ملازمین کے مسائل کوہرسطح پراجاگر کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کیا ،چوہدری یٰسین

سی ڈی اے میں موجود میر جعفر و میر صادق ملازمین و ادارے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،اورنگزیب خان سی ڈی اے مزدوریونین(سی بی اے)کے قائدین کی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت

جمعرات اگست 21:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔25 اگست ۔2016ء) سی ڈی اے مزدوریونین (سی بی اے )کے قائدین جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین ،صدر اورنگزیب خان ،چیئرمین راجہ شاکر زمان کیانی ،سپریم ہیڈ صوفی محمود علی،اظہر خان تنولی،وارث دلیپ،لالہ فرمان ،شبیر تنولی ،عبدالستار بروہی،احمد علی شیرازی و دیگر عہدیداران نے سی ڈی اے ملازمین و ادارے کی تقسیم اور اثاثوں کے تحفظ کی خاطر اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر رٹ پیٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی ،اس موقع پر سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ مزدور یونین ایک سال سے زائد عرصے سے ہر فورم پر ملازمین کے مسائل تحفظات و خدشات کو اجاگر کرتی چلی آئی لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی سطح پر بھی ہمارے مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے سی ڈی اے مزدور یونین نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور بطور نمائندہ تنظیم یہ ہماری ذمہ داری بنتی تھی کہ ہم ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں یہی وجہ ہے کہ ہم نے ملک کے معروف وکیل نعیم بخاری کے تواسط سے اپنا قانونی و آئینی حق استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کی جس میں ہمارا موقف ہے کہ سی ڈی اے ملازمین کو قانون کے تحت انکی مرضی کے بغیر کسی دوسرے ادارے میں ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا جبکہ منسٹری آف کیڈ کے ایک افسر نے ایک خط کے ذریعے 9000ملازمین اور ادارے کے اربوں روپے کے اثاثے ٹرانسفر کر دیے جس کی وجہ سے ملازمین کو ملنے والی مراعات میں شامل پلاٹوں کی الاٹمنٹ ،حج پالیسی ،انکے بچوں کی بھرتی ،اپ گریڈیشن و پروموشن و دیگر حاصل شدہ مراعات متاثر ہونے کا خدشہ ہے لہذا ہم نے اپنا قانونی حق استعمال کیااور سی ڈی اے کے مختلف ڈائریکٹوریٹ واٹرسپلائی ،سینی ٹیشن ،ایم پی او،سی ڈی اے ہسپتال و دیگر ملازمین نے بھی اپنے طور پر رٹ پیٹیشن دائر کی ہے اور امید ہے کہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ،سی ڈی اے میں موجود چند شکست خوردہ عناصر جن کو ملازمین پانچ مرتبہ مسترد کر چکے ہیں وہ ڈھول گروپ آج بھی ادارے میں میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے ملازمین و ادارے کی تقسیم میں برابر کا شریک ہے لیکن سی ڈی اے کا محنت کش انکا اصل چہرہ پہچان چکا ہے یہ لوگ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے ،بطور جمہوریت پسند شہری ہم نے ہمیشہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو با اختیار دیکھنے کا عزم ظاہر کیا اور ہمارا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ منتخب نمائندوں کو بااختیار ہو نا چاہیے تاکہ وہ عوام کے لیے بہتر پالیسیاں مرتب کر سکیں ،اسلام آباد کے بننے والے میئرز اور ڈپٹی میئرز صرف سی ڈی اے کے 23شعبوں کے میئرنہیں ہیں بلکہ اسلام آباد کے اندر وہ دیگر شعبے جو عوامی مفادعامہ کے لیے خدمات سر انجام دیتے ہیں ان سب کو بھی میئر کے ماتحت کیا جائے جبکہ صرف سی ڈی اے ماڈل سکول اور سی ڈی اے ہسپتال کو میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت کیا گیا ہے اور دارلحکومت کے دیگر سکول اور ہسپتال میئر کے ماتحت کیوں نہیں کیے گئے ہمارا موقف ہے کہ سی ڈی اے کے ادارے کو تقسیم کرنے کی بجائے پورے کا پوراادارہ میئر کے ماتحت کر دیا جائے تاکہ ملازمین کے خدشات بھی دور ہو جائیں اور سی ڈی اے جیسا قومی ادارہ بھی ٹوٹنے سے بچ جائے ،ہم بلدیاتی نظام کو محفوظ اور مضبوط تر دیکھنا چاہتے ہیں ہم کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتے ،ہماری ٹیم کا آئینی حق ہے کہ ہم ملازمین کے حقوق کا تحفظ کریں جنہوں نے ہمیں مسلسل تین مرتبہ منتخب کیالہذا کسی بھی فریق کی طرف سے ایسے بیانات نہیں جاری ہونے چاہیں جسکی وجہ سے کسی کی دل شکنی ہو ،منتخب عوامی نمائندے عوام سے ووٹ لے کر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے آئے ہیں اور جس طریقے سے سی ڈی اے جیسے قومی ادارے کی غیر فطری اور غیر آئینی تقسیم کا عمل جاری ہے اس کی وجہ سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ انکو ووٹ دینے والی عوام بھی مشکلات سے دوچار ہے ،ہماراجینا مرنا سی ڈی اے ملازمین کے ساتھ ہے ہم آخری دم تک ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

متعلقہ عنوان :