کوئٹہ ،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و ٹرانسپورٹ کا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں مختلف گریڈ کی پوسٹوں پر تعیناتی کے احکامات کے اجراء پر سخت تحفظات کا اظہار

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل نے انہیں اعتماد میں لئے بغیر بدنیتی کی بناء پر راتوں رات یہ آرڈر جاری کئے گئے،میر عبدالکریم نوشیروانی

ہفتہ مارچ 22:22

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و ٹرانسپورٹ میر عبدالکریم نوشیروانی نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں مختلف گریڈ کی پوسٹوں پر تعیناتی کے احکامات کے اجراء پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل نے انہیں اعتماد میں لئے بغیر بدنیتی کی بناء پر راتوں رات یہ آرڈر جاری کئے گئے جس سے ان پوسٹوں پر بے قاعدگیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں لہٰذا میری وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے درخواست ہے کہ فوری طور پر ان احکامات کو منسوخ کرکے ان افسران کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور ان پوسٹوں پر دوبارہ ٹیسٹ و انٹرویو لے کر میرٹ اور قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

(جاری ہے)

یہاں جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و ٹرانسپورٹ میر عبدالکریم نوشیرانی نے کہا کہ میں نے جب اس محکمے کا چارج سنبھالا تو ان پوسٹوں کے حوالے سے سیکرٹری ایکسائز کو تحریری طور پر لکھا کہ وہ مجھے اس بارے میں مکمل بریفنگ دیں اور بتائیں کہ ان پوسٹوں پر تعیناتی کیلئے میرٹ سمیت دیگر قواعد و ضوابط کو کس حد تک ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے اور کہاں تک تعیناتی کے اس عمل کو صاف وشفاف بنایا جارہا ہے کیونکہ مجھے اس حوالے سے بہت سی شکایات موصول ہورہی ہیں لیکن سیکرٹری ایکسائز اور ڈائریکٹر جنرل نے میرے اس تحریری لیٹر پر کوئی دھیان نہیں دیا اور راتوں رات ان پوسٹوں پر تعیناتی کے احکامات مجھے اعتماد میں لئے بغیر اپنی مرضی سے کردیئے جس سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے اور بے قاعدگیوں کی جو شکایات مجھ تک اس حوالے سے پہنچی ہیں اُن کو بھی تقویت ملتی ہے اسی طرح محکمہ ہذا کی یونینز کو بھی ان پوسٹوں میں نظر انداز کیا گیا لہٰذا میری وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر ان پوسٹوں پر تعیناتی کے احکامات کو منسوخ کرنے کی ہدایت کریں اور متذکرہ دونوں افسران کے خلاف تحقیقات کے احکامات جاری کئے جائیں اس کے ساتھ ساتھ ان پوسٹوں پر دوبارہ تعیناتی کیلئے ٹیسٹ و انٹرویوز کا انعقاد کیا جائے جس میں میرٹ سمیت دیگر قواعد و ضوابط کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی یا زیادتی نہ ہو۔

متعلقہ عنوان :