قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے سپریم کو رٹ کے ججوں کے تعداد میں اضافے کا بل پاس کر لیا

ججز کی تعداد بڑھانے سے مسائل پیدا ہوں گے ،ْسسٹم کو نیچے سے ٹھیک کریں ،ْعلی محمد خان کی مخالفت کمیٹی نے ہر صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوار ٹر میں عدالت عالیہ کے بینچز کی تشکیل سے متعلق بل مسترد کر دیا

جمعرات اپریل 22:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے سپریم کو رٹ کے ججوں کے تعداد میں اضافے کا بل پاس کر لیاہے جس کے تحت سپریم کو رٹ کے ججوں کی تعداد میں دوججوں کااضافہ کیا جائے گا ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چوہدری محمد اشرف کی صدارت میں ہوا ، اجلاس میں سپریم کو ر ٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق بل پر غور کیا گیا ، بل کی محرک رکن اسمبلی ثریا اصغر نے کہا کہ سپریم کو رٹ میں اتنے مقدمات پڑے ہوئے ہیں کوئی مر جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے مقدمے کا فیصلہ آتا ہے اور کسی کا 20اور 40سال بعد فیصلہ آتا ہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا جائیگا جس پر وزارت قانو ن کے حکام نے کہا کہ ہمیں گزشتہ اجلاس کے منٹس نہیں ملے اس لئے چیف جسٹس کو خط نہیں لکھا جاسکا ،آپ خود اس بل کا فیصلہ کریں ۔

(جاری ہے)

رکن کمیٹی علی محمد خان نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ججز کی تعداد بڑھانے سے مسائل پیدا ہوں گے ،ْسسٹم کو نیچے سے ٹھیک کریں ، سول کورٹس اور کریمنل کورٹس کے سسٹم پر نظر ڈالیں ، علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں سرے سے اپنے قانون بنانے ہوں گے ،ْہمیں انگریز کے قانو ن کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر رکن کمیٹی ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ1997میں ججز کی تعداد 17رکھی گئی تھی جس کو اکیس سال ہو گئے ہیں حالات کو دیکھتے ہوئے ججز کی تعداد بڑھائی جائے ، رکن کمیٹی عارف علوی نے کہا کہ سسٹم کو ٹھیک کر نا ہو گا۔

ثریا اصغر نے کہا کہ تقریر کرنا بڑا آسان ہے تاہم سسٹم کو ہم نے ہی ٹھیک کر نا ہے ، وزارت قانون نے حکام نے کہا کہ ہم بھی تعداد میں اضافے کے حق میں نہیں تنخواہوں اور پنشن کو خرچہ بڑھ جائیگا ،ْ رکن کمیٹی معین وٹو نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج پر ماہانہ کتنا خرچہ آتا ہے جس پر وزارت قانون حکام نے کہا کہ تقریبا 2ملین تک خرچہ آتا ہے ، رکن کمیٹی مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ انسداد کرپشن کے جتنے بھی ادارے ہیں ان سے کرپشن بڑھی ہے ، ٹیکسوں کا بوجھ نہ بڑھایا جائے ، عارف علوی، عائشہ سید اور مولانا محمد خان شیرانی نے ججز کی تعداد بڑھانے کے بل کی مخالفت کی تاہم 5ارکان نے ججز کی تعداد میں 2ججز کے اضافہ کر نے کی حمایت کی جس پر کمیٹی نے بل پا س کر لیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سوموٹو پاور کا بھی کوئی فیصلہ کر نا پڑیگا ،اجلا س میں رکن اسمبلی ثریا اصغر کے ہر صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوار ٹر میں عدالت عالیہ کے بینچز کی تشکیل سے متعلق بل پر بھی غور کیا گیا تاہم کمیٹی نے بل کو مستر د کر دیا ، اجلا س میں وزارت قانون کی طرف سے فاٹا کے انضمام کی صورت میں خیبر پختونخو اسمبلی میں ؤنشستوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق بل بھی پیش کی گیا ، وزارت قانون حکام نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں 18جنرل نشستوں 4خواتین کی نشستوں اور اقلیتوں کے لئے ایک نشست کا اضافہ کیا جائے گا ، کمیٹی ارکان نے کہا کہ پہلے فاٹا کا انضمام ہو جائے پھر اس عمل کو شروع ہونا چاہیے، ، وزارت قانون حکام نے کہا کہ فاٹا کے انضمام پر کافی کام ہو چکاہے باقی چیزیں سیفران ڈویژن دیکھ رہا ہے کمیٹی ارکان کے تحفظات کے بعد یہ بل اگلے اجلاس تک کیلئے موخر کر دیا گیا ۔