بلدیاتی نظام وفاق سے صوبوں کو منتقل

جمعہ جنوری 12:45

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔01جنوری2010ء) مقامی حکومتوں کا بلدیاتی نظام اکتیس دسمبر کی رات بارہ بجے سے وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے۔ صوبہ سندھ کے علاوہ باقی تمام صوبوں نے ناظمین کے موجودہ نظام کوختم کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم نیا نظام آنے تک تمام ناظمین کام کرتے رہیں گے۔صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی اداروں کے آرڈینس 2001 میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

اب صوبائی حکومتیں مجوزہ آرڈینس میں ترمیم کے حوالے سے صدر سے اجازت حاصل کرنے کی پابند نہیں ہوں گی۔ اب صوبائی حکومتیں ناظموں کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کر سکیں گی جو عبوری انتظام ہو گا اور نئے انتخابات تک وہ ذمے داریاں نبھائیں گے تاہم بلدیاتی انتخابات موخر ہونے کی صورت میں موجود ناظمین ہی کام کریں گے۔

موجودہ بلدیاتی نظام کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

صدر زرداری نے وزیر اعظم کی تجویز پر آئین کے شیڈول چھ میں شامل مقامی حکومتوں کے چار آرڈینس منسوخ کر دئیے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ صدر نے نئے سال کے آغاز پر قوم کر صوبائی خود مختاری کا تحفہ دیا ہے۔ ان احکامات کی روشنی میں صوبے سن دو ہزار دس میں مقامی حکومتوں کی آئین سازی یا آرڈینس اپنے قوانین کے مطابق کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے مقامی حکومتوں کے معیار اور ان کے انتخابات یا ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کے بارے میں فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے۔ سندھ میں ناظمین کو ہٹا کر سیاسی یا غیر سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے لئے صدر زرداری نے ہفتہ دو جنوری کو بلاول ہاوس میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ بلدیاتی نظام میں حتمی ترامیم کے لئے سندھ اسمبلی کا اجلاس سات جنوری کو طلب کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments