اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس ،ْ

نامزدملزمان کے خلاف بیان ریکارڈ کرنیکی کارروائی موخر ملزم سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب ایڈووکیٹ بیمار اور ہسپتال میں داخل ہیں ،ْمعاون وکیل کا بیان

جمعرات اپریل 14:35

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس ،ْ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران 3 نامزد ملزمان کے خلاف استغاثہ کے گواہان کے بیان ریکارڈ کرنے کی کارروائی موخر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے 26 فروری 2018 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کو بطور شریک ملزمان نامزد کیا گیا تھا۔

عدالت نے 5 اپریل کو ملزمان پر فردجرم عائد ہونے کے بعد استغاثہ کے گواہوں کو طلب کر رکھا تھا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جمعرات کو اسحاق ڈار کے خلاف ضمنی ریفرنس پر سماعت کی۔۔سماعت کے دوران عدالت کو معاون وکیل کی طرف سے بتایا گیا کہ ملزم سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب ایڈووکیٹ بیمار اور ہسپتال میں داخل ہیں، لہذا کارروائی موخر کرتے ہوئے گواہوں کے بیانات آئندہ سماعت پر ریکارڈ کیے جائیں۔

(جاری ہے)

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کیا حشمت حبیب پہلے سے شوگر کے مریض ہیں معاون وکیل نے بتایا کہ حشمت حبیب ایڈووکیٹ کو شوگر کا مسئلہ ہے جو اب بڑھ کر پانچ سو سے زائد ہوگئی ہے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔۔اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیںتاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا ،ْسابق وزیر خزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

بعدازاں رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔5 مارچ کو احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی۔