ہسپتالوں کا نظام احسن طریقہ پر چلانے کیلئے وائے ڈی اے جیسی تنظیموںپر پابندی لگائی جائے ‘میڈیکل ٹیچرز کا مطالبہ

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال سے صرف چند ہسپتالوں کی ورکنگ متاثر ہو رہی ہے، زیادہ تر ہسپتال معمول کے مطابق چل رہے ہیں

پیر اگست 18:46

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) صوبے کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس نے مطالعہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کا ماحول خراب ہونے سے بچانے، میڈیکل کے شعبہ کا تقدس بحال کرنے اور ٹیچنگ و سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے اداروں کا نظام احسن طریقہ سے چلانے کے لئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن جیسی تنظیموں پر پابندی لگائی جائے۔

وزیرسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں میڈیکل یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے سربراہوں کے اجلاس میں یہ معاملہ سامنے آیا۔ اجلاس میں فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فرید ظفر،فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فخر امام، نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر مصطفی کمال پاشا، سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمر، امیرالدین میڈیکل کالج/PGMIکے پرنسپل پروفیسر غیاث النبی طیب، چلڈرن ہسپتال کے ڈین پروفیسر مسعود صادق،میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر احسن وحید راٹھور، ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر وحید الحمید، علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر راشد ضیاء ، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ندیم حیات ملک کے علاوہ رحیم یار خان میڈیکل کالج کے پرنسپل اور تمام متعلقہ ٹیچنگ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نجم احمد شاہ، سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر ساجد محمودچوہان، ایڈیشنل سیکرٹری راجہ منصور و دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ روز جناح ہسپتال میں ڈاکٹرز کے واک ان انٹرویوز کے دوران وائے ڈی اے کے ایک گروپ کی جانب سے ہلڑ بازی، انٹرویو کے لئے آئی ہوئی خواتین کو ہراساں کر کے انٹرویو دینے سے روکنے کی کوشش کی بھرپور مذمت کی گئی۔

نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ نشتر ہسپتال میں سوموار کے روز ایک ینگ ڈاکٹر نے شیشہ سے اپنے ہاتھ پر زخم لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس پر انتظامیہ نے تشدد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے بارہ بجے تک ہسپتال کے آئوٹ ڈور میں2ہزار سے زائد مریض دیکھے گئے۔ چلڈرن ہسپتال میں 73 میں سے 64میڈیکل آفیسر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں اور سوموار کے دن آئوٹ ڈور میں 1250 مریض آئے۔

سیکرٹری صحت نجم احمد شاہ نے کہا کہ پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹرز کی انڈکشن کاتیسرا رائونڈ چل رہا ہے اور سی پی ایس پی نے آر ٹی ایم سی کی تاریخ 13 اگست تک بڑھا دی ہے جو پی جی غیر حاضر اور برطرف ہوں گے ان کی جگہ پر نئے امیدواروں کو موقع فراہم کیا جائے گا اور پی آئی ٹی بی آن لائن پورٹل پر منگل کی شام تک درخواستیں وصول کرے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی کے تینوں ہسپتالوں میں حالات معمول پر ہیں اور مریضوں کا علاج معالجہ بغیر کسی مداخلت کے جاری ہے۔

جبکہ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں وائے ڈی اے نے گڑبڑ کرنے اور مریضوں کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جناح ہسپتال لاہور کے آئوٹ ڈور میں 2088 مریض جبکہ 12بجے دوپہر تک ایمرجنسی میں 251 مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا جبکہ 25 میجر آپریشن بھی کئے گئے۔ پروفیسر محمود ایاز نے بتایا کہ سروسز ہسپتال میں 95فیصد کام معمول پر آ گیا ہے۔ میوہسپتال، سر گنگا رام ہسپتال، چلڈرن ہسپتال، لیڈی ایچی سن اور لیڈی ولنگڈن ہسپتال پہلے ہی مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات معمول کے مطابق فراہم کر رہے ہیں اور ان ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے وائے ڈی اے کی ہڑتال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

چلڈرن ہسپتال کے لئے جولائی میں انڈکٹ کئے گئے 100 PG ڈاکٹرز نے جوائننگ دے دی ہے اور سوموار کے روز ان کی اورینٹیشن کانفرنس بھی ہو گئی ہے۔ جبکہ جناح ہسپتال میں واک ان انٹرویو کے ذریعے نئے میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ علاوہ ازیں لاہور جنرل ہسپتال کے آئوٹ ڈور میں بھی سینئر ڈاکٹرز نے مریضوں کا معائنہ و علاج کیا۔ اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہسپتالوں کی ورکنگ میں رکاوٹ ڈالنے، ڈاکٹروں کو مریضوں کے علاج سے روکنے اور اساتذہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متعلقہ اداروں کی ڈسپلنری کمیٹیاں جو بھی فیصلہ کریں گی، محکمہ صحت نظم و نسق قائم کرنے اور عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات ہسپتالوں میں یقینی بنانے کے لئے اداروں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔