قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس

پیر اپریل 18:11

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت پیر کو کراچی پورٹ ٹرسٹ بلڈنگ (کے پی ٹی) میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو، مہر اشتیاق احمد، سیما محی الدین جمیل، شاہین شفیق، رومینہ خورشید عالم، خلیل گرگی، لال چند ملہی اور کنور نوید جمیل، سیکریٹری میری ٹائم افیئر سید ممتاز شاہ، چیئرمین کے پی ٹی ایئر ایڈمرل جمیل اختر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں گذشتہ ماہ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں پیش آنے والے بحری جہاز کے حادثے، کے پی ٹی کی زمینوں پر قائم تجاوزات اور حکومت سندھ سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی سید غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ پر ہونے والے بحری جہاز کے حادثے کی مکمل انکوائری کرائی جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی ایک قومی ادارہ ہے اور اس کی زمینوں پر ہونے والی غیر قانونی تجاوزات کا مکمل خاتمہ کیا جائے، اس کے لئے پولیس، رینجرز کی مدد درکار ہو تو لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ کے پی ٹی کی اراضی سے متعلق تنازعات کے حل کے لئے مکمل بریفنگ تیار کی جائے اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کر کے ان کا حل نکالا جائے۔

اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل جمیل اختر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 19 مارچ 2018ء کو کراچی پورٹ ٹرسٹ پر پیش آنے والا حادثہ بحری جہاز کے پائیلٹ کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ ایک انسانی غلطی ہے، اس سے پورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، اس پر ابھی انکوائری چل رہی ہے اور جو بھی ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حادثہ اتنا بڑا نہیں تھا اور نہ ہی کے پی ٹی کا اس میں کوئی بڑا نقصان ہوا ہے لیکن میڈیا رپورٹ میں اس حادثے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کے پی ٹی کی زمینوں پر ہونے والی تجاوزات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کے پی ٹی کے پاس 19 ہزار ایکڑ زمین ہے لیکن 7 ہزار 80 ایکڑ زمین پر 9 کچی آبادیاں قائم ہو چکی ہیں جبکہ کے پی ٹی نے 205 پلاٹ لیز پر دیئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2001ء میں ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کے لئے وزارت نے کوشش کی تھی لیکن سندھ حکومت نے عدالت میں کیس کر دیا تھا جس کا فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ کو درست انداز میں بریفنگ دی جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی تجاوزات کے خاتمے کے لئے آپریشن کر رہی ہے جس کے لئے ہمیں پولیس اور رینجرز کی مدد درکار ہو گی۔

متعلقہ عنوان :