Ankahi Dastanain - Colonel Retired Saleem Malik - 2nd Qist

ان کہی داستانیں ۔ تقسیمِ ہند 1947ء (کرنل ریٹائرڈمحمد سلیم ملک ۔ لاہور) ۔ دوسری قسط

ڈاکڑ مریم چغتائی جمعہ فروری

Ankahi Dastanain - Colonel Retired Saleem Malik - 2nd Qist
قسط اول کے اختتام پر کرنل محمد سلیم صاحب کی کہانی قیام پاکستان سے پہلے ہونے والے الیکشن تک پہنچی تھی۔ قسط دوئم میں یہ سلسلہ 1945 ء میں قائدِاعظم کی پنجاب میں آمد سے شروع ہوتا ہے ۔ اِس میں کرنل صاحب بتاتے ہیں کہ حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح 1945 ءء میں پورا سال پنجاب میں نہیں آئے۔ اِس کہ وجہ یہ تھی کہ اُن کو پتا تھا کہ میں جس کے پاس گیا اور ٹھہرا پولیس اور یونینسٹ پارٹی اُس کے پیچھے لگ جائے گی اور اُس کو تنگ کرے گی۔

جس وقت ہم نے یہ الیکشن جیتا تو قائدِاعظم محمد علی جناح جنوری 1946 ءء میں لاہور تشریف لائے اور وہ بہت خوش تھے کہ اِس الیکشن نے پورے ہندوستان کی صورتحال کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ قائدِ اعظم کی آمد پر جلسہ کا اہتمام ریلوے روڈ کالج کی گراونڈ میں کیا گیا۔

(جاری ہے)

اِس جلسے میں ہمیں بہت امید تھی کہ قائد اعظم کافی لمبی تقریر کریں گے اور ایک لمبے عرصے سے جو خلا پیدا ہو ا ہے وہ اُن کی اس مفصل تقریر سے پُر ہو جائے گا۔

لیکن جیسے ہی قائد ِاعظم نے تقریر کی تو ساتھ ہی مبارک مسجد سے آذان کی آواز آئی تو حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے جب آواز سنی تو آپ بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ یہ آذان کا وقت نہیں ہے تو اس وقت کون سی آذان ہو رہی ہے۔ یہ بات اُن کے لئے ہے جو کہتے تھے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اُن کو اپنی نماز کے اوقات کا پتا تھا اوروہ جانتے تھے کہ اس وقت ہماری کوئی نماز نہیں ہوتی۔


اتنی دیر میں ہم کیا دیکھتے ہیں کہ آذان ختم ہوتی ہے اور خاکساروں کے لیڈر علامہ مشرقی مسجد سے نکل کر عورتوں کے کیمپ کی سائیڈ سے آرہے ہیں۔ یہاں میں سوچنے لگی کہ علامہ مشرقی کون ہیں۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ علامہ مشرقی کا پورا نام عنایت اللہ خان مشرقی تھا۔ آپ ایک ریاضی دان، منطق دان،سیاسی اصول دان، اسلامی سکالر اور خاکسار تحریک کے بانی کے طور پر پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔

حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے اپنی کرسی اٹھا کر دی کہ اُن کو بٹھا دیں لڑکوں نے وہ کرسی علامہ کو دی اور اُن کو شامیانے کے باہر بٹھا دیا اور وہ بیٹھ گئے۔ ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ اسلامیہ کالج کی گراونڈ اور کالج کی بلڈنگ کے درمیان جو راستہ ہے وہاں سے چالیس پچاس خاکسار بیلچوں کے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور سٹیج کی سائیڈ پر کھڑے ہوگئے۔

حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے صورتحال کو بھانپ لیا اور پانچ دس منٹ میں اپنے سارے پوائنٹ بتا کر تقریر ختم کر دی۔
تقریر ختم کرکے جب حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح باہر آئے تو اُن کے ساتھ میاں امیرالدین ، میں اور دو لڑکے اور تھے۔ ہم ریواز ہوسٹل کے باہر کھڑی کار میں بیٹھ گئے۔ وہاں حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے کہا "Look leave me to God"
"You go back and don't allow Allama to address from this stage." میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسی صورتحال بھی ہو سکتی ہے۔

جب ہم واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ خاکساروں نے سٹیج پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہم میں سے کوئی سٹیج کے پاس جاتا تھا تو وہ اسے بیلچے سے مارتے تھے۔ عورتوں والی سائیڈ پر مولانا عبدالستار خان نیازی کی ڈیوٹی تھی۔ اُس وقت تو وہ مولانا نہیں تھے۔ جب وہ اِس سائیڈ پر آئے تو دیکھتے ہیں کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے اور خاکسار پاس آنے والوں کو بیلچوں سے مار رہے ہیں۔

عبدالستار خان نیازی نے اپنی جیب سے پھل کاٹنے والا چاکو نکالااور مجھے کہا " او سلیم ایدھیاں کناتاں کٹ دیو " (سلیم اِس جگہ کے ٹینٹ کی ڈوریاں کاٹ دو) ۔ ہم نے ابھی دو ڈوریاں ہی کاٹی تھیں کہ سارا ٹینٹ نیچے آگرا۔ ہم نے اُسی ٹینٹ کے بانس لے کر اُن کو اوپر سے مارنا شروع کر دیا۔ اُس وقت کے ٹینٹ کافی مضبوط ہوا کرتے تھے۔ ہمیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں کوئی مر ہی نہ جائے۔

کافی دیر کے بعد جب خاکسار نیچے سے نکلے تو وہ ادموہے ہو چکے تھے۔ اُس وقت عوام کا فی مشتعل تھی کہ علامہ نے کام خراب کیا ہے یہ ادھر کیوں آئے ہیں۔ بڑی مشکل سے ہم علامہ صاحب کو لیکر باہر آئے مگر علامہ صاحب بضد تھے کہ میں نے لوگوں سے خطاب کرنا ہے۔
ہم اسلامیہ کالج کے پورچ میں تھے اور اُس پورچ کے اُوپر ہمارے کالج کے پرنسپل کھڑے تھے جن کے ہمراہ دو انگریز بھی تھے۔

میں نے اوپر دیکھا تو انہوں نے مجھے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔ ہمارے پرنسپل ملک عمر حیات تھے انہوں نے مجھے کہا کسی طرح علامہ کو دروازے سے باہر نکالو۔ ہم علامہ صاحب کو سٹاف روم والے دروازے کی طرف لے گئے۔ لوگ باریک کیری جو اُس وقت زمین پر پڑی تھی اٹھا کر ہم پر پھینک رہے تھے ہمارے سر مٹی سے بھر چکے تھے۔ ہم نے علامہ صاحب کو بحفاظت کالج کے دروازے سے باہر نکالا۔

اِس دھکم پیل میں میرا پہلی دفعہ سلوایا ہوا پینٹ کوٹ سوٹ بھی پھٹ گیاجو کہ میں نے خصوصاً حضرت قائدِاعظم کے ساتھ ڈیوٹی کے لئے سلوایا تھا۔ اِس سوٹ کے پھٹنے کا مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔
اُس سے اگلے دن حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے ہمارے کالج مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن اور انجمن حمایتِ اسلام کی خواتین سے خطاب کرنے آنا تھا۔ اِس خطاب میں حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے ہمارے کالج کے پرنسپل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :
میں تعلیم کے حق میں ہوں اور میں نے کبھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ تعلیم چھوڑ کر یہ کام کرو لیکن اِس وقت آپ کی قوم آپ سے کچھ مانگ رہی ہے۔

میں پرنسپل سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ایک مہینہ اپنے سٹوڈنٹس کو اجازت دیں تاکہ وہ اپنا فرض اپنی قوم کو ادا کر سکیں ورنہ یہ وقت آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا۔ یہ سن کر ہمارے پرنسپل گھبرا گئے کیوں کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کالج انجمنِ حمایتِ اسلام کے زیرِ اثر تھا جس کے صدر جسٹس نسیم حسن شاہ کے والد سید محسن شاہ تھے۔ جب یہ بات کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تو سید محسن شاہ نے اِس بات کی مخالفت کی کہ نہیں لڑکوں کو اِس کی اجازت نہیں دینی چاہئے جبکہ میاں امیرالدین اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ نہیں لڑکوں کو اجازت دینی چاہئے۔

اس طرح ہم نے اِس الیکشن میں حصہ لینے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ہم نے ہوسٹل میں موجود لڑکوں کی فہرستیں تیار کیں اور جو ہوسٹل میں نہیں تھے اُن کی بھی فہرستیں تیار کیں۔ پورے پنجاب ، سرحد ، بلوچستان سے اسلامیہ کالج میں لڑکے پڑھنے آتے تھے۔ اِن سب کی فہرستیں تیار کرنے کے بعد اُن کا ایک رہنما مقرر کردیا گیا۔ اُس روز اسلامیہ کالج میں دو کورسز کا اہتمام کیا گیا۔

ایک کالج کے اندر اور دوسرے کورس کا اہتمام کالج کے باہر مس فاطمہ نام کی ایک خاتون کے گرلز سکول میں کیا گیا تھا۔ مس فاطمہ کا سکول محمود قصوری صاحب کے گھر کے پاس تھا۔ اِس طرح سے سب طالب علموں کی الیکشن کی تربیت کا اہتمام کیا گیا اور ہر ضلع کے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا۔ فہرستوں کی تیاری کے دوران ہم نے اُن لوگوں کی بھی فہرستیں تیار کیں جن کے پاس سائیکلیں ہوتی تھیں۔

ہم نے اُن کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ ووٹر کو اپنی سائیکل پر بیٹھا کر پولنگ سٹیشن لے کر جائیں۔ میں خاص طور پر اُن ٹانگے والوں کو سلام پیش کرتا ہو جنہوں نے اُس وقت ہماری کمیونیکیشن میں بہت اہم کردار اداکیا۔ اندرون شہر سے لاہور کے مختلف علاقوں میں اُس وقت ٹانگے جایا کرتے تھے۔ اُس وقت اگر کسی نے کوئی پیغام بھجوانا ہوتا تھا تو وہ ایک رقعہ اُس کے حوالے کر دیتے تھے وہ رقعہ اُس شخص تک پہنچ جاتا تھا۔

ہم سب کو آپس میں رابطے میں رکھنا اِن کا کام تھا۔
اِسی طرح الیکشن ہو گئے اور الیکشن کے نتائج نے پورے ہندوستان کو ہلا کے رکھ دیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ مسلم لیگ ایک طاقت بن کر ابھرے۔ اِس سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا کہ جب میں نے پاکستان بننے کے بعد آرمی جوائن کی تو میرے انگریز پلاٹون کمانڈر کو میرے بارے میں پتا چلا ۔

وہ جب بھی مجھے بلاتا تھا تو مجھے فریڈم فائیٹر کہ کر بلاتا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کا والد ناردرن کمانڈ کا میجر جنرل تھا اور وہ اے ڈی سی کے طور پر اپنے والد کی ساتھ کام کرتا تھا۔ برٹش فوج میں اپنے لڑکے کو اے ڈی سی رکھنے کی اجازت تھی۔
اُس نے بتایا کہ الیکشن کے بعد وائس رائے نے ایک میٹنگ بلوائی جس میں تمام گورنرز اور تمام جرنیلوں کو بلایا۔

وہ سب انگریز تھے اُن میں سے کوئی بھی ایشین نہیں تھا۔ اُس میٹنگ میں وائس رائے نے ڈی آئی جی ، سی آئی ڈی لاہور سے کہا کہ تمھاری رپورٹ ہے کہ تم نے کہا تھا مسلم لیگ 35 سے 40 فیصد ووٹ بھی لے گئی تو بہت بڑی بات ہو گی۔ مگر یہاں تو ساری سیٹیں ہی مسلم لیگ لے گئی ہے۔ اُس نے کھڑے ہو کر کہا کہ سر ہم نے سٹودنٹ فیڈریشن کو شمار ہی نہیں کیا تھا۔ یہ ہماری غلطی تھی ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک بھرپورجماعت بن کر ابھریں گے اور ہر چیز کو تہ و بالا کر دیں گے۔

یہ سن کر وائس رائے نے اُسے کہا کہ:
"You have given a wrong report. You are disloyal to his majisty's Government."
اُس نے کہا کہ یہ ایک انگریز کے لئے بہت بڑی گالی تصور کی جاتی تھی۔ اِس سے آپ اندازہ لگالیں کہ حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے کن حالات میں سب لوگوں کا مقابلہ کیا۔ اُن ہی دنوں میں ایک اور بہت بڑا واقعہ پیش آیا جب مسلمان نوجوان زخمی ہونا شروع ہو گئے۔

پتا چلا کہ کاروائی ہندو تنظیم آر ایس ایس اور ہندو محاسبہ کے لوگ کر رہے ہیں۔ ہمیں تو لاٹھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی جبکہ اِن تنظیموں پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اِس صورتحال میں مسلم لیگ کے پاس تو کوئی دفتر تک نہ تھا۔ مسلم لیگ کا دفتر اُس وقت بنا جب میاں افتخارالدین کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آئے۔ مسلم لیگ کا دفتر لاہور میں سینما گھروں کے بیچ میں ایک گلی میں تھا۔

اِس دفتر میں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے جنگ عظیم دوئم میں سے واپس آنے والے ہلمٹ کی کافی بڑی تعداد مسلم لیگ نے خرید کر اپنے دفتر میں رکھ لی۔ مجھے یاد ہے یہ سامان دو بیل گاڑیوں پر لایا گیا تھا۔ جب یہ سامان مسلم لیگ کے دفتر میں پہنچ گیاتو لاہور میں شور مچ گیا کہ مسلم لیگ نے اسلحہ جمع کیا ہے۔ یہ جنوری یا فروری 1947 ء کے مہینے کی بات ہے کہ پولیس آگئی اور کہا کہ ہم نے دفتر کی تلاشی لینی ہے ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں نے اسلحہ جمع کیا ہوا ہے ۔

کلرکوں نے افتخار حسین ممدوٹ صاحب کو فون کیا اور انہوں نے میاں افتخار الدین کو بھیجا۔ میاں افتخارالدین اور کچھ اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ میاں افتخار الدین سمجھدار انسان تھے اور وہ جانتے تھے کہ کانگرس میں کیا ہوتا رہا ہے۔ میاں افتخارالدین نے تلاشی دینے سے انکار کر دیا۔ پولیس نے کہا اگر آپ تلاشی نہیں لینے دیں گے تو ہم آپ کو گرفتار کر لیں گے۔

میاں افتخارالدین نے کہا کہ ہم نے آپ کو منع تو نہیں کیا۔ اِس طرح لیڈرشپ یہاں گرفتار ہو گئی۔ جب لیڈر شپ گرفتار ہو ئی تو سب نے سمجھا کہ کام اب ختم ہو گیا ہے۔ مگر مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاج شروع کر دیا۔ یہ احتجاج کا سلسلہ ایسا چلا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر لوگ جمع ہو کر نکلتے اور احتجاج کرتے۔

اِس احتجاج میں خواتین بھی بھرپور شرکت کر رہی تھیں۔ پولیس ہم پر لاٹھی چارج کرتی تھی۔ اسی دوران ساندہ سے دو جلوس نکلے ۔ ایک مردوں کا اور دوسرا عورتوں کا۔ عورتیں ایک جگہ اکٹھی ہوئیں اور پھر وہاں سے سیکرٹریٹ جا کر احتجاج شروع کردیا۔ سیکرٹریٹ کے سامنے پہنچتے ہی پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور خواتین کو دھکیلتے ہوئے انارکلی تک لے گئی۔

وہاں سے ایک اور جلوس اِس جلوس کے ساتھ شامل ہو گیا۔ اِس جلوس کو میری والدہ لیڈ کر رہی تھیں۔ میری والدہ کوئی سیاسی خاتون نہیں تھیں۔ یہ سب خواتین دوبارہ اکٹھی ہو کر سیکرٹریٹ کی طرف آنا شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ یہ خواتین گیٹ کے سامنے پہنچ گئیں۔ اِن خواتین نے گیٹ کے اور چڑھنا شروع کر دیا ۔ یہ منظر دیکھ کر گیٹ کیپر جو کہ مسلمان تھا اُس نے گیٹ کھول دیا۔

اُس دور میں نئے نئے پھول کھلے ہوئے تھے۔ خواتین بہت منظم تھیں ۔ کسی نے ایک بھی پھول نہیں توڑا۔ یہ خواتین راہداری سے ہوتے ہوئے اوپر چھت پر چلی گئیں اور یونین جیک کا جھنڈا اتار دیا۔ مامی زُہرا کا دوپٹہ جو کہ سبز رنگ کا تھااُس کو جھندے کی جگہ لہرا دیا۔ یونین جیک کو تہہ کر کے ایک انگریز کو پکڑا دیا۔ انگریز آئی جی جب آیا تو اُس کو پتا چلا کہ اُس کا جھنڈا تو اُتر چکا ہے۔

اِس واقعہ کو ہر انگریزی اخبار نے شائع کیا۔ یہ واقع اپنی نوعیت کا خاص واقعہ تھا جس میں خواتین نے بہت اچھے طریقے سے انگریز گورنمنٹ کو یہ پیغام دیا کہ ہم نے تمھارا جھنڈا ابھی تو بہت عزت سے تہہ کر کے دیا ہے آپ کے لئے بہتر یہی ہے کہ آپ انڈیا کو چھوڑ جائیں۔
اگلے دن میں جب کالج گیا تو اخبار کا پہلا صفہ کالی سیاہی سے بھرا ہوا تھا بس آخر میں ایک لائین لکھی تھی کہ میں اپنی ماؤں ، بہنوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں کہ میری غلطی تھی جو میں نے وزارت قبول کی۔

خضر حیات
اِس بات پر ہر ایک نے نیا نعرہ دیا " ہن اودھروں اک خبر آئی اے۔ خضر ساڈا بھائی اے۔
سب لوگ خضر حیات کی کوٹھی جو کہ کینٹ میں تھی وہاں پہنچ گئے۔ مگر وہاں خضر حیات کسی کو نہیں ملے۔ خضر حیات ٹوانہ کے بارے میں تھوڑا بتاتی چلوں کہ خضر حیات تقسیم سے پہلے پنجاب کے پرائم منسٹر رہے ہیں اور یونینسٹ پارٹی کے ممبر تھے۔ تقسیم سے پہلے پرائم منسٹر کو پریمئر (Premier) آف پنجاب کہا جاتا تھا۔

خضر حیات تقسیم کے خلاف تھے ۔ بہت زیادہ احتجاج کی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدے سے 2 مارچ 1947ء کو استعفیٰ دیا۔ مارچ سے لیکر تقسیم تک پنجاب میں کوئی پرائم منسٹر نہیں رہا ۔
مارچ سے لیکر 14 اگست 1947ء تک پنجاب گورنر ایون جینکن (Sir Evan Meredith Jenkins ) کے براہِ راست کنٹرول میں رہا۔
خضر حیات کے استعفیٰ کے بعد قائدِ اعظم نے کہا کہ اِن بچیوں نے جو کام کیا ہے وہ ہم اپنی پوری تحریک میں نہیں کر سکے۔جاری ہے!
تاریخ اشاعت: 2020-02-14

Your Thoughts and Comments