ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا معاملہ :اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت ہاوسنگ کے 28مارچ کے نوٹیفکیشن کو معطل کردیا

منگل اپریل 20:48

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کے معاملے پر وزارت ہاوسنگ کے 28مارچ کے نوٹیفکیشن کو معطل کردیا اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک رہائش گاہ واپس نہیں لی جاسکتی اور وزیر ہاؤسنگ اور سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے بعدازاں عدالتی حکم پر وزیر ہاؤسنگ سیکرٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو توہین عدالت کے نوٹیسز جاری کردیئے گئے تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے 33ججز کی درخواست پر سماعت کی فاضل جج نے جب سماعت شروع کی تو سیشن جج کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی ضلعی عدالتوں اور اسپیشل کورٹ کے ججز کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت بے گھر کیا جارہا ہے سرکاری رہائش قانون کے مطابق ملی جس کا کرایہ بھی ادا کیا جارہا ہے لیکن وفاقی حکومت اوچھے ہتکھنڈوں پر اترآئی ہے دوران سماعت فاضل جج کے ریمارکس دیئے وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے کچھ لو کچھ دو کے تحت گھر فراہم کیا جاتا ہے ججز جب کچھ نہیں دیتے سرکاری گھر سے بے دخل کریں گے جب تک فیصلہ نہیں ہوتا حکومتی نوٹیفکیشن معطل رہے گا بعدازاں عدالت نے وزیر ہاؤسنگ اور سیکرٹری ہاؤسنگ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر اسٹیٹ آفیسر کو ذاتی حثیت میں طلب کرلیا جس کے بعد سماعت دو ہفتوں تک کیلئے ملتوی کردی گئی