بھارتی عدالت نے تاریخی مکہ مسجد دھماکا کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا

ْ عدالتی کمرے کے باہر موجود متاثرہ خاندان کے افراد نے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا

پیر اپریل 15:12

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) بھارت کے شہر حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکا کیس کے تمام ملزمان کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق حیدرآباد کی خصوصی عدالت نے مئی 2007 میں نماز جمعہ کے دوران مکہ مسجد دھماکا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد تمام 10 ملزمان کو بری کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

(جاری ہے)

دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 58 زخمی ہوئے تھے، جب کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور عدم شواہد پر انہیں رہا کیا جارہا ہے۔

مسجد دھماکا کیس میں ہندو انتہا پسند تنظیم کے رہنما سوامی آسیمانند نبا کمار سرکار، دودنرا گپتا، لوکیش شرما، بھارت موہن لعل رتیشور اور رجندر چوہدری نامزد تھے۔عدالتی فیصلے کے بعد ملزمان کو رہا کردیا گیا جب کہ عدالتی کمرے کے باہر موجود متاثرہ خاندان کے افراد نے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔رحمت علی نامی شخص نے سوال کیا کہ ان کے بھائیوں کو کس نے قتل کیا اور کیا انہیں کبھی سچ بتایا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :