روس اورجیش الاسلام کے مذاکرات کے باوجود اسدرجیم کا دوما پرکیمیائی حملہ

حملے سے نہ صرف روس اورجیش الاسلام کے مذاکرات کھٹائی میںپڑگئے بلکہ علویوں کی رہائی بھی ممکن نہ ہوسکی،امریکی میڈیا

جمعرات اپریل 11:44

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ دوما میں کیمیائی حملوں سے قبل روس اور جیش الاسلام کے درمیان مذاکرات کی بعض تفصیلات سامنے آ چکی تھیں۔ علوی قبیلے کے خاندان جیش الاسلام کے ہاتھوں اپنے گرفتار افراد کی رہائی کے منتظر تھے مگر اچانک بشار الاسد کی فوج نے دوما پر کیمیائی حملہ کر کے نہ صرف جنگجو گروپ اور روسی فوج کے درمیان جاری مذاکرات کو ختم کر دیا بلکہ علویوں کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق علویوں نے دیکھا کہ جیش الاسلام کے جنگجو واپس اپنے بنکروں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور ان کے ہاں گرفتار علویوں میں کوئی بھی رہا نہیں ہوا ہے تو اس پر علویوں کو سخت تشویش ہوئی۔ اس حملے نے روس اور جیش الاسلام کے درمیان جاری مذاکرات ختم کر دیے۔

(جاری ہے)

اس وقت بشار الاسد نے دوما میں کیمیائی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔کیمیائی حملہ اسد رجیم کی طرف سے دوما کی آبادی کے لیے ایک وارننگ تھی کہ اگر جیش الاسلام نے علوی قبیلے کے گرفتار افراد کو رہا نہ کیا تو دوما میں کسی شخص کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔

اپوزیشن کے حامی جنگجو گروپ کو دباؤ میں لانے کا اس سے بہتر اور کوئی حربہ نہیں ہوسکتا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوما میں جیش الاسلام نے علوی قبیلے کے 200 یرغمالیوں کو رہا کیا جب کہ اس نے 7500 افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ مگر یرغمالیوں کی تعداد میں اضافہ محض بلیک میلنگ اور دباؤ میں لانے کا ہتھکنڈہ تھا۔