فنانشل ٹاسک فورس میں قرارداد کا مقصد پاکستان پر دبائو ڈالنا ہے ،ْ احسن اقبال

پوری پاکستانی قوم کو یک زبان ہو کر عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ ہم دبائو برداشت نہیں کریں گے ،ْ اسمبلی میں اظہار خیال بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے 15 ارب یونٹس نقصان کی خبر بے بنیاد تھی ،ْعابد شیر علی جن اداروں کے بجٹ سیشن کے دوران اعلان کردہ اعزازیہ دینے سے رہ گئے ہیں، ان کو اس کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ،ْسپیکر کی ہدایت ْ محمود خان اچکزئی کا سینیٹ الیکشن کے حوالے سے مبینہ طور پر مداخلت پر سخت تشویش کا اظہار سوات اور مالاکنڈ ڈویژنوں کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹوں پر تضحیک آمیز انداز میں تلاشی کا سلسلہ بند کیا جائے ،ْمراد سعید کا مطالبہ

پیر فروری 23:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ فنانشل ٹاسک فورس میں قرارداد کا مقصد پاکستان پر دبائو ڈالنا ہے ،ْپوری پاکستانی قوم کو یک زبان ہو کر عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ ہم دبائو برداشت نہیں کریں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے نکتہ ء اعتراض پر کہا کہ فنانشل ٹاسک فورس میں پاکستان کو صرف چین کی حمایت حاصل ہے، باقی سارے ملک اس کی مخالفت کر رہے ہیں اس کے جواب میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ 2015ء سے پاکستان کو گرے کیٹگری سے وائٹ کیٹگری میں کر دیا ہے ،ْ اس قرارداد کا تعلق خارجہ پالیسی سے نہیں ہے ،ْاس کا مقصد پاکستان پر دبائو ڈالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کو عالمی برادری کو یک زبان ہو کر پیغام دینا چاہئے کہ ہم دبائو برداشت نہیں کر سکتے ،ْہم دہشت گردی کے خلاف امریکہ سمیت کسی کے لئے جنگ نہیں لڑ رہے ،ْیہ جنگ قومی اتفاق رائے سے لڑی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر دبائو ڈالنا ہے۔

اس کا قومی اسمبلی کی جانب سے عالمی برادری کو قرارداد کے ذریعے یک زبان ہو کر پیغام دینا چاہئے۔ ہم پاکستان کی سرزمین کے اندر دہشت گردی کی اجازت دیں گے نہ ہی پاکستان کی دہشت گردی کے لئے سرزمین استعمال ہونے دیں گے۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے فتویٰ دیا ہے کہ خودکش حملے حرام ہیں اور ہم انتہاء پسندی کو پروان چڑھانے والی سوچ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات بعض مخصوص ممالک کے ایجنڈے کے تحت کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اثر ہمارے بجٹ پر پڑے گا جس سے ہمارے دہشت گردی کے خلاف اقدامات متاثر ہوں گے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کو اس صورتحال کا ادراک کرنا ہوگا۔ پیرس میں بیٹھنے والے ممالک کو مل کر پیغام دینا چاہئے کہ ہم کسی کے دبائو میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی ہمارا عزم متزلزل ہوگا۔

اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے شیخ صلاح الدین اور دیگر کے گزشتہ دو سالوں کے دوران سرکاری شعبہ کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے 15 ارب یونٹس سے زائد بجلی نقصان کے بارے میں توجہ دلائو نوٹس پر کہا کہ یہ توجہ دلائو نوٹس ایک انگریزی اخبار کی خبر کی بنیاد پر ہے جو قطعی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیپرا نے جینکوز کو اجازت دی ہے۔

نیپرا نے اعداد و شمار درست کرنے کے لئے دوبارہ پٹیشن لانے کا کہا ہے۔ یہ نیپرا کا قصور ہے، ہمارا نہیں۔ جنریشن کو سٹینڈ بائی رکھنا پیرا میٹرز کے مطابق ہے۔ پاور کمپنیاں اپنا سسٹم مکمل بند نہیں کرتیں کیونکہ اس کو دوبارہ شروع کرنے سے نقصان ہوتا ہے۔ پاور کمپنیوں کو 3.5 ارب یونٹس اسٹینڈ بائی رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر نگہت شکیل خان کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے کہا کہ نیپرا کی طرف سے حقائق کے برعکس رپورٹ پر نظرثانی کی ہے۔

ہم نے کہا ہے کہ یہ حقائق کے برعکس کیوں جاری کی گئی ہے۔ اخبار کی خبر کو بنیاد بنایا گیا ہے، یہ حقائق کے برعکس ہے۔اجلاس کے دور ان شازیہ مری نے کہا کہ سپیشل برانچ کے ملازمین کو ابھی تک بجٹ اعزازیہ نہیں ملا۔ اسی طرح اے پی پی کے ملازمین اور پی ٹی وی کے کیمرہ مین بھی اس سے محروم رہ گئے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ آپ کی بات وزیر داخلہ نے بھی سن لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو ہدایت کی کہ ان کی وزارت کے ماتحت جو ادارے رہ گئے ہیں ان کو بجٹ اعزازیہ کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی بات ہو رہی ہے۔ ابھی تک سابق جرمن سی ای او جہاز کے معاملے کی رپورٹ بھی نہیں آئی۔ سپیکر نے کہا کہ دوران سفر ایم ڈی پی آئی اے نے انہیں بتایا ہے کہ اس جہاز کے انجن کی قیمت 13 لاکھ ڈالر لگی ہے۔

باقی حصے کی قیمت بھی ملے گی۔ آپ لوگ طے کرلیں کہ اس معاملے کو ایوان میں زیر بحث لانا ہے تو لا سکتے ہیں۔اجلاس کے دور ان پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے مبینہ طور پر مداخلت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر جو منڈی لگی ہے اس سے ملک کی جگ ہنسائی ہوگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جس انداز سے مداخلت ہو رہی ہے یہ وفاق کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے بالخصوص بلوچستان میں اس حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔

سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جو منڈی لگی ہے اس سے ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ اجلاس کے دور ان پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے کہا کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژنوں کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹوں پر تضحیک آمیز انداز میں تلاشی کا سلسلہ بند کیا جائے۔نکتہ ء اعتراض پر مراد سعید نے کہا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے 40 لاکھ لوگوں نے ملک کے امن کے لئے اپنے گھر چھوڑے‘ جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

گزشتہ چند دنوں سے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے دشمن کے عزائم کو تقویت ملے گی۔ افغانستان سے دہشت گرد آ کر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں سے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں چیک پوسٹوں پر لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر تضحیک آمیز انداز میں تلاشی لی جاتی ہے اور انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، ہمیں ملک کا امن عزیز ہے۔ یہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔