دفعہ چور راستے پر ڈالا اور پھر آدھے گھنٹے بعد ہم اسی روڈ پر آ گے جہاں سے ہمیں واپس کیا گیا تھا، اب آگے نہ کوئی چیک پوسٹ تھی اور نہ کو ئی وارڈن بلند پہاڑ ،آسمان کو چھوتے صنوبر کے درخت ،روڈ کی سائیڈوں پر کھیلتے بندر ،اب لگ رہا تھا کہ ہم پنجاب سے بلکل مختلف دنیا جہاں صرف سکون ہی تھا ،بالاخرہم خان صاحب کی وساطت سے نتھیا گلی پہنچ گے،خان صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے الوداع کہا اور دوپہر کا کھانا ڈونگا گلی سے کھایا ۔


نتھیا گلی پہنچ کر ٹوور گائیڈ لیاجس نے ہمیں مقامی آبادیاں ،نتھیا گلی میں ایک آبشار اور گورنر ہاوس والی سائیڈ کا وزٹ کروایا ،سورج ڈھل چکا تھا ،ایبٹ آباد کے سارے بادل جیسے نتھیا گلی کے بازار میں اتر آئے ہوں ،سڑک پر واک کرنے والوں کی چہل پہل تھی، نوبیاہتے جوڑے خوش گپیاں کر رہے تھے اور ساتھ کافی ،چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ہم جیسے ٹھرٹھراتے ہونٹوں کیساتھ ان کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔

کھانے کی خوشبووں نے بھوک کو مزید بھڑکاوا دیا ،کہیں پر کڑاہی بن رہی ہے تو کہیں روسٹ کی خوشبو ہے ،وہاں ہی ایک ریستوران والا چرغہ بڑے مزدار طریقے سے بنا رہا تھا لیکن جب ہم نے آرڈر کیا تو پتہ چلا کہ سیخوں پر لگے سارے پیس بِک چکے ہیں اور آفغانی پلاو کا آرڈر کیا تو وہ بھی ختم ہو چکا تھا یہاں ابھی ٹوورازم بند تھا اور اگر آپ نے کڑاہی کا آرڈر لگوانا ہے تو گھنٹے سے پہلے نہیں ملے گی ۔

وہاں سے اٹھے تو ہمارے موٹل کے سامنے ہی ایک بڑے لائٹنگ سائن بورڈ،،پٹاخہ روسٹ ،، والے تھے تو ہم نے روسٹ کھانے کا فیصلہ کیا لیکن جب روسٹ سامنے آیا توبلکل ہماری طبیعتوں کے خلاف تھا ،دڑا مرچوں اور دیگر مصالحوں میں لپیٹ کا چکن کو فرائی کیا جاتا تھا اور پھر دڑا مرچیں روسٹ کیساتھ بھی دی جاتی تھیں ،پٹاخہ روسٹ کھانے کے بعد ہم نے احتیاط رائزک کیپسول لئے ۔


رات نتھیا گلی میں انتہائی پرسکون گزری ،صبح اٹھتے ہی ٹریکنگ پر نکل گے 2گھنٹے کے بعد ہم مشک پوری ٹاپ پرپہنچے جہاں سکون کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ۔9سے10ہزار فٹ بلند اس ٹاپ سے ہم مری کے پہاڑی سلسلے کا نظارہ کر سکتے تھے ،سفید پھول ، سبز گھاس مشک پوری کی وجہ خوبصورتی ہے ۔
نتھیا گلی سے اب ہم ایبٹ آباد کو نکلے، تو رستے میں بادلوں نے جیسے گھیر ہی لیا ہو ، بارش میں پہاڑ اور بھی نکھر گئے ، بادلوں کے ٹکڑے کو ئی مشرق کو جا رہا ہے اور کوئی مغرب کو ۔

یہ سارا راستہ اتنا خوبصورت تھا کہ ہماری زندگی کی ایک یادگار بن گیا ۔ایبٹ آباد کے راستے میں ایک شاندار اور نفیس ریستوران سے تندوری پراٹھے،اسپیشل کالے چنے اور دودھ پتی سے ناشتہ کیا ۔ایبٹ آباد شہر پہنچ کر دوستوں کے کچھ شاپنگ کی کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بندہ ریلیشن میں ہو اور انکا گفٹ لئے بغیر واپس چلا جائے،ایبٹ آباد سے ہزارہ موٹروے سے ہوتے ہوئے پنڈی پہنچے اورکھاریاں شنواری سے رات کا کھانا کھا کر دوستوں کو لاہور کیلئے الوداع کیا ۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-26

Your Thoughts and Comments