2017-18 ء کے دوران بھارت کی ایران سے خام تیل کی درآمد میں 15.7 فیصد کمی

اتوار اپریل 13:10

نئی دہلی ۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) بھارت کی مالی سال 2017-18 ء کے دوران ایران سے خام تیل کی درآمد میں 15.7 فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ ایرانی حکومت کی جانب سے ’’ فرزاد بی‘‘ گیس فیلڈز کے ترقیاتی حقوق دیگر ملکوں کی کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ شپمنٹ اینڈ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بھارت نے 4.46 ملین بیرل خام تیل یومیہ درآمد کیا جس میں سے ایران کا حصہ 4 لاکھ 58 بیرل یومیہ رہا جس کی وجہ ملک میں آئل ریفائنریوں کی بڑھتی تعداد کے باعث طلب میں اضافہ ہے تاہم یہ مقدار مالی سال 2016-17 ء کی نسبت کم رہی۔

2016-17 ء کے دوران 5 لاکھ 43 ہزار بیرل یومیہ سے زیادہ خام تیل ایران سے درآمد کیا گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ایرانی حکام کی جانب سے فرزاد بی گیس فیلڈز کے ترقیاتی حقوق دیگر ملکوں کی کمپنیوں کو دینے کے بعد بھارتی حکام نے ملکی آئل ریفائنریز کو ہدایت کی کہ ایران سے خام تیل کی درآمد میں کمی لائی جائے۔ ادھر ایرانی حکام کو توقع ہے کہ رواں مالی سال (2018-19 ئ) کے دوران بھارت کو ایرانی خام تیل کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ عنوان :