وزارت اطلاعات و پیمرا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو ہدایت دیں کہ وہ جسٹس افتخار چوہدری کیخلاف صدارتی ریفرنس پر تبصرے نہ کریں، سپریم جوڈیشل کونسل،معاملے پر میڈیا ٹرائل سے گریزکیا جائے، رجسٹرار سپریم کورٹ و سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل

منگل مارچ 22:08

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مارچ۔2007ء ) سپریم جوڈیشل کونسل نے ایک مرتبہ پھرغیرفعال چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف صدارتی ریفرنس پر خبروں، آراء، اوراس سے متعلقہ پروگرام یا تبصرے نشر یا شائع کرنے کے حوالے سے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا ٹرائل میں مصروف ہے وہ اس سے گریز کرے اورمحتاط رہے جبکہ وزارت اطلاعات و پیمرا میڈیا کو ہدایت کرے کہ معاملے سے متعلقہ پروگرام، تبصرے وغیرہ شائع یا نشر نہ کئے جائیں۔

منگل کو رجسٹرار سپریم کورٹ و سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل محمد علی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کی دفعہ 209 کے تحت جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے کونسل نے اس بات کوسختی سے نوٹ کیا ہے کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا اس مواد میں میڈیا ٹرائل میں مصروف ہے جس کی ان کیمرہ سماعت ہو رہی ہے اس کو کونسل کی جانب سے دیئے گئے طریقہ کار کے بغیر رپورٹ نہیں کیا جا سکتا اس لئے سپریم جوڈیشل کونسل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو میڈیا ٹرائل سے گریز کرنے اور محتاط رہنے کی ہدایت کرتی ہے اور اس سلسلے میں وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان، الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کو ہدایت کرے کہ وہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کو ہدایت دیں کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق بیانات، ٹاک شوز اوراس قسم کے دوسرے پروگرام یا تبصرے شائع یا نشر نہ کرے۔

(جاری ہے)

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل آزادی رائے اورپریس کی آزای پر یقین رکھتی ہے اور ریاست کے ہر شہری کے حق کو تسلیم کرتی ہے کہ ریفرنس کی کارروائی کے حوالے سے اسے میڈیا کے ذریعے باخبر رکھا جائے اس سلسلے میں ایک مناسب طریقہ کاراختیار کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو روزانہ کی سماعت کے بارے میں اطلاعات حاصل ہوں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری محمد علی کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے اورانہوں نے کونسل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کی درخواست دائر کی جس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری قانون و انصاف و انسانی حقوق ڈویژن حکومت پاکستان کونوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ریفرنس کی سماعت 16 مارچ 2007ء بروزجمعہ تک ملتوی کر دی گئی ہے جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی درخواست پر سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ چوہدری اعتزازاحسن، علی احمد کرد ایڈووکیٹ، منیر اے ملک، طارق محمود اور حامد خان پر مشتمل پانچ رکنی پینل کو ان کی طرف سے پیش ہونے کی اجازت دی گئی جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے کیس کے دلائل کے حوالے سے پینل کی معاونت کی۔

رجسٹرارسپریم کورٹ اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری یبان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے کے صحیح طریقہ کارا ور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریسپانڈنٹ کو ان کی مشاورت کیلئے رسائی ہوگی۔