ملک بھر میں2012 کے آخری روز نئے سال کی مبارکباد کیلئے ایک ارب سے زائد ایس ایم ایس کئے گئے، نئے سال کی پہلی شب موبائل فونز کمپنیوں کی چاندی ، کروڑوں ڈالر کمالئے، عام حالات میں صارفین روزانہ اوسطاً دو میسجز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں، سال کے آخری روز اس کی تعداد دس گنا بڑھ گئی ،ملک بھر میں تمام نیٹ ورک کے صارفین نے ایک ارب 20کروڑ ایس ایم کئے،موبائل فونز کمپنیاں

منگل جنوری 14:52

کراچی/اسلام آباد/لاہور/کوئٹہ/جھنگ/پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء) ملک بھر میں سال کے آخری روز نئے سال کی مبارکباد دینے کیلئے ایک ارب سے زائد شارٹ میسج دوستوں اور خاندان والوں کو بھیجے گئے جبکہ موبائل فونز کمپنیوں نے کہا ہے کہ عام حالات میں تو صارفین روزانہ اوسطاً دو میسجز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں لیکن سال کے آخری روز اس کی تعداد دس گنا بڑھ گئی ،ملک بھر میں تمام نیٹ ورک کے صارفین نے ایک ارب 20کروڑ ایس ایم کئے، 2012کے آخری روز اور نئے سال کی پہلی شب میں موبائل فونز کمپنیوں کی چاندی ہوگئی اورایک رات میں کروڑوں ڈالر کمالئے ۔

منگل کو میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سال کے آخری روز نئے سال کی مبارکباد دینے کیلئے صارفین نے ایک ارب سے زائد شارٹ میسج اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو بھیجے ۔

موبائل فونز کمپنیوں نے کہا ہے کہ دسمبر کی شام سے اگلے پورے دن کے دوران صارفین کی جانب سے ایک ارب سے زائد شارٹ میسجز بھیجے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ویسے تو صارفین روزانہ اوسطاً دو میسج ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں لیکن سال کی آخری روز میں اس کی تعداد دس گنا بڑھ گئی اسی طرح ملک بھر میں تمام نیٹ ورک کے صارفین نے ایک ارب 20کروڑ ایس ایم ایس کئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ سال ایسا سیزن ہوتا ہے جس میں صارفین اندرون و بیرون ملک بہت زیادہ ایس ایم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہیں ۔بعض کمپنیاں ایس ایم ایس کے ہیوی ٹریفک کی وجہ سے اپنے ریگولر پیکج کو ختم کردیتے ہیں یا پھر ان کے ریٹس میں اضافہ کردیا جاتا ہے ۔اس موقعہ پر موبائل کمپنیاں پیکج سے مقرر کردہ رقم سے زائد وصول کرتی ہیں اور اس سے انکی آمدن میں کافی حد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔یادرہے کہ گزشتہ سال سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دو مختلف مواقعوں پر پندرہ شہروں میں موبائل سروس معطل رہی جس کی وجہ سے موبائل کمپنیوں کو6سو ملین روپے کا نقصان اٹھا نا پڑا ۔کمپنیوں کی آمدنی میں حکومت کے 30فیصد حصص ہوتے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments