فیصل آباد‘ نکاح رجسٹراران کے تربیتی پروگرام کے سلسلے میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

پیر اپریل 19:02

فیصل آباد۔16 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین اور محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے نکاح رجسٹراران کی تربیت کے پروگرام کے تحت فیصل آباد ڈویژن کے ماسٹر ٹرینرز کی دو روزہ تربیتی ورکشاپ مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نجمہ افضل اس موقع پر مہمان خصوصی تھیں جبکہ پراجیکٹ مینجر پنجاب کمشن برائے حقوق خواتین شاہد اقبال ‘ ڈویژنل ممبر شازیہ جارج ‘ ڈویژنل کوآرڈینیٹر اختر عباس لک کے علاوہ ڈویژن بھر کے ماسٹر ٹرینرز بھی موجود تھے ، ایم پی اے ڈاکٹر نجمہ افضل نے تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین اور لوکل گورنمنٹ وکمیونٹی ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے نکاح رجسٹراران کی ٹریننگ کو خوش آئند اقدام قرار دیا اور کہا کہ نکاح نامہ صنفی مساوات کو یقینی بنانے میں اہم کردار اداکر سکتا ہے لہذا قوانین اور حقوق کی رو سے اسے کار آمد بنانے کی اشد ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ نکاح رجسٹرار کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق سلب نہ ہونے دیں اور خصوصا عورت کے حقوق کی پاسداری میں اپنی ذمہ داری پوری کرے اور یہی اس پروگرام کی بنیادی روح ہے ، پراجیکٹ مینجر نے کہا کہ پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین ایک خود مختار ادارہ ہے جو 2014 میں حقوق خواتین ایکٹ کے تحت قائم ہوا جس کا مقصد قوانین و پالیسیوں کا جائزہ لے کر عورتوں سے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لئے سفارشات مرتب کرنا ہے ، انہوں نے بتایا کہ کمیشن باقاعدہ پراجیکٹس کے ذریعے متعلقہ اداروں کے عملہ کی استعداد کار کیلئے بھی کام کر رہا ہے جس میں نکاح رجسٹرارز بشمول یونین کونسل سیکرٹریز کی ٹریننگ کا پراجیکٹ بھی شامل ہے ، انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت 39 ہزار سے زائد نکاح رجسٹرار اور 8000 سے زائد یونین کونسلز کے چیئرمین / سیکرٹریز کی معلومات میں اضافہ ہو گا اور وہ عورتوں کے حقوق کی پاسداری و تحفظ میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے ، انہوں نے کہ کہ اس ٹریننگ پروگرام سے لوکل گورنمنٹ کے اہلکار کی استعداد میں اضافہ ہو گا ، ڈویژنل ممبر کمشن شازیہ جارج نے بتایا کہ ماسٹر ٹرینرز چاروں اضلاع کے چھ ہزار سے زائد نکاح رجسٹرار ‘ یونین کونسل کے چیئرمین اور سیکرٹریز کو خواتین کے حقوق اور نئے قوانین جن میں صنفی رسومات سے تحفظ کا قانون ‘ عورتوں کو وارثتی جائیداد سے محروم کرنے کی ممانعت ‘ عورتوں کو تشدد سے بچائو کا قانون اور نکاح نامہ کو صحیح پُر کرنے اور اسکی رجسٹریشن سے متعلق معلومات فراہم کی جائے گی، ڈویژنل کوآرڈینیٹر اختر عباس لک نے بتایا کہ کمشن نے تربیتی مراکز کے معائنے کے لئے ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو روزانہ کی بنیادوں پر تربیتی نشستوں کی مانیٹرنگ اور رپورٹس مرتب کریگی، انہوں نے بتایا کہ ٹریننگ کے آغاز اور اختتام پر ٹیسٹ بھی ہونگے تاکہ شرکاء کی نکاح کی شرائط ‘ نکاح نامہ کو پُر کرنے اور متعلقہ قوانین و حقوق کے حوالے سے معلومات کو جانچا جا سکے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ٹریننگ کے شرکاء کو نکاح نامہ کو قوانین کے مطابق پُر کرنے کی بھی مشق کرائے جائیگی اور معاون کتابچہ بھی تقسیم کیا جائے گا ۔ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے ۔