نائن الیون حملہ آوروں کا شامی نژاد جرمن معاون شام سے گرفتار

امریکہ کا زمار کی گرفتاری کی خبروں کی تصدیق سے انکار، اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے،پینٹا گان

جمعرات اپریل 15:07

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) امریکا میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ سازوں کا مبینہ معاون ایک شامی نڑاد جرمن جہادی گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق شامی حکومتی دستوں کے خلاف سرگرم کرد فورسز کے ایک کمانڈرنے بتایا کہ اسے شمالی شام سے گرفتار کیا گیا۔ کمانڈر نے بتایا کہ اس جرمن عسکریت پسند کا نام محمد حیدر زمار ہے اور وہ ان دہشت گردوں کا معتمد ساتھی تھا جو 2001ء میں گیارہ ستمبر کے روز امریکا میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ ساز تھے۔

کرد فورسز کے ایک سینئر کمانڈر نے بتایاکہ زمار کو کرد سکیورٹی فورسز نے شمالی شام سے گرفتار کیا اور اس وقت اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ محمد حیدر زمار کی عمر اس وقت 55 برس کے قریب ہے اور اس پر یہ الزام بھی ہے کہ امریکا میں نیو یارک سمیت متعدد مقامات پر کیے گئے نائن الیون حملوں کے لیے استعمال ہونے والے مسافر طیاروں کے ہائی جیکروں میں سے چند کو اسی نے بھرتی کیا تھا۔

(جاری ہے)

شامی کرد ملیشیا کے ایک کمانڈر نے گفتگو میں زمار کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ آیا حیدر زمار شامی تنازعے میں کسی شدت پسند گروپ کے رکن کے طور پر سرگرمی سے عسکری کارروائیوں میں حصہ لیتا رہا تھا۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق وہ شمالی شام سے زمار کی گرفتاری کی خبروں کی تصدیق تو نہیں کر سکتا تاہم اس سلسلے میں ملنے والی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔