ذیابیطس ویلنیس سنٹرکے زیر اہتمام رمضان اور ذیابیطیس کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

سحری میں سادہ روٹی کی بجائے کم چکنائی والا پراٹھا استعمال کریں‘افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کریں 1 سے 2 کھجوریں کھا سکتے ہیں کم مٹھاس کے ساتھ لیموں پانی‘ سی یا ڈائٹ مشروبات لے سکتے ہیں،اعتدال کے ساتھ دہی بڑے‘ فروٹ چاٹ یا چنا چاٹ کھا سکتے ہیں‘ ڈاکٹر روزینہ ارشد اور ڈاکٹرفوزیہ معین و دیگر کا سیمینار سے خطاب

پیر 2 اپریل 2018 16:26

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اپریل2018ء) ذیابیطس ویلنیس سنٹرکے زیر اہتمام ڈاکٹرفوزیہ معین کی قیادت میںمقامی ہوٹل میں رمضان اور ذیابیطیس کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہر ذیابیطیس اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر روزینہ ارشد‘ڈاکٹر عروج امام‘ماہر غذائیت فائزہ کومل‘کرنل ڈاکٹر عابد صدیقی نے شوگر کے مریضوں کو رمضان میں روزہ کے متعلق معلومات دیں تاکہ انہیں کوئی پریشانی کا سامنا نہ کر نہ پڑے۔

اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر روزینہ ارشد اور ڈاکٹرفوزیہ معین(سی ای او ذیابیطس ویلنیس سنٹر)نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کا معمول سال کے 11 مہینوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سحر اور افطار کے اوقات میں کارب غذائوں چینی‘ چکنائیوں اور مشروبات کا کثرت سے استعمال نہ صرف شوگر لیول کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے بلکہ بہت سے لوگ رمضان میں اپنا وزن بھی بڑھا لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

سحری اور افطاری کے علاوہ رات کا کھانا بھی ضرور کھانا چاہئے۔ نیز افطار سے سحرکے درمیان پانی کا استعمال کثرت سے کرنا چاہئے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ چائے‘ کافی اور کولڈ ڈرنک کے استعمال میں احتیاط کریں کیونکہ یہ جسم سے پانی کے اخراج کا باعث بنتے ہیں۔سحری جتنا ممکن ہو تاخیر سے کریں اور آذان فجر سے ذرا قبل ہی سحری مکمل کریں۔ سحری میں سادہ روٹی کی بجائے کم چکنائی والا پراٹھا استعمال کریں۔

یہ روزے کی حالت میں زیادہ دیر تک جسم کو توانائی مہیا کرتا ہے۔ ڈاکٹر عروج امام اورماہر غذائیت فائزہ کومل نے بتایا کہ افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کریں آپ 1 سے 2 کھجوریں کھا سکتے ہیں۔ آپ کم مٹھاس کے ساتھ لیموں پانی‘ سی یا ڈائٹ مشروبات لے سکتے ہیں۔ آپ اعتدال کے ساتھ دہی بڑے‘ فروٹ چاٹ یا چنا چارٹ کھا سکتے ہیں لیکن جلیبی‘ مٹھائیاں‘ سموسے اور پکوڑے آپ کی صحت کے لئے اچھے متبادل نہیں۔

ان کا استعمال کریں بھی تو صرف چکھنے کی حدتک۔روزے کی حالت میں سخت جسمانی مشقت یا ورزش سے گریز کریں کیونکہ اس سے ہائیپو ہو سکتا ہے۔ نیز زیادہ پسینہ بہنے سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ جو لوگ نماز تراویح ادا کرتے ہیں انہیں علیحدہ سے ورزش کی ضرورت نہیں پھر بھی اگر آپ سیر یا ورزش کرنا چاہیں تو مغرب کے بعد کرسکتے ہیں۔شرکاء کو قرعہ اندازی کے ذریعے گلو کو میٹر اور دیگر انعامات بھی تقسیم کئے گئے ۔

متعلقہ عنوان :