اصلاحی تنظیم کی عظیم الشان حق باہو کانفرنس اختتام پذیر، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت مقامی افراد کی بڑی تعداد کی شرکت

بزرگان دین یقین کی دولت سے مالامال تھے، اسباب کی قلت کے باوجود قرب کی تمام منازل نصیب ہوتی ہیں، محمد علی سلطان

منگل جنوری 10:40

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جنوری2018ء) اصلاحی تنظیم کی عظیم الشان حق باہو کانفرنس ایبٹ آباد میں اختتام پذیر ہو گئی ، اصلاحی تنظیم و عالمی تنظیم العارفین کی جانب سے کامرس کالج گرائونڈ ایبٹ آباد میں حق باہو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر اظہر جدون، علی خان جدون، اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ مقامی لوگوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت سلطان باہو و سرپرست اعلیٰ اصلاحی جماعت محمد علی سلطان نے کہا کہ الله تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ رکھنے والا اس بات پر متفق ہوتا ہے کہ وہ دنیا کا عظیم مجرم ہو کر بھی وہ موت سے قبل توبہ تائب کی خواہش رکھتا ہے، موت سے قبل توبہ کی خواہش الله تعالیٰ کو اپنے بندے کی ادا پسند آتی ہے، الله تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، اس میں شرط لازم ہے کہ الله تعالیٰ سے یقین کامل ہونا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بزرگان دین یقین کی دولت سے مالامال تھے، اسباب کی قلت کے باوجود اس کے قرب کے تمام منزلیں نصیب ہوتی ہیں، الله تعالیٰ کی عبادت اس یقین سے کرنی چاہیے کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، یقین ایمان کی ترقی یافتہ شکل ہے جبکہ طریقت شریعت کی شکل ہے، طریقت عبادت کا اگلا درجہ ہے۔ محمد علی سلطان نے کہا کہ ایک مسلمان کی عبادت یہ ہے کہ ہو وہ پورے یقین کے ساتھ راغب ہو کر عبادت کرے، یہ سعادت عظمیٰ الله رب العزت نے اپنے انبیاء کرام کو عطاء کی ہے، یقین کے بغیر عبادت ایسے ہی ہے جیسے جسم روح کے بغیر ہے۔ اصلاحی جماعت کے اجتماع میں مقامی لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔

متعلقہ عنوان :