2025ء تک ملک بھر میں جامعات کی تعداد 300 اور پی ایچ ڈیز کی تعداد 38 ہزار ہوجائیگی ،ْ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد

انتہاپسندی معاشرے کا ناسور بن گئی ہے، اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ،ْ میڈیا سے گفتگو

پیر ستمبر 21:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر2017ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ 2025ء تک ملک بھر میں جامعات کی تعداد 300 اور پی ایچ ڈیز کی تعداد 38 ہزار ہوجائے گی ‘ 2019ء تک ہر ضلع میں یونیورسٹی کیمپس موجود ہوگا، پی ایچ ڈی سے متعلق شکایات پر 80سے زائد اداروں میں پی ایچ ڈی بند کرا دی گئی ہے ،ْ انتہاپسندی معاشرے کا ناسور بن گئی ہے، اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

کراچی کے واقعہ کے حوالے سے کسی پر الزام نہیں لگا رہے لیکن چند لوگوں کی وجہ سے سب کو خراب نہیں کہا جا سکتا۔ وہ پیر کو ایچ ای سی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ایک ویژن کے تحت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا‘ ایچ ای سی بنانے کا ایک مقصد پاکستان کے مسائل کا حل نکالنا بھی تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس صرف 2 جامعات تھیں، جب ایچ ای سی بنا تو کل جامعات 59 تھیں، آج ملک بھر میں 188 جامعات ہیں‘ان جامعات میں 30 لاکھ سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں اور پی ایچ ڈی سکالرز 3 ہزار سے بڑھ کر 12 ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے حکومت نے پچھلے 15 برسوں میں 336 بلین روپے کے فنڈز دیئے جن کو بہتر طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اسکے ثمرات طلباء و طالبات کو براہ راست مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی معاشرے کا ناسور بن گئی ہے، اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعہ کے حوالے سے کسی پر الزام نہیں لگا رہے لیکن چند لوگوں کی وجہ سے سب کو خراب نہیں کہا جاسکتا، جامعہ کراچی میں ہونے والا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے، والدین کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے بچے کیا کرتے ہیں، والدین کو بچوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس تناظر میں کراچی جامعہ کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مشعال خان کے قتل کے بعد فوری وائس چانسلر کانفرنس بلائی گئی تھی، آرمی چیف نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی، دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہے جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ شامل ہے کہ وہ تعلیم پر زیادہ خرچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات میں کسی قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ ایک اورسوال پر انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی سے متعلق مختلف اداروں سے شکایات موصول ہوئی تھیں، 80 سے زائد اداروں میں پی ایچ ڈی بند کرا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی بہت ضروری ہے، طلبا کو بہترین تعلیم دینا ایک چیلنج ہے۔ اس ضمن میں جامعات کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بھی پاکستان کی جامعات کا کردار اہم ہوگا، سی پیک روڈ پر جامعات بنیں گی، سی پیک کے راستے میں آنے والے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :