پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے زیر التوا مقدمات بارے بریفنگ دی

بدھ اپریل 16:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سینیٹر شیری رحمن، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، شیخ روحیل اصغر ، نذیر سلطان ، سید نوید قمر سمیت دیگر ارکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔

اجلاس میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان کیمرہ اجلاس میں نیب میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے چیئرمین نیب کی پی اے سی کو دی گئی بریفنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ چیئرمین نیب نے عندیہ دیا ہے کہ کوئی انتقامی کاروائی کسی کے خلاف نہیں ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ڈوریاںکسی اور جگہ سے ہلائی گئی تو بریف کیس اٹھا کر چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نیب کے طریقہ کار بارے پی اے سی میں سوالات کئے گئے ہیں۔ پی اے سی نیب کو ایک مرتبہ پھر بھی بریفنگ کے لئے بلا سکتی ہے کیونکہ پی اے سی کا اپنا مینڈیٹ ہے اور ہم اس تک محدود رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے پی اے سی کوبتایاکہ 226 لوگوںکو پکڑا گیا ہے اور 800 سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ریکوری نیب کی ریکوریوں سے بہت زیادہ ہے ۔ چیئرمین نیب نے بتایاکہ نیب نے اب تک 1500ملین کی ریکوریاں کی ہیں جبکہ پی اے سی اب تک 320ارب روپے کی ریکوریاں کرچکی ہے۔