کو ئٹہ ،جمعیت علماء اسلام نظریاتیکاجسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعات کی مذمت

منگل اپریل 00:00

کو ئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی نائب و بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی ‘ مرکزی سیکرٹری اطلاعات حاجی سید عبدالستار شاہ چشتی ‘ نجم خان ایڈووکیٹ ‘ زبیر انجم ‘ عبدالغفار خان سالار نے سپریم کورٹ کے جج کے گھر پر فائرنگ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ عدلیہ پر دبائو بڑھانے اور اپنے من پسند فیصلوں کی خاطر قسم قسم کے صوبے استعمال کرتے آرہے ہیں اور جس کے خلاف فیصلے آتے ہیں وہ فرمانوں کے راک لگاتے اور ان ان کے دوسرے مخالفین واہ واہ کرتے ہیں جب آج عدلیہ کے فیصلوں کی حمایت کرنے والے کل جب ان کے منشاء کے خلاف فیصلے آتے تب وہ بھی یہی صوبے استعمال کرتے ہیں جو باعث افسوس ہے انہوں نے کہا کہ خدارا اداروں کو تنازعہ بنانے کی سازشیں ترک کی جائیں اور جن ممالک میں عدلیہ آزاد ہوتی ہے اور فیصلے بھی انصاف کے تحت ملتے ہیں تو ان ممالک کے عوام بھی خوش اور تمام محکمے ارادے بھی اپنی قانونی آئینی حدود میں رہتے ہیں جن ممالک میں عدلیہ کو یرغمال اور فیصلے اپنے پسند کے حصول کے لئے عدلیہ پر دبائو ڈالا جاتا ہے ان ہی ممالک میں حالات بھی خڑاب اور لوٹ مار کرپشن کا دور دورہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی ادوار حکومت میں وقت کے امیرالمومنین کو بھی قاضی عدالت میں طلب کرتے اور مدعی مدعالیہ دونوں ہی کے ساتھ ایک روز ایک ہی کہڑے میں کھڑے ہوتے تھے لیکن اب حالات ان کے برعکس ہیں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور عدلیہ پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں اور اب جج کے گھر پر فائرنگ کے واقعات ہی ان سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے گھروں پر فائرنگ ملکی سلامتی پر حملے اور عدلیہ کو دبانے اور انصاف کے فیصلے کو رکوانے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز کے گھر پر فائرنگ کی خدمت اور ان واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطلابہ کرتی ہے جمعیت (نظریاتی ) پاکستان کے تمام کرپٹ سیاستدانوں کے اثاثہ جات کی تحقیق اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی چاہتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :