رواں مالی سال کے پہلی9ماہ میں حکومت کو آئل سیکٹر سے مقامی ٹیکسوں میں 38 فیصد اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی کے باعث ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ ہواہے، ماہرین

پیر اپریل 13:12

رواں مالی سال کے پہلی9ماہ میں حکومت کو آئل سیکٹر سے مقامی ٹیکسوں میں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)رواں مالی سال کے پہلی9ماہ میں حکومت کو آئل سیکٹر سے مقامی ٹیکسوں میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، آئل سیکٹر سے 108ارب روپے اکھٹے کئے ۔ٹیکس ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی کے باعث نمایاں اضافہ ہوا ۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق حکومت کی سب سے زیادہ آمدنی میں اضافہ تیل کی تلاش ،ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنی سے جولائی 2017 سے مارچ 2018 کے دوران انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈریل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

گذشتہ مالی سال اسی مدت میں آئل سکٹر سے مقامی ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 78 ارب 50 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا تھا جو رواں مالی سال 9 ماہ میں آئل سیکٹر سے مقامی ٹیکس کی مد میں 29 ارب 50 کروڑ روپے اضافی وصولی سے 108 ارب روپے رہی ۔ذرائع کے مطابق 9 ماہ میں آئل سیکٹر سے انکم ٹیکس کی مد میں 17 ارب روپے سیلز ٹیکس سے 89 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز دیوٹی کی مد میں 2 ارب 11 کروڑ روپے اکھٹے کئے گئے ۔ٹیکس ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصوعات کی قیمتوں میں اضافے ، طلب بڑھنے اور سو دنوں میں روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی کے باعث حکومت کو آئل سیکٹر سے زیادہ ٹیکس وصولی ریکارڈ کی گئی ہے ۔